چترال (نمائندہ چترال میل) جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین نے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر پٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے چترال کے غیور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف گھروں سے نکلیں اور احتجاج کا حصہ بنیں۔چترال پریس کلب میں ضلع سیکرٹری عبدالحق، سابق ویلج چیئرمین عبدالحق، اور دیگر رہنماؤں بشمول شجاع الحق بیگ، ضیاء الدین، حسین احمد، افتخار الدین، جہانزیب،ضیاء الرحمن اور عرفان عزیز کے ہمراہ ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ پٹرولیم لیوی نے ملک بھر میں مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے، جس سے معاشرے کا ہر طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کی جیبوں سے پٹرولیم لیوی کی مد میں 120 روپے فی لیٹر کے حساب سے 1800 ارب روپے کا بھاری ٹیکس وصول کیا ہے۔ اگر اس ظالمانہ لیوی کو ختم کیا جائے تو ملک میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمت فوری طور پر 200 روپے فی لیٹر تک نیچے آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آئی پی پیز (IPPs) کے نام پر عوام سے مزید 2700 ارب روپے کا بھاری بوجھ وصول کیا جا رہا ہے جبکہ گندم مافیا اور شوگر مافیا نے بھی عوام کو لوٹ لی تھی۔امیر جماعت اسلامی نے واضع کیا کہ جماعت اسلامی ان 5 فیصد اشرافیہ کا تعاقب کر رہی ہے جنہوں نے ملک کے 95 فیصد غریب عوام کو یرغمال بنا کر ان کے حقوق لوٹے ہیں۔ 7 اگست کو ملک بھر کی شاہراہوں کو بند کرنا اسی ملک گیر تحریک کا حصہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چترال کے عوام اس ہڑتال کا بھرپور جواب دیں گے اور اسے ایک تاریخی اور کامیاب ہڑتال بنائیں گے۔ انہوں نے حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جماعت اسلامی کے کارکنوں کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی یا طاقت کا استعمال کیا گیا، تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے اور یہ احتجاج مافیا کے خلاف ایک فیصلہ کن تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔چترال کے مقامی مسائل اور صوبائی حکومت پر تنقید:چترال کے مقامی مسائل پر بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما نے پیسکو (PESCO) حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ چترال میں فوری طور پر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے عوام باقاعدگی سے اپنے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں اور خود چترال میں 108 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، اس کے باوجود یہاں کے عوام کو اندھیرے میں رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی سرکاری فنڈز میں کرپشن کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے مطالبہ کیا کہ سی اینڈ ڈبلیو (C&W) ڈیپارٹمنٹ کے خلاف انکوائری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کیا جائے اور چترال بیوٹیفیکیشن فنڈز کے 37 کروڑ روپے میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف (PTI) پچھلے 13 سالوں سے صوبے پر حکومت کر رہی ہے، لیکن انہوں نے چترال میں ایک بھی بڑا ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیا۔ہے






