چترال(نمائندہ چترال میل) چترال کے ممتازماہرتعلیم اور ریٹائرڈ ای ڈی اومحکمہ ایجوکیشن صمدگل اورسماجی کارکن محمدظفرلال مستوج نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کہاہے کہ آغاخان ہیلتھ سروس پاکستا ن چترال میں 1960کی دہائی سے صحت کے محکمے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔گزشتہ دنوں چترال کے ایک غیرمقامی اخباری نمائندہ سوشل میڈیا میں گرم چشمہ اورمستوج میں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت چلنے والی ہسپتالوں کے خلاف بے بنیاد تحریر پوسٹ کر کے ادارے کی ساکھ کونقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جوکہ من گھڑت اور بد نیتی پر مبنی ہے۔انہوں نے کہاکہ آغاخان ہیلتھ سروس چترال صحت کے شعبے میں میں کام کرنے والاواحدغیرسرکاری ادارہ ہے جو دن رات خدمات انجام دے رہا ہے۔ لیکن چندمفاد پرست عناصر بلیک میلنگ میں نہ آنے کی وجہ سے ادارے کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر اْتر آئے ہیں جن کی ہم شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اپنی ذاتی مفادات کی خاطر لوگوں کو گمراہ کرنے لئے من گھڑت اور بے بنیاد افواہیں پھیلا کر ادارے کی دلچسپی کو کم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے گرم چشمہ اورمستوج ہسپتال کے خلاف غلط بیانی کرنے پرحکومت سے مطالبہ کیاہے کہ اس طرح افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جوعوام کوصحت کی سہولیات سے محروم کرنے پراُترآئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت مستوج ہسپتال میں چھ سینئرڈاکٹرزاوردیگراسٹاف24گھنٹے ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اور صحت کے تمام سہولیات عوام کوگھرکی دہلیز پرفراہم کررہے ہیں۔ان ہسپتالوں میں آغاخان ہیلتھ سروس نے صحت سے متعلقہ تمام جدیدآلات نصب کئے گئے ہیں جہاں تمام ٹیسٹ انتہائی تسلی بخش اور مطلوبہ اسٹنڈر کے مطابق کئے جاتے ہیں اور ہسپتالوں میں صفائی بھی نہایت اطمینان بخش ہے۔انہوں نے کہاکہ ہسپتالوں میں 40لاکھ روپے مالیت کے جنریٹرلگائے گئے ہیں جولوڈشیڈنگ کی صورت میں دن رات بجلی مہیاکرتے ہیں۔دیگرتمام جدیدسہولیات ہسپتالوں میں موجودہے۔انہوں نے کہاکہ گرم چشمہ میں ان تمام سہولیات کے ساتھ گائنی کالوجسٹ ڈاکٹربھی موجودہے۔انہوں نے کہاکہ اے کے ایس ایچ پی آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کی جانب سے صحت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی سرگرمیوں میں براہ راست اعانت سے دنیا بھر میں سالانہ پچاس لاکھ اور پاکستان میں تقریباً بیس لاکھ افراد فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ منصوبہ بندی، تربیت اور وسائل کو ترقی دینے کے لیے تعاون فراہم کرتاہے۔انہوں نے کہاکہ 1960کی دہائی میں ملک کے دورافتادہ ضلع چترال میں حکومت کی طرف سے دستیاب علاج معالجے کی سہولیات کا اندازہ ہر کوئی لگاسکتا ہے جوکہ آج سے پچاس سال پہلے کی بات ہے۔ پچاس سال بعد آج کوئی موجودہ صورت حال کو سامنے رکھے تو یہ سمجھنا کوئی مشکل نہ ہوگاکہ اس عرصے میں حکومت کے ساتھ ساتھ کسی ادارے نے اس پسماندہ علاقے میں صحت کے شعبے میں قابل قدر خدمت انجام دیا ہے تو وہ آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان ہے جوکہ آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کا ایک جز ہے جوکہ دنیاکے پسماندہ ممالک میں اپنی مسیحائی کی حیثیت منوائی ہے جن میں سنٹرل ایشیاء کے ممالک خصوصی طور پر شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان ایک موثر نظام لانے اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے آغاخان ہیلتھ سروس اپنی طبی سہولیا ت کی بحالی کر رہا ہے اور چترال کے دورافتادہ اورپسماندہ علاقوں میں حکومت کے شانہ بشانہ صحت کے بنیادی سہولیات فراہم کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مستوج اورگرم چشمہ کے عوام صوبائی حکومت کامشکورہیں کہ انہوں نے ان ہسپتالوں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت آغاخان ہیلتھ سروس کودیاہے وہ اس معاہدے کے تحت کوالٹی ہیلتھ کئرسروس ان پسماندہ علاقوں میں فراہم کرتے ہیں۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



