چترال میں غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی ابتداء چترال پبلک سکول سے بوئی اشرف الدین مرحوم جنہوں نے کالج میں اپنی 17 گریٹ کی نوکری چھوڑ کر چترال میں چترال پبلک سکول کے نام سے ایک غیر سرکاری تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی اس کے بعد جی ڈی لینگ لینڈ چترال تشریف لائے چترال کے صاحب ثروت اور الیٹ خاندانوں نے مل کر ڈیٹی کمشنر چترال کی سربراہی میں سایورج پبلک سکول کی بنیاد رکھی۔ سن 2000 کو چترال کا ایک تعلیم یافتہ بیٹا جو جہانزیب کالج سوات سے انگریزی ادب میں ماسٹر کرنے کے بعد خادم شہید کالج نوشہرہ اور سٹی ڈگری کالج نوشہرہ میں انگریزی ادب کے لکچرر تھے چترال تشریف لائے ان کے پاس علمی صلاحیت کے علاوہ انتظامی تجربہ مستقل مزاجی جذبہ اور ہمت بھی تھی انہوں نے ایک تعلیمی ادارہ بنانے کا سوچا اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے میں شاید کسی نے بھی اس کی حوصلہ افزائی نہ کی ہو لیکن ان کا ارادہ مصمم تھا انہوں نے 2001ء کو ایک مختصر کرایے کے مکان میں صرف چھ طلباء کے ساتھ “چترال ماڈل کالج” کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ کھولا ابتداء میں وہ جن مشکل مراحل سے گزرے یہ آپ ہی جانتے ہوں لیکن یار محمد خان صاحب کی خاندانی روایتی ہمت نے ان کے مہمیز لگایا… ان کے خاندان کے محمد عیسی پہلوان کو چترال میں ہمت اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پرنسیل یار محمد خان کی نرم خوی سنجیدگی بمت مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت نیک نیتی اور خلوص اس کے کام آئے ان کے مقابلے میں دو بہترین نجی تعلیمی ادارے کارکردگی دیکھا رہے تھے ایسے میں والدین کا اعتماد حاصل کرنے بچوں کو معیاری تعلیم مہیا کرنے اساتذہ مہیا کرنے جیسے چیلنجزپرنسپل یار محمد خان کے سامنے تھے جن سے پرنسپل یار محمد خان لڑتے رہے۔ ایک دو سالوں کے بعد ہی ادارے کو سکول اور کالج میں بدل دیا گیا یعنی جماعت نہم سے داخلہ شروع کیا گیا۔ ادارے کے اندر تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں بہترین اساتذہ کا انتخاب کیا گیا اور جدید تعلیمی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ادارے کو سیٹ کیا گیا ادارے کی ساکھ بحال ہوئی اور چترال میں اس کی ایک پہچان بن گئی چترال ماڈل کالج نے قوم کو مایہ ناز سپوت دیے ایک ایسا ادارہ جو قوم بنانے قوم کی نرسری کی ابیاری کرنے اور قوم کو بترور افراد سے مالا مال کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور کررہا ہے.. اب تک اس ادارے کے 22 طلباء میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ 36 بچے انجینرنگ کالجوں میں داخلہ لیے 23 جوان پاک ارمی میں کمیشن لیے 2 سول جج بنے۔ ایک سی ایس ایس آفیسر ہیں۔ تعلیمی کامیابیوں کے علاوہ کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی ماڈل کالج کی شاندار کارکردگی ہے 2011ء میں انٹر سکولز ٹورنمنٹ میں کرکٹ کے ضلعی چمپین رہے 2013ء میں پشاور بورڈ کے تحت ٹورنمنٹ میں فٹ بال کے ونر رہے 2013ء میں پرائیویٹ سکولز ڈسٹرک ٹورنمنٹ میں فٹ بال اور کرکٹ کے ونر رہے 2014ء اور 2015 ء رسہ کشی کے چیمپین رہے 2025 ء کو کرکٹ کے ڈسٹرکٹ رنر اپ اور فٹ بال کے صوبائی چیمپین رہے۔ کھیلوں کے علاوہ اس کے طلباء اکیڈمک میں بھی نام کمائے 2012ء کو فرنٹیر کور پبلک سکول کے سائنسی میلے میں دوسرا انعام حاصل کیا۔ 2012ء میں آغاخان بایر سیکنڈری سکول سائنسی میلے میں پہلے چار انعامات جیتے 2015ء میں PEIMA کے سائنسی میلے میں اول پانچ انعامات جیتے 2016 ء کے جماعت طلبہ کے انتظام سے پری اسسمنٹ ٹسٹ میں لیپ ٹاپ کا پہلا انعام ملا 2017 ء میں ہوئی میں منعقدہ اسسمنٹ ٹسٹ میں لیپ ٹاپ کا اول انعام ملا. اسی طرح ان ہی ٹسٹوں میں 2019ء میں پہلی 2021ء اور 2022ء میں دوسرے نمبر یہ رہے ان کے علاوہ کالج میں لائبریری لیبارٹری کی سہولیات ہیں مختلف کورسس کمپیوٹر پروفشنل بی ایڈ،ایم ایڈ تک کلاسیں ہیں۔ کالج کی عمارت پرنسپل کی ذاتی ہے اس لیے فیسوں کی ریث نارمل ہے مستحق طلباء کی حوصلہ افزائی اور مدد کی جاتی ہے۔ قابل بچوں کے لیے خصوصی رعایت ہے دو بچوں کے ایک کلاس میں ہونے کی صورت میں ان کی فیسوں میں رعایت ہے۔ دور دراز کی بچیوں اور بچوں کے لیے ہوسٹل کی سہولیات گھر کے ماحول کی طرح ہے ماڈل کالج ایک ایسا ادارہ ہے جو سہولیات کے لحاظ سے اچھا ہے چترال شہر کے وسط میں پولو گراؤنڈ کے ساتھ اس کی عمارت ہے بچے ڈرل پی ٹی وغیرہ کے لیے پولو گراونڈ آتے ہیں کالج میں پک اینڈ ڈراپ کی سہولت موجود ہے۔ تعلیمی سفر (Study tour) اور بچوں کے لیے تعلیمی تفریح مہیا کیا جاتا ہے ماڈل کالج نے نام کمایا ہے اور چترال کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے…





