چترال (نمائندہ چترال میل) توشی شاشاسپر کلسٹر کنزرویشن کمیٹی کے چیف نمائندہ محمد مظفر خان نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس کنزرنسی میں مارخوروں کی ٹرافی شکار کے لئے پرمٹ کی تعداد میں اضافہ کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ ایک ہزار کے قریب ٹرافی شکار کے قابل مارخورضائع نہ ہوں اور ٹرافی شکار کے لئے حاصل ہونے والی پرمٹ فیس میں کمیونٹی کے حصے کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر نہ کیا جائے اور کنزرویشن کے سلسلے میں کمیونٹی کی قربانیوں کا حکومتی سطح پر اعتراف کیاجائے جوکہ اپنی مثال آپ ہے۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں کنزرونسی کے دیگر رہنماؤں مفتاح الدین (بوختولی)، شیر ولی خان (خورالشٹ)، اسلام الدین (کاسیٹ)، عمر فاروق (سین)، عمران خان (سیواخت)، قربان خان (شوغور)، اعتبار خان (ارکاری) کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کشمیر مارخور کی آبادی اس علاقے میں معدومیت کے خطرے سے دوچار تھی جب 1998ء میں کمیونٹی کو کنزرویشن کے کام میں شامل کیا گیا تو مارخوروں کی تعداد صرف 442رہ گئی تھی لیکن بیس سال بعد یہ تعداد تین ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جن میں ایک ہزار ٹرافی شکار کے قابل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کمیونٹی نے اس سلسلے میں بہت ہی ذیادہ قربانیاں دی ہیں اور دیتے رہیں گے جن میں اپنے اپنے چراگاہوں میں مال مویشی نہ رکھنے، سبزدرخت کے کاٹنے پر پابندی اور غیر قانونی شکار کو روکنے کے لئے ہمہ تن چوکس اور چوکنا رہنا شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد میں رضاکارانہ طور پر اپنے خودکار بندوق بھی پولیس چوکی شوغورمیں جمع کردئیے جبکہ کمیونٹی کے ممبران کی چوکس رہنے اور علاقے میں اتحادواتفاق کی وجہ سے کوئی بھی شخص یہاں غیر قانونی شکار کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ویلج کنزرویشن کمیٹی (وی سی سی) ماڈل کو حکومت صوبے کے دوسرے اضلاع میں اسی طرز پر نقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ اس کی کامیابی کی دلالت ہے اور یہ بات بھی ایک ناقابل تردید حقیقت بن گئی ہے کہ اس کنزرونسی میں کنزرویشن کا کام بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہے۔ توشی شا شا کنزریشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیاکہ گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل میں چترال میں مارخوروں کی گھٹتی ہوئی تعداد پر رپورٹنگ ہوئی تھی جوکہ چترال گول نیشنل پارک کی حدتک تو درست ہوسکتی ہے جہاں کمیونٹی اور انتظامیہ کے درمیاں چپقلش موجود ہے لیکن توشی شا شا پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ کنزرویشن فنڈز سے اب تک کروڑوں روپے سے مختلف بنیادی انفراسٹرکچر کا کام سرانجام دئیے گئے ہیں۔
تازہ ترین
- ہومماڈل یوناٸٹیڈ نینشنز کانفرنس Model United Nations Conference,(MUN) الخدمت فاٶنڈیشن اسکول قتیبہ کیمپس چترال میں (MUN) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
- مضامینپھول جیسے بچپن پر ظلم: بچوں سے مشقت اور بھیک منگوانے کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد
- ہومضلع لوئر چترال پولیس میں 07 نئے جوان شامل، ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان (PSP) نے تقرر نامے تقسیم کر دیے۔
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومچترال اسکاؤٹس نے چترال لیویز کو 1 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرا کر چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی
- ہوم*پرنس رحیم آغا خان کے دورہ لوئر چترال کے سلسلے میں آر۔پی۔او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کا تھانہ لٹکوہ اور دیدار گاہ گرم چشمہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”یہ سسٹم کیا بلا ہے “
- ہومچترال لوئر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر کی سیٹ سات ماہ سے خالی، عوام و کنٹریکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا
- ہومچترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی



