​پھول جیسے بچپن پر ظلم: بچوں سے مشقت اور بھیک منگوانے کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔​تحریر: بشیر حسین آزاد

Print Friendly, PDF & Email

​ہر سال 12 جون کو دنیا بھر میں بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد بچوں کے حقوق کے تحفظ، ان کی تعلیم و تربیت اور انہیں استحصال سے بچانے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی لاکھوں بچے ایسے ہیں جن کا بچپن تعلیم، کھیل کود اور خوشیوں کے بجائے مشقت، محرومی اور استحصال کی نذر ہو رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن کا ایک بڑا حصہ چائلڈ لیبر کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔
​بچوں سے مشقت لینا صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی المیہ ہے۔ معاشرے میں جہاں ایک طرف بدترین مہنگائی، بے روزگاری اور غربت مجبور والدین کو اپنے جگر گوشوں کے منہ سے نوالہ چھین کر انہیں کام پر بھیجنے پر مجبور کرتی ہے، وہاں ایسے عناصر اور رشتہ دار بھی موجود ہیں جو بچوں کو باقاعدہ کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ وہ ننھے منے بچوں کو بازاروں، ہوٹلوں، ورکشاپس اور دیگر مقامات پر مزدوری پر لگا دیتے ہیں جبکہ خود ان کی کمائی پر عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ بچوں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
​صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح چترال میں بھی حالیہ برسوں کے دوران بچوں، خصوصاً کم سن بچیوں سے بھیک منگوانے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔ بازاروں، مساجد اور عوامی مقامات پر معصوم بچیوں اور بچوں کو ہاتھ پھیلائے دیکھنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ ان بچوں کی اکثریت ایسے منظم عناصر یا پیشہ ور گروہوں کے زیر اثر ہوتی ہے جو انہیں بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں اور بعد میں ان سے حاصل ہونے والی رقم خود وصول کرتے ہیں۔
​یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ جن بچیوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں، انہیں بازاروں اور سڑکوں پر مشقت کرتے یا بھیک مانگتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کم عمر بچوں کو ہوٹلوں، ورکشاپس اور دیگر کاروباری مراکز میں معمولی اجرت پر کام کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ یہ بچے نہ صرف تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی استحصال کا بھی شکار ہوتے ہیں۔
​اس صورتحال میں متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے “چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ” جیسے قوانین موجود ہیں اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس بھی قائم ہیں، لیکن عملی طور پر بچوں کے استحصال اور بھیک منگوانے کے اس مکروہ دھندے کی روک تھام میں کوئی خاطر خواہ کامیابی دکھائی نہیں دیتی۔ قانون کی موجودگی کے باوجود اس کا نفاذ نہ ہونا انتہائی لمحہ فکریہ ہے، جس کے نتیجے میں یہ رجحان دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔
​ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن ادارے اور سماجی تنظیمیں مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ ایسے بچوں کی نشاندہی کی جائے، ان کے خاندانی حالات کا جائزہ لیا جائے (تاکہ مستحق خاندانوں کی حکومتی سطح پر مالی معاونت ہو سکے) اور ان مافیاز یا افراد کے خلاف چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جو بچوں کو مشقت یا بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلائیں تاکہ دوسروں کے لیے بھی عبرت کا سامان پیدا ہو۔
​اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے استحصال کے خلاف آواز بلند کرے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب اور فلاحی معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو مزدور اور بھکاری نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، باوقار اور باصلاحیت شہری بنانا ہوگا۔
​بچوں کا بچپن ان کا حق ہے، اور اس حق کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔