داد بیداد ۔ وطن کا صو فی شاعر ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

Print Friendly, PDF & Email

اقبال الدین سحر وطن عزیز پا کستان کا صوفی شاعر تھا وہ ملا متی سلسلے کا صو فی تھا مولانا محمد مستجا ب نقشبندی ؒ اور پیر ذولفقار احمد نقشبندی ؒ کا مرید تھا، قاری شبیر احمد نقشبندی ؒ ان کے پیر بھا ئی تھے دعوت و تبلیغ میں چلے اور تین چلے لگا یا کر تا تھا مگر ان کی عام شہرت ایک شاعر کی تھی ان کے اشعار رحمن با با اور استاد دامن کی طرح سہل ممتنع کی صنعت میں آتے ہیں اس صنعت کی یہ خو بی ہے کہ کسی بھی مصرعے کو نثر میں تبدیل کر نے کی ضرورت نہیں پڑتی اور یہ صو فیا کا خا صہ ہے کہ وہ گہرے معا نی اور بلند خیا لات کو سادہ زبان میں ادا کر تے ہیں 7جنوری 2025کی صبح خبر آئی کہ سحر نے 75سال کی عمر میں وفات پا ئی تو ان کا مصر عہ بے اختیار یا د آیا ”اجلو غیچ خوندار، دنیار بیزار قیامتو انتظارے“ سات الفاظ میں انہوں نے اجل کی بے رحمی، دنیا کی بے ثبا تی اور آخرت کی دائمی زند گی کا منظر ایک فلم کی طرح سامنے رکھا ہے

ان کے پڑ دادا راجہ گوہر امان کے عہد میں گلگت کے پر گنہ غذر میں حاکم کے منصب پر فائز تھے ان کے دادا درویش غا زی کو چترال کے راجہ شجا ع الملک نے 1915میں چترال بلا یا اور یاستی باڈی گارڈ میں ایڈ جو ٹینٹ کا عہدہ دے کر وادی انجگان کے خو ب صورت علا قہ شو غور میں جا گیر عطا کی، ان کے والد رحمت الدین جدید تعلیم سے بہرہ ور تھے محکمہ صحت سے وابستہ رہے اقبال الدین سحر نے سٹیٹ ہائی سکول چترال سے میٹرک اور اسلا میہ کا لج پشاور سے گریجو یشن کرنے کے بعد محکمہ بلدیات میں ملا زمت اختیار کی زما نہ طالب علمی میں شعرو شاعری سے شعف رکھتے تھے ریڈیو پا کستان پشاور سے صدا کا ری کا آغا ز کیا عبد اللہ جان مغموم کو اپنا استاد مانتے تھے پیشہ ورانہ زند گی میں ایسے بلند پا یہ صدا کا ر ہے کہ انگریزی زبان میں ان کے اسلو ب کو ورسٹا ئل کا درجہ حا صل ہوا انہوں نے ریڈیو کے لئے ڈرامے لکھے، ڈراموں میں بے مثال صدا کاری اور ادا کاری کے جو ہر دکھا ئے، مزاحیہ ادب تخلیق کیا، ان کے مزا حیہ خا کے ریڈیو ارکائیو اور یو ٹیو ب میں محفوظ ہیں

ضلع کونسل چترال میں اپنی ملا زمت کے دوران کھیلو ں کی تنظیم سے وابستہ رہے تما شا ئی کھیل سے زیا دہ سحر صاحب کے رواں تبصرے سے محظوظ ہو تے انہوں نے جو کام کیا جم کر کیا اور اپنی بہترین صلا حیت سے اس کام کو امر کر دیا وہ مائیکر و فون سنبھا لتے تو ایسا لگتا گویا یہ آلہ صرف ان کے لئے ایجا د کیا گیا ہے، کمپیرنگ کر تے تو ایسا محسوس ہوتا کہ ان کے بعد کمپیرنگ کا فن معدو میت سے دوچار ہو جا ئے گا، اپنا کلا م یا کسی اور کا کلا م ترنم سے سنا تے تو سامعین کو مسحور کر دیتے اور ایسا لگتا کہ صوت و آہنگ کی دنیا ان کے بعد ویراں ہو جائیگی مولانا روم اور علا مہ اقبال ان کے پسندیدہ شعرا تھے گیت کے ایک بند میں دل کی راجدھا نی کے اندر عقل کے مقام کا ذکر یوں کر تے ہیں

ہر دی با چھا عقل غلا م بہچور
ہر دیو پروشٹہ عقلو شکست ضرور
دل با د شا اور عقل غلا م ہے دل کے ہا تھوں شکست کھا نا عقل کا مقدر ہے علا مہ اقبال نے یہی مضمون ان الفاظ میں بیان کیا ہے
بے خطر کو د پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تما شا لب بام ابھی

سحر صاحب کا مجمو عہ کلا م ”آر زوئے سحر“ خیبر پختونخوا کے کسی شاعر کی پہلی کتا ب ہے جو کیو آر کوڈ کے ساتھ شائع ہوئی قاری اس میں شاعر کا کلا م پڑھ بھی سکتا ہے اور کیو آر کوڈ کے ذریعے شاعر کی آواز میں سن بھی سکتا ہے یہ کا رنا مہ پا کستانی نژاد امریکی کا روباری شخصیت انور امان صاحب نے قشقار انٹر پرائز کے بانی محمد نا یا ب فارانی اور نامور گلو کار منصور شباب کے ساتھ مشاورت سے انجام دیا ہے سحر صاحب کے ساتھ میری آخری ملا قات یک طرفہ رہی 5جنوری کو پشاور میں ان کی عیا دت کے لئے حاضر ہوا تو ان کے چہرے پر روایتی مسکر اہٹ نہیں تھی، ریا ض الدین اور سریر الدین کی طرح حبیب الرحمن نا شاد بھی ان کے سر ہا نے غم کی تصویر بنے بیٹھے تھے، وہ ہا تھ پاوں ہلا تے تھے وہ زبان جسکی آواز میں جا دو ہوتا تھا اس دن ہلنے کا نا م نہیں لیتی تھی اگلے دن پر و فیسر اسرار الدین نے اسلا م اباد سے فون کر کے اپنے بیٹوں کو عیادت کے لئے بھیجا رحمت غازی چیف اور کرنل سردار بھی عیا دت کے لئے حاضر ہوئے اگلے روز ان کے سفر آخر ت کی خبر آئی، چترال کے چھوٹے قصبے میں ان کے جنا زے پر 10ہزار مداحوں کا مجمع اُمڈ آیا سوشل میڈیا پر لا کھوں مداحوں نے ان کو خرا ج عقیدت پیش کیا چترال بھر سے لا کھوں لو گ فاتحہ کے لئے ان کے گھر آئے گلگت بلتستان سے بھی سوگواروں نے ان کے مزار پر حا ضری دی ان کے اقرباء سے بات ہوئی تو سریر الدین، محمد اقبا ل ثو بان، ریاض الدین، ظفر الدین اور رضوان الدین نے تہہ دل سے عوام و خواص کی بے پنا ہ محبت کا شکریہ ادا کیا اپنی زند گی کا خلا صہ اقبال الدین سحر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے

زندہ گیو تیریتم گدازیہ تیریتم
نہ خا لا مو شخسیتم تن جگران پچیتم
نہ رازو کو س پشیتم تن ہر دیہ بہچیتم

یوں وطن کے صو فی شاعر اقبال الدین سحر کی جدائی سے کھوار ادب کے ایک درخشان باب کا خا تمہ ہوا پا ک اللہ ان کی روح کو جنت میں اپنی باد شا ہت کے شایان شان درجہ عطا کرے۔