دھڑکنوں کی زبان۔۔محمد جاوید حیات۔۔”اس قوم کو تعلیم کی نہیں، تربیت کی ضرورت ہے

Print Friendly, PDF & Email

۔”

اسلام نے بڑے چھوٹے اور آقا و غلام کے تصور کو انسان اور انسانیت کے دائرے میں لا کر انسانی معاشرے کو اقدار، انصاف، بھائی چارے، ایثار و قربانی اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر استوار کر کے مضبوط بنایا تھا۔ اس دور میں معاشرے کا ہر فرد محفوظ تھا؛ اسے نہ ناانصافی کا ڈر تھا، نہ محرومی کا احساس ستاتا تھا اور نہ ہی کسی قسم کی غلامی کا اندیشہ تھا۔ ہر ایک کو اپنے مقام، فرائض اور ذمہ داریوں کا پورا ادراک تھا، اور وہ اپنی کوتاہیوں کے لیے کسی فرد کے سامنے نہیں بلکہ قانون کے سامنے جوابدہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلم امہ نے دنیا پر حکمرانی کا ایک بے مثال دور دیکھا، جو آج تک دنیا کے لیے ایک معیار ہے۔

آج اگر انصاف کی عینک لگا کر دیکھا جائے تو مسلم قوم اور ان کے بعد بھی دنیا پر حکمرانی کرنے والی قوموں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہ سب اعلیٰ درجے کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کی یہی اعلیٰ تربیت انہیں منتشر ہونے نہیں دیتی تھی۔ برصغیر میں جب انگریزوں کی آمد ہوئی، تو اس کی بڑی وجہ بھی مسلم قوم کی بے ترتیبی اور انتشار تھا؛ اگر مسلمانوں کی شیرازہ بندی مضبوط ہوتی اور ان کے حکمران اپنے اصولوں پر کاربند ہوتے، تو غیروں کو یہ موقع ہی نہ ملتا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلم قوم جتنا آپس میں لڑی ہے، کفار کے خلاف کبھی اتنا نہیں لڑی۔ یہ سب محض تربیت کے فقدان کا نتیجہ تھا۔

ایک دور میں برطانوی پارلیمنٹ نے کچھ دانشوروں کو ہندوستان اس لیے بھیجا تھا کہ وہ جا کر مسلم حکمرانوں کی عادات، تربیت اور روزمرہ زندگی کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے واپس جا کر رپورٹ پیش کی کہ:

“یہ حکمران سوتے بے وقت ہیں اور اٹھتے بے وقت ہیں۔ جاگنے کے وقت سوتے ہیں اور سونے کے وقت جاگتے ہیں۔ صبح گیارہ بجے اٹھتے ہیں اور بارہ بجے ناشتے کی میز پر آتے ہیں۔ ناشتے سے فارغ ہو کر بٹیر اور مرغے لڑاتے ہیں یا شطرنج کھیلتے ہیں۔ تن آسانی آخری حدوں کو چھو رہی ہے، ناز نخرے دیدنی ہیں اور لاپرواہی ان کا کلچر بن چکی ہے۔ یہ دن کو خواب دیکھتے ہیں، اپنے آبا و اجداد اور خاندان کے گن گاتے ہیں۔ ان کے پاس برائے نام تعلیم ہے مگر یہ ہنر سے خالی ہیں۔ کارِ جہانگیری چھوڑ چکے ہیں اور کارِ جہانبانی ان کے بس کی بات نہیں رہی۔”

انگریزوں نے فیصلہ کیا کہ ایسی بے ترتیب قوم کو فتح کرنا دائیں ہاتھ کا کھیل ہے، ان سے لڑنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی، ان کی اپنی بے ترتیبی ہی انہیں لے ڈوبے گی۔ اور پھر چشمِ فلک نے واقعی ہمیں ڈوبتے دیکھا۔

بعد ازاں، ہمیں آزادی کی نعمت بھی چند تربیت یافتہ لیڈروں کی سخت کوشی اور سخت جانی کی بدولت ملی۔ قائدِ اعظم اور ان کے رفقاء بااصول، باکردار اور تربیت یافتہ تھے۔ اس آزادی کی نعمت کی حفاظت کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے بھی ہمارا تربیت یافتہ ہونا ناگزیر تھا، مگر افسوس کہ ہم تربیت سے عاری ہی رہے۔ ہماری ماں کی گود، جو کبھی پہلی درسگاہ اور تربیت گاہ ہوا کرتی تھی، آج تربیت سے خالی ہے۔ باپ کے ہاتھ میں جو تربیت کا ڈنڈا ہوا کرتا تھا، آج وہ بھی غائب ہے۔ ہمارے گھر، جو تربیت گاہ کا نمونہ تھے، آج اکھاڑہ بن چکے ہیں۔ گھروں کے اندر ایک بے ہنگم شور اور چیخ و پکار ہے؛ بے ترتیبی یہیں سے جنم لیتی ہے۔

آج ماں کو بچے کی تعلیم کی فکر تو ہے، مگر تربیت کی نہیں۔ نشست و برخواست، اندازِ گفتار، بڑوں کا احترام، جھوٹ، گالی گلوچ اور بدتمیزی— بچے کی کوئی حرکت بھی شائستہ انسانوں جیسی نہیں ہوتی، مگر ماں باپ کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ انہیں بس بچوں کے کھلونوں اور نخروں کی پرواہ ہے۔ بچوں کے سامنے دوسروں کو برا بھلا کہنا، ان کی تحقیر کرنا، دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنا، کپڑوں اور عیاشی کے سامان میں مقابلہ بازی کرنا اور اپنی دولت و بڑائی کا مظاہرہ کرنا— یہ سب کچھ بچوں کے سامنے سرِعام ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں بچہ کیا تربیت حاصل کرے گا؟ وہ تمام غیر انسانی افعال لاشعوری طور پر سیکھ جاتا ہے۔ وہ آگے جا کر اعلیٰ تعلیم تو ضرور حاصل کر لیتا ہے، مگر تربیت سے ہمیشہ عاری رہتا ہے۔

سی ایس ایس (CSS) کرنے والے بچے کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ غرور اور تکبر شخصیت کا حصہ ہے؟

وکالت کی کس کتاب میں ذکر ہے کہ دھوکہ دہی اور جھوٹ بہترین وکالت ہے؟

ڈاکٹری کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ مریض کی پرواہ نہ کرنا ڈاکٹر کی مرضی پر منحصر ہے؟

کسی جنرل کو ہٹ دھرم کس تعلیم نے بنایا ہے؟ حالانکہ وہ قوم کا محافظ ہے اور قوم کا پل پل اس کی امانت ہے۔ اس کی آنکھوں میں جو ‘صفتِ شاہینی’ ہونی چاہیے، وہ قوم کی پہچان ہے۔

پولیس کے کس قانون میں لکھا ہے کہ ایف آئی آر لکھتے ہوئے اس کا قلم (رشوت یا دباؤ کی وجہ سے) لڑکھڑا جائے؟

معلمی کی کس کتاب میں کام چوری لکھی ہے؟ کہیں بھی نہیں!

یہ ہٹ دھرمی، یہ ناانصافیاں، یہ ظلم و زیادتی، یہ غفلت اور کام چوری دراصل تعلیم کی نہیں، بلکہ تربیت کی کمزوریاں ہیں۔ اسکول میں کلاس فور (خادم) اگر وقت پر گھنٹی نہیں بجائے گا، تو یا تو اسے بار بار بتانا پڑے گا یا اس سے لڑنا پڑے گا؛ یہاں اس کی کوئی ڈگری نہیں بلکہ اس کی فرض شناسی کام آئے گی۔ ڈرائیور کو ڈرائیونگ کے اصول سمجھانے کے لیے کسی ڈگری کی نہیں، بلکہ تربیت اور شعور کی ضرورت ہے۔ افسر شاہی کی رعونت، تکبر اور کرپشن میں تعلیم کا کوئی عمل دخل نہیں، وہاں تربیت اور کردار کی ضرورت ہے۔ جج کو انصاف کرنے کے لیے ڈگری سے زیادہ کردار اور تربیت کی ضرورت ہے۔ عورت کو گھر گرہستی سنبھالنے کے لیے ڈگری کی نہیں، سلیقے اور تربیت کی ضرورت ہے۔ ایک ذمہ دار شوہر کے لیے ڈگری کی نہیں، احساسِ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ الغرض! جہاں بھی اور جس طرح کی بھی بے ترتیبی ہے، وہاں تعلیم سے زیادہ تربیت اور نظم و ضبط (ڈسپلن) کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسلام کی بنیاد ان بنیادی باتوں پر ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ ہے، انسان دنیا میں اس کا نائب ہے، اور خدائی قانون (ڈیوائن لاء) سراسر انصاف پر مبنی ہے۔ اس لیے کسی بھی قوم کو منظم اور طاقتور بنانے کے لیے ڈسپلن کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری قوم اس لحاظ سے بدقسمتی کا شکار ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود سب سے زیادہ قانون کو پامال کرتے ہیں۔ کوئی بھی صاحبِ اختیار اپنی ذمہ داری کو اہمیت دینے کے بجائے دوسروں پر تنقید کر رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف انگشت نمائی کرتا ہے؛ اپنے گریبان میں کوئی نہیں جھانکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فرد ناکام ہے اور آگے چل کر پورا ادارہ ناکام ہو جاتا ہے۔

قوم کی تربیت کے لیے یا تو اس کے افراد کو اخلاقی اقدار سیکھنا ہوتی ہیں، یا پھر قانون کو اپنی پوری مضبوطی اور رعنائی کے ساتھ نافذ ہونا پڑتا ہے۔ قانون کی سختی بھی قوم کو منظم بنانے میں انتہائی کارگر ثابت ہوتی ہے۔ اگر قانون میں جھول (کمزوری) ہو، تو معاشرہ ایک بے ربط اجتماع بن کر رہ جاتا ہے، اور پھر ایسی قوم کو منتشر ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔