اخبارات میں دوکالمی خبر آگئی مگر کورونا،لاک ڈاون اور قرنطینہ کے ناہنجار دور میں کسی نے اس پر غور نہیں کیا ایسی خبریں گذشتہ کئی سالوں سے تواتر کے ساتھ آرہی ہیں کورونا کارونہ بھی ہو سیاسی اُتار چڑھاؤ کی چٹ پٹی خبروں میں ایسی خبر گم ہوجاتی ہے واقعات کے مطابق محکمہ جنگلی حیات کے اہلکاروں نے جنگل میں مارخور یا ہرن کے غیرقانونی شکاری کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے برآمدشدہ مال وقوعہ کے ہمراہ ڈویژنل فارسٹ آفیسر یا ڈپٹی کنزرویٹر کی عدالت میں پیش کیا۔عدالت نے ملزم سے پوچھ گچھ کی۔ملزم نے جرم کا اقرار کیا۔عدالت نے اس کو جرمانے کی سزاسنائی۔موقع پر جرمانہ وصول کرکے محکمے کے پکے کاغذات پر پکی رسید ملزم کو دیدی اور دودنوں کے اندر مقدمہ نمٹادیا۔یہ قانون چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف ممتاز ملک کے دور میں منظور ہوا۔صوبائی حکومت نے محکمے کے افیسروں کو مقدمات سننے اور فیصلہ سنانے کے لئے مجسٹریٹ کے اختیارات دیدیے تازہ ترین خبر کی تفصیلات میں لکھا ہے کہ ملزم نے ہمالیائی ہرن کے ایک سالہ بچے کا شکار کیا۔وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے ملزم کو موقع پر رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے اس کے قبضے سے رائفل،دوربین،شکار کا گوشت اور چمڑا اور جانور کی سینگیں برآمد کیں۔محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کو ملک کی تیسری باوردی فوج کہا جاتا ہے یہ وردی والے لوگ تھے۔ملزم اور مال وقوعہ کو لیکر دفتر پہنچے،ملزم کو حوالات میں رکھا،مال وقوعہ کو مال خانے میں داخل کرکے ان کی پکی انونٹیری(Inventry) بنائی ملزم کا بیان لیا۔اعتراف جرم کے بیان پر محکمہ کے تین اہلکار گواہ بن گئے موقع پر موجود افیسر یا محکمانہ مجسٹریٹ کے سامنے سارا ریکارڈ پیش کیا۔ملزم نے خود پیش ہوکر اپنے جرم کا اقرار کیا اور خوشی سے جرمانہ دینا منظور کیا،مجسٹریٹ نے ملزم کو دولاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی رائفل،دروبین،اور برآمد شدہ سامان بحق سرکار ضبط کرلیا گیا۔ملزم دودنوں تک حوالات میں رہا،اس اثناء میں جرمانہ کی رقم جمع کی گئی،چالان کے مطابق جرمانہ وصول کرکے رسید دیدی گئی اس پر تین بندوں کی گواہی لی گئی اور ملزم کو رہا کردیا گیا۔کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا دولاکھ روپے کا ”والا لطیفہ اس پرصادق آتا ہے،وطن عزیز میں یہ انصاف کانیاماڈل ہے جو ایک عرصے سے چل رہا ہے پہلا ماڈل مروجہ عدالتوں کا نظام ہے،دوسرا ماڈل فوجی عدالتوں والا سسٹم ہے۔تیسرا ماڈل مروجہ عدالتوں کے اندر ماڈل کورٹ والا نظام آیا ہے چوتھا ماڈل محکمانہ عدالت ہے۔جس کی منظوری غیر معمولی حالات میں خصوصی قانون سازی کے ذریعے دی گئی ہے اس پر یہ اعتراض وارد کیا جاتا ہے کہ اس میں ملزم کو صفائی کے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اس اعتراض کا یہ جواب دیا جاتا ہے کہ جس طرح میٹھا زہرکھانے والا جان بلب مریض پانی نہیں مانگتااسی طرح محکمہ جنگلی حیات کے حوالات میں قید ہونے والا ملزم وکیل صفائی کی خدمات سے بخوشی دست بردار ہوجاتا ہے۔وکیل صفائی اُس وقت میدان میں آتا ہے جب ملزم کو اس کی ضرورت ہو یہاں ملزم اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتااس قانون کا پس منظر یہ ہے کہ چیف کنزرویٹر ممتاز ملک ہرماہ غیرقانونی شکار کے مقدمات کا پراگریس طلب کرتا تھا،ہرماہ اس کورپورٹ دی جاتی تھی کہ ”مقدمہ عدالت میں ہے“جسطرح قدرت اللہ شہاب ایک مقدمے کی کاروائی میں ”رپورٹ پٹواری مفصل ہے“کی تکرار سے تنگ آگیا تھا اسی طرح ممتاز ملک بھی ”مقدمہ عدالت میں ہے“کی تکرار سے تنگ آگیا،اُنہوں نے صوبائی حکومت کے سامنے تجویز پیش کی اور مطالبہ کیا کہ میرے فیلڈ افیسروں کو محکمانہ مقدمات سننے کیلئے مجسٹریٹ درجہ اول کے مخصوص اختیارات دیدے جائیں جوصرف وائلڈ لائف پروٹیکیشن اینڈ کنزرویشن ایکٹ کے دائرہ کار تک محدود ہوں۔صوبائی حکومت نے قانون سازی کی اور اختیارات دیدیے۔چیف کنزرویٹر ممتاز ملک کا کہنا تھا کہ میں نے بحیثیت ڈویژنل فارسٹ افیسر وائلڈ لائف1977میں جومقدمہ مروجہ عدالت میں بھیجا تھا اُس کا فیصلہ میرے چیف کنزرویٹر بننے تک نہیں آیا۔اس دوران 20سال گذرگئے۔عدالتی کارروئی کی اس غیرمعمولی طوالت سے تنگ آکر میں نے صوبائی حکومت کے سامنے یہ تجویز پیش کی اور صوبائی حکومت نے قانون سازی کرکے محکمے کے افیسروں کو خصوصی اختیارات تفویض کئے۔اگر سرسری جائزہ لیاجائے تو یہ بات کھول کر سامنے آئیگی کہ تمام محکمے مروجہ عدالتی نظام کی پیچیدگیوں سے تنگ آگئے ہیں لیکن ہر محکمہ اپنا مجسٹریٹ میدان میں نہیں لاسکتا اس وجہ سے مجبوراًمروجہ عدالتوں کے محتاج ہیں وائلڈ لائف کے حوالے سے مروجہ عدالتوں میں دومسائل بہت گھمبیر نوعیت کے تھے۔پہلا مسئلہ یہ تھا کہ عدالت وائلڈ لائف کے اہلکاروں کی گواہی تسلیم نہیں کرتی تھی اور سطح سمندر سے9000فٹ یا12000فٹ کی بلندی پر دشوار گذار پہاڑوں میں دیہی یاشہری آبادی سے گواہ لانا ممکن نہیں تھا۔دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ عدالت دوسال گذرنے تک ملزم کا بیان ریکارڈ نہیں کرتی تھی۔بیان ریکارڈ ہونے کے بعدگواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے میں کئی سال لگتے تھے بحث کی نوبت آنے پر کھبی جج غیر حاضرہوتا کھبی وکلاء کی ہڑتال ہوتی کھبی ملزم کا وکیل غیر حاضر ہوتا،کھبی سرکاری وکیل التواء کی درخواست کرتا چنانچہ تاریخ پر تاریخ دی جاتی۔ایک عدالت سے فیصلہ آنے کے بعد دوسری عدالت میں اپیل اور تیسری عدالت میں اپیل کے مرحلے آتے۔بقول غالب”کون جیتا تیری زلف کے سر ہونے تک“یہ سلسلہ زلف یار سے دراز ترہوتا چلاجاتا تھا مقدمے کی طوالت سے صرف محکمانہ کارکردگی متاثرنہیں ہوتی تھی۔ملزمان بھی اس سلسلے سے تنگ آجاتے تھے بعض دفعہ ملزمان خود آکر عدالت سے باہر تصفیہ کی درخواست کرتے تھے محکمے کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ سرکاری وکیل کے پاس بہت زیادہ مقدمات ہوتے تھے وہ وقت نہیں دے سکتا تھا۔پرائیویٹ وکیل کرنے کے لئے محکمے کے پاس فنڈ نہیں ہوتا تھا۔اس طرح صوبائی حکومت نے محکمہ جنگلی حیات کو انصاف کا نیاماڈل بناکر دیا۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



