دھڑکنوں کی زباں”سریر شفگتہ اور کالی وردی “۔۔محمد جاوید حیات

Print Friendly, PDF & Email

چھریرے لمبوترے بدن پہ کالی وردی سجتی بہت تھی مگر ودری کے اپنے تقاضے تھے شگفتہ دھن کی اپنی سخنوری تھی نہ یہ سب کچھ کالی وردی نے قبول کیا نہ خنک دھن نے اس کو اہمیت دی۔۔کالی وردی رزق کا زریعہ تھا بس یہی تعلق رہا اس بنجارے نے کبھی اس وردی کو سٹیٹس نہیں سمجھا۔کالی وردی اپنے ساتھ اجنبیت لاتی ہے اور اچھے خاصے انسان کے تعلق کو معاشرے کے غیر انسانوں سے جوڑتا ہے کرائم کی اس دنیا میں کالی وردی ہی کرائم کا علاج ہے اورشریفوں کی لاج بھی ہے لیکن اس کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ بسا اوقات ہر کوئی کالی وردی والے کو کریمینل نظر آتا ہے اس لیے کالی وردی والا اپنی الگ ہی دنیا بساتا ہے۔۔یہاں جس کالی وردی کا ذکر ہورہا ہے وہ وردی والے کے ہاں سے کوئی پزیرائی نہ لے سکے۔دنیا نے کالی وردی والیکو کبھی بھی کالی وردی میں محسوس نہیں کیا۔وہ ان کی نظر میں بے باک شاعر ادیب رہے،سنخنور رہے،شگفتہ مزاج رہے،بزلہ سنج اور محفلوں کی جان رہے،منفرد انداز کے کلاکار رہے۔کالی وردی نے سٹار ساتھ لاۓ۔۔ عہدہ اور چمکتے پہیوں والی کرسی ساتھ لاۓ دھن دولت لائی۔لیکن اپنی اہمیت اور من موہن نہ منوا سکے۔آج کالی وردی اتری تو ہیرا وہی بغیر کالی وردی کے سٹیٹس والا۔۔
شفی شفا فن کی دنیا میں جیۓ۔فین پیدا کیے اور محفلوں کی جان رہے۔رنگین مزاجی اس کی پہچان بنی۔ان پہ نظر پڑتے ہی مسکراہٹ ہر چہرے پہ پھیل جاتی۔اس کی سنجیدگی نرا مذق ہوتی انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے بھر پور فایدہ اٹھایا اگر وہ پیشہ ور پولیس مین کے روپ میں اپنے آپ کو ڈھال دیتا تو شاید ان کی خداداد صلاحیتیں بے کار ہوتیں۔شفی شفا پولیس میں بھی ایک عہد کا نام تھا۔اس نے شاید کسی کو ناراض کیا ہو ممکن ہے کوئی شاید اس کی بزلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی کو پسند نہ کیا ہو یہ اس کی دیدہ دلیری نہیں نیچر کے ہاتھوں مجبوری کہی جا سکتی ہے۔فطرت بدلتی نہیں عادت کو اس لیے دوسری فطرت کہتے ہیں ان کے قہقہوں نے اپنے ارد گرد روشنی کا ایک ہالہ ڈیزائن کیا تھا چند ہی لوگ ہوں جو ان کو عہدے کے لحاظ پکارتے ہوں باقیوں کے نزدیک اس کا عہدہ بہت چھوثا تھاوہ سدا بہار تھا اس لیے خزان کی جھنجھٹ سے آزاد تھا۔ہر ایک سے بے باکانہ ملتا اس لیے ملن کا یہ سٹائل اس کی پہچان بنی۔وہ حاضر جواب اور ٹھیک سے مقرر بھی رہے۔اس کے کئی جملے ضرب المثل ہیں۔شفی شفا صابر،معاملہ فہم،مصلحت پسند رہے اس لیے غیر متنازعہ رہے انھوں نے کالی وردی کی بھی لاج رکھی۔بڑی جاندار اورشاندار رہے۔۔ماتحت ان کو افسر نہ سمجھے یہی بڑائی ہے۔انسان عارضی چمک دمک کو اہمیت نہ دے۔بہت سوں کو پتہ بھی نہ تھا کہ شفی شفا کب ایس پی بنے اور اب شاید ان کی سبکدوشی بھی ان کی شخصیت پہ اثر انداز نہ ہو ان سیپیار کرنے والے بے لوث ہیں۔ان کا احترام کرنے والے عہدے کا نہیں ان کا احترام کرتے تھے۔شفی شفا میرے کلاس فیلو رہے ہیں ان کا پچپنا مجھے یاد ہے وہی سدا بہار سا کچھ۔۔
اب بھی مجھے لگتا ہے کہ ان کی سبکدوشی کسی عہدے سے نہیں جو اس پہ اثر انداز ہو۔اقبال نے کہا تھا۔۔۔
مقام بندگی دے کر نہ ہو شان خداوندی۔۔۔۔۔یہی مقام بندگی اصل بڑائی ہے۔۔۔یہ شعر تمہاری مسکراہٹ کی نذر ہے دوست۔۔۔۔
آدھا یہاں آدھا ہے کسی اور جگہ پر۔۔۔دل پھر بھی زیادہ ہے کسی اور جگہ پر۔۔۔
ہے دیدہ پر شوق نظأروں میں کہیں گم۔۔۔
لیکن دل سادہ ہے کسی اور جگہ پر۔۔۔
سلامت رہیں