چترال ٹاون میں آل پارٹیزاورمختلف سول سوسائٹی وکمیونٹی نمائندگان کا مشترکہ اجلاس، چترالی ثقافت کے نام پرغیرمہذب اور مخلوط پروگرام کی سخت الفاظ میں مذمت

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نمائندہ چترال میل) چترال کے فلاحی تنظیم محافظ روایات چترال کے زیرِ اہتمام ایک مشاورتی اجلاس جمعرات کے روز ٹاؤن ہال چترال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، خطباء عظام، سنی، اسماعیلی اور کالاش اقلیتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں ڈسٹرکٹ بار اور پریس کلب کے اراکین، صدر تاجر یونین بمعہ کابینہ، ادبی تنظیموں کے ذمہ داران اور مختلف سول سوسائٹی کے نمائندگان شریک ہوئے۔

اجلاس میں اس امر پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا کہ چترال کی عالمی شہرت یافتہ تہذیبی روایات، دینی اقدار اور کہوار ثقافت کو چترال کے نام پر ملک اور بیرونِ ملک جس طرح غیر شرعی، غیر قانونی اور غیر مہذب محافل کے ذریعے بدنام کیا جا رہا ہے، اس کی مؤثر روک تھام کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں قائدینِ چترال نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی۔

اجلاس سے مولانا اسرار الدین الہلال،عبد الولی خان ایڈوکیٹ، مولانا عبد الرحمن، قاضی نسیم، شریف حسین، عنایت اللہ اسیر، نعیم انجم، محمد کرم، سید برہان شاہ، لیاقت علی خان، ایڈووکیٹ نابیگ، جاوید حسین، ایم آئی خان سرحدی سمیت دیگر شخصیات نے خطاب کیا۔

اس کے علاوہ صدر تاجر یونین چارویلو نور احمد، قاضی سلامت اللہ، ڈاکٹر عیدالحسین، وقاص احمد ایڈووکیٹ اور معروف فنکار منصور احمد شباب، ستار نواز آفتاب عالم و دیگر نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

مقررین نے کراچی میں چترال کی ثقافت کے نام پر منعقدہ مخلوط پروگرام کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال کی تینوں کمیونٹیز، سنی، اسماعیلی اور کالاش، صدیوں سے محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ رہتی آ رہی ہیں اور اپنی ثقافت و روایات کو حدود و قیود کے اندر انجام دیتی رہی ہیں، تاہم آج بعض عناصر ثقافت کے نام پر بے حیائی اور بے پردگی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے۔

اجلاس میں تینوں کمیونٹیز نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ آئندہ کسی بھی ایسے پروگرام یا ثقافتی شو کی اجازت نہیں دی جائے گی جس میں مخلوط پروگرام شامل ہو۔ اس موقع پر آفتاب عالم اور منصور شباب نے بھی مخلوط پروگراموں کی مذمت کرتے ہوئے آئندہ اس نوعیت کے کسی پروگرام میں شرکت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔