وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اسلام آباد میں ایک مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کا یہ عزم ایک بار پھر دہرایا ہے کہ 4 صوبوں اور دو ایوانی مقننہ پر مشتمل وفاقی حکومت کا ڈھانچہ مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوا ہے۔ اس لیے مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے ہمیں نئے انتظامی اور آئینی ڈھانچے پر غور کرنا چاہیے جو ہمارے مسائل کا حل ثابت ہو سکے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ 15 صوبوں یا 160 ضلعی حکومتوں والا نیا آئینی ڈھانچہ مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے مختلف ممالک کی مثالیں دیں اور موجودہ آئین کے متعلقہ دفعات کا بھی حوالہ دیا۔حالتِ موجودہ کو برقرار رکھنا انگریزی میں سٹیٹس کو (Status quo) کہلاتا ہے اور سماجی و سیاسی حلقوں میں اس کو پسند نہیں کیا جاتا۔ جو لوگ حالتِ موجودہ کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں ان کو قسم قسم اور رنگ رنگ کے طعنے برداشت کرنے پڑتے ہیں کہ بقول شاعر“ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں”۔
حالتِ موجودہ کی تبدیلی سے ڈرنے والوں کی کمی نہیں اور یہ خوف حکومت پر عوام کے عدمِ اعتماد کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ خوف میں مبتلا ہونے والے کہتے ہیں کہ حکومت میں تبدیلی کے کسی عمل کو سنبھالنے کی صلاحیت نظر نہیں آتی اس لیے کسی بڑی تبدیلی پر مشاورت میں“اعتماد سازی”کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ مثلاً کرکٹ تباہ ہوگئی پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین اپنی جگہ بیٹھا رہا، سرکاری ہسپتال میں محکمہ صحت کی غفلت سے 14 نوزائدہ بچے آگ لگنے سے چل بسے لیکن وزیر صحت کی صحت پر کوئی آنچ نہیں آئی اگر دونوں عہدے منٹوں میں خالی ہو جاتے تو حکومت پر عوام کو اعتماد ہوتا کہ حکومت میں استعداد ہے، اہلیت ہے، ہمت ہے اور جرات بھی ہے۔ جب آئینی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کا ذکر آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ عوام سے رائے لی جائے گی حالانکہ عوام سیرائے لینے کا معروف طریقہ ریفرنڈم کہلاتا ہے جسے 1984 میں شرمناک ڈرامے کے ذریعے عوام کی نظروں سے گرایا گیا۔ بعد میں ریفرنڈم ہوا تو اس کا مذاق اڑایا گیا۔ چنانچہ ریفرنڈم اتنا بدنام ہو چکا ہے کہ کوئی مہذب شہری اس کا نام لینا نہیں چاہتا۔ بعض لوگوں نے رائے دی ہے کہ نئی اسمبلی آئیگی تو نئے آئینی ڈھانچے پر بحث کرے گی اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کے لیے راہ ہموار کرے گی مگر وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ 2018 کے جنرل الیکشن میں جو گھپلے ہوئے پھر 2024 میں جس طرح ان گھپلوں کو دہرایا گیا اس کے بعد الیکشن پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔
الیکشن پر کوئی اعتماد نہیں کرتا اور کسی کو یقین نہیں آتا کہ گھپلے کے بغیر بھی الیکشن ہو سکتا ہے۔ الیکشن میں اونچ نیچ ہو جائے تو متاثرہ فریق ٹربیونل سے رجوع کرتا تھا عدالتی نظام میں اتنی دراڑیں آچکی ہیں کہ ٹربیونل پر کسی کو اعتماد نہیں رہا۔ بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے کے چالیس سال بعد فیصلے کو کالعدم قرار دینا، نسلہ ٹاور اور مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کے بعد عدالتی حکم واپس لینا پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بنا، اب اعتماد سازی کے ذریعے عدالت پر بھی عوام کا اعتماد ایک بار پھر بحال کرنا ہوگا تب کہیں جا کر 26 کروڑ عوام مان لینگے کہ نیا آئینی ڈھانچہ ملک اور قوم کی بہتری کا ضامن ہو سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ 15 صوبوں کی اسمبلیاں بن گئیں اور ہر صوبے میں 80 یا 90 وزراء پر مشتمل کابینہ بن گئی تو ملک کا بیڑہ غرق ہو جائے گا یا 160 ضلعی حکومتیں بننے کی صورت میں ہر ضلعی حکومت کے سربراہ کو قانون سے بالاتر اختیارات دے کر مغل بادشاہوں کا پروٹوکول دیا گیا تو عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا،
قوانین اور قواعد و ضوابط کو ہر حال میں برتری اور فوقیت حاصل ہونی چاہیے، اگرصوبے بنتے ہیں تو اسمبلی اور کابینہ نہیں ہونی چاہیے چین اور امریکہ کی طرح صوبے ہونے چاہئیں۔مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لیے مشاورت کا دائرہ بھی وسیع تر ہونا چاہیے اور مشاورت کے اجزائے ترکیبی میں بھی وسعت ہونی چاہیے اگر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اور سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دانشوروں کے ساتھ با معنی سیشن منعقد ہونے چاہئیں۔
ان اجلاسوں میں نئے آئینی ڈھانچے کے خدوخال یعنی اسمبلی اور کابینہ کے بغیر صوبہ، پروٹوکول اور شان و شوکت کے بغیر ضلعی حکومت کا بلیو پرنٹ سامنے رکھا جائے سرکاری خزانے پر مزید بوجھ ڈالے بغیر عوام کو سہولتیں دینے پر مشاورت کی جائے۔










