پتہ نہیں دل کو کچھ ہوگیا تھا۔۔پنشن پہ گیا تنخواہ بھی بند رہی پنشن فائل ڈائرکٹوریٹ میں کہین گم ہو گئی میں نے اپنے کلرک سے دست بستہ عرض کیا تھا کہ کچھ پیسے اکاونٹ میں أجائیں۔۔۔دیار رسول ص جانا ہے۔۔۔۔بڑی مشکل سے کچھ پیسے آگئے بیگم سے چترال ساتھ آنے کو کہا فرمایا کیوں أٶں۔۔۔میں نیعرض کیا پاسپورٹ بنانا ہے۔۔مجھ پہ کبھی اعتبار نہیں کیا اب کی بار کیا اعتبار آہی گیا۔پاسپورٹ بنا اس کا ویزہ بھی لگا۔میرا نہیں بایومیٹرک کے لیے بونی آنا پڑا صبح سے ظہر تک عبید اور میں لگے رہے اللہ اللہ کرکے بات بنی۔شندور ایجنسی کے منیجر نقیب نے پاسپورٹ جلد از جلد پشاور پہنچانے کا کہا۔یہ رکاوٹیں مجھے کڑکا رہی تھیں عاصی کو شاید بلاوے کا حکم نہ ملا ہو۔۔خودساری رات سفر کرکے پشاور پہنچا پاسپورٹ جمع کیا اسلام آباد بھیجا گیا سہ پہر ساڑھے تین بجے ویزہ لگا سجدہ شکر بجالا یا چترال روانہ ہوا دوسری صبح چترال پہنچا شام کو پھر گھر پہنچا دل پرندہ بن کے روح کے ساتھ پرواز کررہا تھا 23 تاریخ کو فلائٹ تھی ہفتے پہلے پشاور آیا راستوں کی بندش اوربرف باری کا خوف تھا اطلاع ملی۔۔23تاریخ صبح نو بجے فلائٹ ہے 4بجے ایر پورٹ پہنچو۔نیند بالکل نہیں آئی عمیر اور اشفاق دونوں بیٹے ساتھ تھے سخت بارش تھی چار بجے ایر پورٹ پہنچے سات بجے امیگریشن شروع ہوئی 9 بج کر 45 منٹ کو جہاز میں سوار ہوۓ دیار حبیب ص میں قدم رکھنے کا یقین اب بھی نہیں آرہا تھا تین گھنٹے سفر کے بعد دوبئی میں اترے یہاں پر چار گھنٹے ٹھہرنا سالہا سال کی مدت تھی۔تین بجے احرام باندھے مجھے احرام میں دیکھ کربیگم نے مبارک باد دی میری آنکھیں چھلک پڑیں بار بار ذہن میں سوال انگڑائی لے رہا تھا۔۔میں اورسرزمین حجاز۔۔
کہاں میں اور کہاں یہ راستے پچیدہ پیچیدہ۔۔۔۔
دوبئی سے جہاز نے اڑأن بھری تو یقین سا ہوگیا کہ کہیں ضرور اتریں گے۔۔پچھلی پہر کا چھ بجہ زندگی کی ساعت سعید تھی کہ سر زمین حجاز پہ جدہ ایر پورٹ کے ساتھ جہاز کے ٹاٸر لگے ادھر میری یاسین شریف کا اکتالیس واں بار پورا ہوا۔۔سورہ بلد کی پہلی دو آیتین۔۔۔لا اقسم بھذ البلد۔۔۔انت خل بھاذالبلد۔۔۔۔سر زمین حجاز۔۔۔اقبال بہت یاد آیا۔۔
اوروں کو دے حضور یہ پیام زندگی۔۔۔
میں موت دھونڈتا ہوں زمین حجاز میں۔۔۔
پھر۔۔خاک یثرب از دو عالم خوشتر است۔۔
اے خوشا وقتے کہ انجا دلبر است۔۔
پھر أنسو۔۔۔مبارک آنسو۔۔۔دھڑکنوں کی زبان میں لرزش آگئی تھی۔۔دس بجے ہوٹل پہنچے سامان رکھ کے باہر نکلا ایک جم عفیر ایک طرف کشادہ سڑک پہ روان تھا۔۔احرام میں۔۔ایک شور ایاللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں بے شک حمد،نعمتیں اوربادشاہت تمہارے لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔۔ہم نے گیارہ منٹ پیدل جانا تھا ساتھی لکچرر فیاض ہماری ماں فیاض کی ماں اور بہن اور میری بیگم تھیں ہمیں 79 گیٹ کا کہا گیا۔۔حرم میں داخل ہو جاٶں۔۔بیگم میرے ہاتھ پکڑے تھی۔۔میں نے کہا۔ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر۔۔نفس گم کردہ أید جنید و بایزید اینجا۔۔۔بیگم نے کہا تلبیہ پڑھو کیا پڑھتے ہو۔۔عرش سے نازک تر فرش پہ اترے۔۔۔سارے لوگوں نے نصیحت کی تھی حرم پہ نظر پڑے تو مستجاب ادعا ہونے کی دعا کریں۔۔میں نے فیصلہ کیا۔۔میں ایسا کچھ نہیں بولوں گا۔۔میں نے کبھی دنیا نہیں مانگی۔میں نے زندگی کبھی نہیں مانگی۔میں نے موت کبھی نہیں مانگی میں کچھ اور مانگوں گا۔۔حرم پہ نظر پڑھی تو میں نے چیخ کر کہا۔۔۔اے اللہ میں حأضرہوں۔۔اے اللہ مجھے ایمان و ایقان چاہیے۔۔اے اللہ تو نے میری ساری دعائیں قبول کی ہے۔۔اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔طواف پورے ہوۓ تو ہمیں سفاء و مرواء کے درمیان سعی کرنی تھی۔۔تھوڑأ سا فاصلہ ہے لیکن درمیان میں دوڑنا ہے۔ حأجرہ ماں کو بیٹے کی فکر تھی اس کے لیے پانی ڈھونڈنا تھا پھر بیٹے کی رکھوالی بھی تھی کہیں درندہ اٹھا نہ جائیں کیا عجیب منظر تھا اترائی پہ أتی بیٹا نظروں سے اوجھل ہوجاتا تو مامتا تڑپ کر دوڑتا پھر بیٹے پہ نظر پڑتی سات چکر لگائیں بیٹا خشک بے آب و گیاہ زمین کے ساتھ ایڑھیاں رگڑ رہا تھا ساتواں چکر تھا بیٹے کی ایڑ ھی کے نیچے سے پانی کا فوارہ اٹھا۔۔حاجرہ ماں نے پانی کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا۔۔زم زم۔۔۔ٹھہرو۔۔کتنا پیارا منظر ہوگا جب ماں حاجرہ ہاتھوں سے مٹی ڈال کے تالاب بنا رہی ہوگی۔۔دونوں جہانوں کا مالک تماشا دیکھ رہا ہوگا۔سعی مکمل ہوئی باہر آۓ۔۔۔۔ میں آگے آگے تھا پیچھے مڑ کے دیکھا تو ساتھی غائب تھیچند منٹ بعد فیاض کی کال آئی ہم فلان گیٹ پہ ہیں میں نے عرض کیا ہوٹل جاٶ آرام کرو۔۔میں دوڑ کے پھر حرم کے سامنے پہنچ گیا۔۔رکعتیں پڑھی۔حرم پہ نگاہیں جما کے بیٹھ گیا۔۔خلیل اللہ ع بیٹے کے ساتھ حرم کی تعمیر کر رہے ہیں مٹی گارا۔۔دیواریں اونچی ہوتی ہیں دعا مانگی جا رہی ہے۔۔ابراہہ اپنے لاٶ لشکر کے ساتھ پہنچا ہے۔حرم کے رکھوالے کو اپنے مال میویشیوں کی فکر ہے ان کی حفاظت مانگتا ہے۔ابرہہ سوال کرتا ہے۔ اس گھر کی حفاظت کیوں نہیں مانگتے۔۔کہتا ہے جس کا یہ گھر ہے وہ اس کی حفاظت کریگا۔ابراہہ أگے بڑھتا ہے ہاتھی أگیقدم نہیں بڑھاتا۔۔پرندوں کا جھنڈ آتا ہے ابراہہ اور اس کا لاٶ لشکر تباہ و برباد یوجاتا ہے۔سرکار دو جہان ص تشریف لا ۓ ہیں۔نبوت کا اعلان ہو چکا ہے بیت ارقم میں چھپکے سے نماز أدا ہوتی ہے۔فاروق اعظم نے کملہ پڑھا ہے۔نماز کا وقت ہوتا ہے پوچھتا ہے نماز کہاں پڑھیں گے جواب آتا یے یہاں۔۔کہتا ہے نہیں کعبہ جائیں گے درمیان میں فخر موجودات ص ہیں ایک طرف امیر حمزہ رض ہیں ایک طرف فاروق اعظم ہیں ستاروں کی جھرمٹ ہے کعبے میں داخل ہوتے ہیں کفار بے سدھ ہیں جرات نہیں ہوتی۔روز یہاں پہ چراغ حق بجھانے کے لیے میٹنگیں ہوتی ہیں۔یہ وہی کعبہ ہے۔۔۔ فخر موجودات ص سر جھکاۓ اس میں داخل ہوتے ہیں شیر خدا بتوں کو توڑ رہے ہیں۔یہ وہی کعبہ ہے کعبے کے رب قریش پہ اپنے احسانات گن رہے ہیں بھوک میں کھانا دیا۔خوف میں امن دی۔۔اس گھر کے رب کی عبادت کرو۔۔یہ وہی کعبہ ہے جس نے قیصرو کسری کو لرزا دیا تھا۔۔یہ وہی کعبہ جس کا رکھوالا شیر خدا تھے۔۔یہ وہی کعبہ ہے جو صدیق اکبر کی سجدہ گاہ ہے۔یہ وہی کعبہ ہے جس کے طواف کے دوران فارق اعظم نے حجرہ اسود کو مخاطب کرتے ہوۓ فرمایا تھا۔۔۔تو ایک کالا پھتر ہے تو کسی کو کچھ نہیں دے سکتا دینے والا رب ذوالجلال ہے مگر میرے نبی ص نے تجھے بوسہ دینے کا حکم دیا ہے۔پھر اسی کعبہ میں خونریزیان بھی یاد أیٸں ان کے رکھوالے ہی آپس میں دست بہ گریبان ہوۓ۔۔پھر بد بخت طاہر قرامطی یاد أیا۔۔اے کعبہ رب کعبہ نے تجھے عزت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ہر وقت تجھے سجدہ گاہ بنانے والے عاشقوں کا ہجوم رہتا ہے۔۔کعبہ تو جب مٹی کا تھا تو تیرے رکھوالے دنیا پر اپنا رعب جما چکے تھے۔۔اب تو سنگ مرمر کا ہیمگر تیرے رکھوالے غیروں سے مرعوب ہیں۔کعبہ چاہیے تھا کہ تیرے قریب ہی سائنسدانوں کی ایک لیبارٹری ہوتی۔۔اس کے اندر ایجادات ہوتیدنیا فتح ہوتی۔دنیا کے عظیم سائنسدان یہاں پہ جمع ہوتے۔قیصر و کسری اسی طرح تجھ سے لرزا بر اندام رہتے۔تیرے ارد گرد فلک بوس عمارتیں ہیں لیکن ان کے اندر تن آسانیاں ہیں کعبہ تو سخت بدووں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔زندوں کا خدا تیرا رب ہے۔رب کعبہ خود کاینات کی تسخیر کا حکم دیتا ہے مرد قلندر نے کیوں کہا تھا۔۔
میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے۔۔۔
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو۔۔۔حرم تجھ پہ نظر پڑتے ہی اپنے گناہ،کم مایگی خطا یادآتی ہیں۔۔کیا مانگوں کس منہ سے مانگوں۔۔لیکن رب کعبہ۔۔۔۔ مجھ عاصی کو یہاں تک پہنچایا کس نے اور کیوں؟؟ اگر پہنچایا ہے تو مانگوں گا سب کچھ مانگوںگا۔۔مانگ مانگ کر بیزار کروںگا۔۔۔رب کعبہ کو اپنے محبوب سے بہت محبت ہے۔۔قسم اس شہر کی جس میں تواترے ہیں۔۔۔میں کہیں گم ہوگیا تھا۔اپنے اپ کو کھو دیا تھا۔۔تہجد کی اذان ہوئی۔۔
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود۔۔۔
ہوتی ہے بندہ مومن کی اذان سے پیدا۔۔۔
میرے ساتھ بیٹھے ہوۓ کینیا کے بھائی نے انگریزی میں میرے کان میں کہا اٹھو تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔۔میں نے کہا بھاٸ میرے بے سرور سجدے اور رب کعبہ۔۔۔۔مسکرا کر کہا تو پھر رب کعبہ نے تجھے یہاں تک پہنچایا کیوں۔۔امین الرحمن چعتائی استاذ یاد آیا۔۔
تو حرم دی بوس تو حرام دی بوس،تو عرضو قبلہ نما دی بوس۔۔۔۔
صبح نماز پڑھ کے ہوٹل آیا تو بیگم نے بڑی حقارت سے کہا۔۔تم گم ہو گۓ تھے۔شرم أنی چاہیے راستہ بھول جاتے ہو۔۔میں نے کہا محترمہ میں راستہ کب کا بھول چکا ہوں تمہیں بھی اپنے راہ راست پہ ہونے پہ فخر نہیں ہونا چاہیے۔۔
جب بھی وقت ملتا ہے۔۔حرم کے سامنے جا کے بیٹھ جاتا ہوں۔عاصی ہوں بیکاری ہوں سوالی ہوں۔۔۔مجھے پکارو میں دعا قبول کرتا ہوں۔۔شرط یہ ہے کہ پکار میں کتنا درد ہے۔۔۔
اے اللہ میں حاضر ہوں۔۔۔۔
تازہ ترین
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال رفعت اللہ خان کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ کا انعقاد
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔محمد جاوید حیات۔۔چترال ماڈل کالج ایک معتبر تعلیمی اداره
- ہومچترال شہر میں سیزن کی پہلی برفباری، لواری ٹنل ایریا میں دس انچ برف، انتظامیہ کی احتیاطی ہدایات
- ہومدادبیداد۔ جنگ کے ترانے۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
- ہوملوئر چترال پولیس کا منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- مضامیندھڑکنوں کی زباں”سریر شفگتہ اور کالی وردی “۔۔محمد جاوید حیات
- ہومصوبہ بھر میں غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
- ہومموڑدہ آیون کے پاس دریا کا رخ تھوڑیاندہ اور درخناندہ کو براہ راست ہٹ کر رہا ہے، چینلائزیشن کرکے اس کی روانی کو سنٹر میں ڈالا جائے ، ورنہ شدید تباہی کے خطرے سے دوچار ہونگے۔ متاثرین ایون ویلی
- مضامینداد بیداد ۔ وطن کا صو فی شاعر ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی
- ہومسید آباد فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر مکمل کرنے میں غیر معمولی تاخیر افسوسناک ہے، ڈپٹی کمشنر لوئر چترال خصوصی توجہ دیں۔حسین احمد ڈسٹرکٹ فٹ بال ایسوسی ایشن چترال





