چترال (نمائندہ چترال میل ) ابتدائی تعلیمی نظام میں چائلڈ ٹو چائلڈ (C2C) ماڈل پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ یہ بنیادی خواندگی اور حساب دانی کو بہتر بنانے کے لیے ایک بہترین اور شواہد پر مبنی راستہ فراہم کرتا ہے اور یہ ماڈل بالآخر پاکستان اور وسیع تر جنوبی ایشیائی خطے میں زیادہ جامع اور یکساں تعلیمی نظام کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔آغا خان یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ، پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر (AKU-IED PDC) چترال کے زیر اہتمام منعقدہ ایک فورم میں پاکستان، مالدیپ اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، محققین، پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں اور ‘اسکیلنگ انکلوسیو پلے بیسڈ چائلڈ ٹو چائلڈ اپروچز’ (SIPCA) ریسرچ کنسورشیم کے ارکان سمیت تقریباً 200 افراد نے شرکت کی۔ ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ یہ تقریب SIPCA پروجیکٹ کے شواہد کو شیئر کرنے اور جنوبی ایشیا کے مختلف تعلیمی ماحول میں C2C ماڈل کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مکالمے کا ایک اہم ذریعہ بنی۔محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، حکومت خیبر پختونخوا کے اسپیشل سیکریٹری محمد مسعود نے تقریب کے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اپنے کلیدی خطاب میں پاکستان، بالخصوص اس کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں اساتذہ کی تربیت کو مضبوط بنانے کے لیے AKU-IED کی دیرینہ خدمات کو سراہا۔ چترال کے اپنے چار روزہ دورے اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے مختلف اداروں کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے، اسپیشل سیکریٹری نے AKDN اور AKU کی قیادت میں جاری مربوط ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا تعلیمی نتائج کی بہتری کے لیے ابتدائی بچپن کی نشوونما (Early Childhood Development) پر سرمایہ کاری ہی بنیادی بنیاد ہے۔فورم کا آغاز AKU-IED PDC چترال کے سربراہ ڈاکٹر ریاض حسین کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جنہوں نے سینٹر کی تزویراتی ترجیحات، خصوصی پروگراموں اور خطے میں تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نئے مواقع کی بھی نشاندہی کی۔ آغا خان فاؤنڈیشن (AKF) پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے، ڈائریکٹر ایجوکیشن شکور خان نے بنیادی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس شواہد اکٹھے کرنے میں SIPCA پروجیکٹ کے کردار کو تسلیم کیا اور اعلان کیا کہ AKF 2027 سے شروع ہونے والے اپنے اگلے تعلیمی منصوبوں کے ذریعے C2C ماڈل کو بڑے پیمانے پر پھیلانے میں مدد کرے گا۔SIPCA پاکستان کی تحقیقی ٹیم—جس کی قیادت پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر نسیمہ شکیل، کو-پرنسپل انویسٹی گیٹر جناب عبدالی ولی خان یفتلی، اور ریسرچ اسپیشلسٹ محترمہ روبینہ نواب کر رہی تھیں —نے پروجیکٹ کے اہم نتائج پیش کیے۔ تجرباتی ڈیٹا نے واضح شواہد فراہم کیے کہ کھیل پر مبنی چائلڈ ٹو چائلڈ (PBC2C) ماڈل بچوں کی اسکول کے لیے تیاری کو مؤثر طریقے سے بہتر بناتا ہے اور پری پرائمری سے پرائمری تعلیم میں ان کی منتقلی کو آسان بناتا ہے۔دیگر بچوں کے مقابلے میں، اس ماڈل کا حصہ بننے والے بچوں نے سیکھنے کے نتائج میں نمایاں کارکردگی دکھائی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:انگریزی خواندگی: 112% اضافہحساب دانی (ریاضی): 35.6% اضافہاردو خواندگی: 25.3% اضافہسماجی اور جذباتی سیکھ: 3.7% اضافہمحققین کے فراہم کردہ ڈیٹا نے مختلف ماحول میں اس ماڈل کی اعلیٰ موافقت کو بھی ثابت کیا، جس کے کراچی جیسے بڑے شہر اور چترال کی دیہی وادیوں، دونوں جگہوں پر یکساں مثبت نتائج سامنے آئے۔محققین کا کہنا تھا کہ ”اعداد و شمار کے تعلیمی فوائد سے ہٹ کر، تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ اس ماڈل نے بچوں کے اعتماد، کلاس روم میں شرکت، بات چیت اور باہمی تعاون کو کامیابی سے بڑھایا۔ اس کے ساتھ ہی، اس نے بڑے طلبہ میں قیادت، ذمہ داری اور ابلاغ کی مہارتوں کو بھی فروغ دیا جنہوں نے ‘ینگ فیسیلیٹیٹرز’ (نوجوان سہولت کاروں) کے طور پر خدمات انجام دیں ”۔ نتائج نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ماڈل ایک عملی، کم لاگت اور بڑے پیمانے پر لاگو ہونے والا طریقہ کار ہے جو اساتذہ کی مدد کرنے اور پاکستان میں مستقبل کی ابتدائی بچپن کی تعلیم (ECE) کی پالیسیوں کو ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔فورم میں بین الاقوامی ماہرین کی شرکت سے اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہوا، جن میں اسلامک یونیورسٹی آف مالدیپ سے ڈاکٹر مریم شریفہ (ریسرچ لیڈ، SIPCA) اور ڈاکٹر وصال موسیٰ (ڈپٹی وائس چانسلر ریسرچ) کے علاوہ یونیورسٹی آف کولمبو، سری لنکا سے محترمہ اندیگاہاولا تیرومی (پرنسپل انویسٹی گیٹر اور سینئر لیکچرر) شامل تھیں۔ ان کی آراء نے جنوبی ایشیا میں جامع تعلیم اور ابتدائی بچپن کی نشوونما پر ہونے والی گفتگو کو مزید تقویت بخشی۔اس کے بعد ہونے والے پینل ڈسکشن میں پاکستان، مالدیپ اور سری لنکا میں C2C ماڈل کو پھیلانے کے مواقع اور چیلنجز پر غور کیا گیا۔ پینل کے شرکاء نے زور دیا کہ ماڈل کی کامیاب توسیع کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، اور ممالک کے درمیان باہمی تعاون انتہائی ضروری ہے۔ AKU-IED میں پروفیسر اور ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز ڈاکٹر ساجد علی نے ملکی سطح پر اس ماڈل کے وسیع تر نفاذ کے امکانات کو اجاگر کیا اور نوٹ کیا کہ یہ ماڈل ملٹی گریڈ کلاس رومز (جہاں ایک ہی کمرے میں مختلف کلاسوں کے بچے پڑھتے ہیں) کے لیے ایک انتہائی عملی اور موزوں حکمت عملی پیش کرتا ہے، جو چترال اور پاکستان کے دیگر پسماندہ و کم وسائل والے علاقوں میں عام ہیں۔فورم کا اختتام محققین، پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں اور ماہرینِ تعلیم کے اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ ان تحقیقی نتائج کو عملی پالیسیوں اور اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔





