چترال (نما یندہ چترال میل) اپر چترال ضلع کے عمائیدین نے کا غ لشٹ میں اسٹیٹ لینڈ پر گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والا ایک ہی خاندان کی غیر قانونی قبضے سے واگزار کرانے اور قابضین کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپر چترال کے عوام میں اس وجہ سے شدید غصہ اور انتشار پھیل رہا ہے جس سے علاقے میں امن وامان شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی اپر چترال کے صدر آفتاب ایم طاہرنے ویلج ناظم منہاج الدین، ممبر ضلع کونسل غلام مصطفیٰ ایڈوکیٹ، الطاف گوہر ایڈوکیٹ، نابیک شراکت ایڈوکیٹ، جمشید احمد، کریم پناہ اور دوسروں کی معیت میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی لاپروائی اور لینڈ سیٹلمنٹ کے عملے کے ساتھملی بھگت سے گلگت بلتستان سے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے دو افراد کاغ لشٹ کے ایک بڑے حصے پر جعلی دستاویز ات کے ذریعے قبضہ جمانے کے بعد باہمی ساز باز سے اس قبضے کو دائمی بنانے اور قانون کا لبادہ پہنانے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف سول مقدمہ بھی دائر کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے یہ غیر قانونی قابضین اس نسبت سے ایک جعلی دستاویز تیار کرکے جوڈیشل کونسل چترال میں محفوظ دستاویز ات میں شامل کرنے کی ایک بھونڈی کوشش کرائی جوکہ ناکام ثابت ہوئی اور آرکائیوز لائبریری پشاور سے منسوب ایک دستاویز بھی پیش کی ہے جوکہ جعلی ثابت ہوئی کیونکہ لائبریری انتظامیہ نے متعلقہ ریکارڈ میں کا غ لشٹ میں زمین سے متعلق اس دستاویز کی عدم دستیابی کے بارے میں لیٹر جاری کردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قابضین نے اس زمین پر غیر قانونی تعمیرات کرنے کے ساتھ ساتھ سادہ لوح اور غریب عوام کو ہاؤسنگ اسکیم کے نام پر یہ غیر قانونی زمین فروخت کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ اپر چترال کے عمائیدین نے ضلعی انتظامیہ کی خاموشی پرانتہائی تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ضلعی ہیڈکوارٹرز بونی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ کے افسران کا لاتعلق رہنا مغنی خیز بات ہے جنہیں زمین کو واگزار کرنے کے ساتھ ساتھ جعل سازوں کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کاروائی بھی کرنا چاہئے تھا لیکن وہ اب بھی خاموش تماشائی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ محمود خان، ریونیو منسٹر شکیل خان، چیف سیکرٹری اور کمانڈنٹ چترال سکاوٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ امن وامان کے بہتر مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سرکاری اراضی کے تحفظ، عوام کے حقوق کو بچانے کے لئے جعل ساز قابضین کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور نہ صرف زمین واگزار کیا جائے بلکہ ان کے خلاف جعل سازی کامقدمہ بھی دائر کیاجائے اور لینڈ سیٹلمنٹ میں ان کا ساتھ دینے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے بصورت دیگر اپر چترال کے عوام اس سلسلے میں آخری حد تک جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکام بالا پر عائدہوگی۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



