نجی تعلیمی اداروں اور مختلف تربیتی ورکشاپس کے علاوہ تقریباً 34 سال اس فقیر کا وقت کلاس روم کے ماحول میں گزرا ہے۔ کلاس روم دراصل ایک الگ ہی دنیا ہے۔ جس طرح انسائی زندگی غم و اندوہ، مسرت و شادمانی، عشرت و عسرت، کامیابی و ناکامی اور قہقہوں و آنسوؤں کا مجموعہ ہے، بالکل اسی طرح کلاس روم بھی ایک پیچیدہ اور متحرک کائنات ہے۔
یہ وہ میدانِ کارزار ہے جہاں بے شمار سپاہی زندگی کی واقعی جنگ لڑنے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں کتنوں کا مستقبل ان کا منتظر ہوتا ہے، وقت پکار رہا ہوتا ہے، محنت دُہائی دے رہی ہوتی ہے، اور سہانے خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے لیے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ اس کمرے کی در و دیوار طلبہ کی کارکردگی اور محنت کی گواہ بنتی ہیں۔ تختہ سیاه (بلیک بورڈ) لفظوں کی سوغات اپنی پیشانی پر سجائے رکھتا ہے، اور کرسیوں پر پھول جیسے بچے کھلے ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے محبت، احترام اور علم کا بے تاج بادشاہ یعنی استاد کھڑا ہوتا ہے، جس کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ ایک امانت اور خواب کی تعبیر ہوتا ہے۔
عبادت گاہ کے بعد یہ دنیا کی پاکیزہ ترین جگہ ہے۔ یہ محض ایک کمرہ نہیں، بلکہ ایک ایسی خواب گاہ ہے جہاں خواب صرف دیکھے ہی نہیں جاتے بلکہ انہیں تعبیر دی جاتی ہے۔ یہ وہ کارخانہ ہے جہاں انسانی روح کی صنعت گری اور تعمیر ہوتی ہے۔ دنیا کا کوئی انسان، خواہ کسی بھی مقام پر پہنچ جائے، اسی کلاس روم سے نکل کر آگے بڑھتا ہے۔ کامیابی کا ہر راستہ یہی سے ہو کر گزرتا ہے۔ صدر مملکت اسی راہ سے ایوانِ صدر پہنچتا ہے، وزیراعظم اسی کے توسط سے وزیراعظم ہاؤس میں قدم رکھتا ہے، جنرل کی آنکھوں میں شاہینی بصیرت اسی جگہ سے بھری جاتی ہے، اور پاسبان کو وطن کی حفاظت کا گر بھی یہی سے سکھایا جاتا ہے۔
یہاں صداقت، امانت اور دیانت کے اسباق ازبر کرائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا کا واحد کمرہ ہے جہاں صرف اچھائیاں پنپتی ہیں، صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں، اور اعلیٰ اوصاف کی تشریح کی جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حب الوطنی، غیرت، محبت، حمیت، خودی اور کردار کی تربیت دی جاتی ہے۔
تقدس ہی اس کمرے کی اصل پہچان ہے۔ یہاں جھوٹ بولنا، کام چوری، غفلت اور وقت ضائع کرنا اس کی شدید توہین ہے۔ شور شرابا اور ہاؤ ہو اس کی بے احترامی ہے۔ بغیر اجازت اس میں داخل ہونا یا باہر نکلنا اس کے آداب کے خلاف ہے۔ اس کی دیواریں، فرش، چھت، کھڑکیاں، روشندان اور جالیاں—سب کی سب مقدس ہیں۔ داخلے کے لیے اجازت کی پابندی اس قدر سخت ہے کہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں ملک کا صدر بھی اس میں قدم نہیں رکھ سکتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے انقلابات اسی کلاس روم کی مرہونِ منت ہیں۔ اصحابِ صفہ اسی طرز کے تعلیمی ماحول کے تربیت یافتہ تھے۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو نے اسی پلیٹ فارم کا استعمال کیا۔ انقلابِ فرانس، انقلابِ ایران اور انقلابِ چین کی شمعیں اسی کمرے میں روشن ہوئیں۔ دوسری جانب، تاریخ کی رخ موڑنے والی تحریکیں بھی اسی فکری ماحول سے اٹھی؛ حتّٰی کہ بنگلہ دیش کی علیحدگی کے فکری اثرات بھی اسی ماحول میں پروان چڑھے۔ اسی لیے اس کا تقدس اور اہمیت مسلمہ ہے۔
آج کے دور میں بعض افسران اور کم فہم رہنما جائزے یا معائنہ کاری کی آڑ میں کلاس روم کا تقدس پامال کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ایک سیاسی یا اداری رہنما میرے کلاس روم میں داخل ہوئے، چاک اٹھایا اور بورڈ پر “Past Tense” (فعل ماضی) لکھنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے Past کے بجائے Post لکھ دیا۔ فوراً ایک بچے نے آواز لگائی: “سر! Past کے ہجے۔۔ (spelling) درست کر لیں۔” اس رہنما کی لاج رکھنے کے لیے میں نے بات سنبھالی اور کہا: “شاباش بیٹا! سر نے جان بوجھ کر غلط لکھا تھا تاکہ تم لوگوں کا امتحان لے سکیں!”
کلاس روم اپنی ایک مستقل اور منفرد پہچان رکھتا ہے؛ پوری قوم پر اس کے تقدس کا احترام فرض ہے۔ جس قوم اور ملک کے کلاس روم آباد ہیں، وہی قوم زندہ و تابندہ ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب چرچل کو رپورٹ دی گئی کہ جرمن فوج مسلسل فتح حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے، تو چرچل نے تاریخی جملہ کہا: “ملک میں گھوم کر دیکھو! اگر ہمارے کلاس رومز میں تعلیم و تربیت جاری ہے اور عدالتوں میں انصاف ہو رہا ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔”
کلاس روم ہی دراصل قوم کی نرسری ہے، اور اس کی حقیقی اہمیت و تقدس کو سمجھنا ہم سب کے لیے انتہائی لازم ہے۔










