چترال ( نمائندہ چترال میل )سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کا نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا توہین آمیز مواد شیئر کرنا قطعی طور پر ناقابلِ برداشت ہے۔ چترال پولیس
گزشتہ چند دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک نوجوان لڑکے کی جانب سے کیلاش کمیونٹی کی بچیوں کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال رفعت اللہ خان نے وائرل ویڈیو کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک خصوصی انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔
انکوائری کمیٹی کے اراکین نے ویڈیو میں نازیبا زبان استعمال کرنے والے نوجوان اور دیگر متعلقہ افراد کے بارے میں اپنی رپورٹ ڈی۔پی۔او لوئر چترال کو پیش کی۔
ڈی۔پی۔او لوئر چترال نے موصولہ رپورٹ کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے ویڈیو میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے نوجوان کو 3 ایم پی او کے تحت ضلع بدر کرکے جیل منتقل کروا دیا، جبکہ آن ڈیوٹی کانسٹیبل کو معطل کرکے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے نیز دیگر ذمہ داران بشمول سوشل میڈیا پیجز جو اس واقعے میں ملوث پائے جائیں گے ان کے خلاف بھی سخت قانونی کاروائی کی جائیگی۔
ڈسٹرکٹ لوئر چترال پولیس تمام ایسے افراد کو متنبہ کرتی ہے جو سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، توہین آمیز یا اشتعال انگیز ویڈیوز اپلوڈ یا وائرل کرنے، کسی گروہ یا مخصوص مسلک کو نشانہ بنانے، بغیر تحقیق کے مواد پھیلانے، نیز جعلی آئی ڈیز، گروپس اور پیجز چلانے والے ایسے تمام افراد کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





