پاکستان میں مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے جولائی 2026 کا آغاز ایک خوش آئند خبر سے ہوا جب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی (LPG) کی سرکاری قیمتوں میں نمایاں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ عالمی مارکیٹ میں سعودی آرامکو کے کنٹریکٹ پرائس (CP) اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری کے باعث اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں 67.33 روپے فی کلوگرام کمی کرتے ہوئے نئی سرکاری قیمت 241.43 روپے فی کلوگرام مقرر کی، جبکہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 794 روپے کی بڑی کمی کی گئی۔
یہ اعلان ملک بھر کے ان لاکھوں صارفین کے لیے امید کی ایک بڑی کرن تھا جو قدرتی گیس (پائپ لائن) کی سہولت سے محروم ہیں اور خاص طور پر چترال، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، بلوچستان اور دیگر پہاڑی و دور دراز علاقوں میں کھانا پکانے اور سردی سے بچنے کے لیے مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز اور افسوسناک طور پر، سرکاری نرخوں میں اتنی بڑی کمی کے باوجود ملک کے متعدد شہروں اور بالخصوص پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ بازار میں ایل پی جی آج بھی 450 سے 475 روپے فی کلوگرام کی ہوش رُبا قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے، جس نے غریب اور متوسط طبقے کو شدید ذہنی اور مالی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ریاست کا ایک معتبر ادارہ قیمتیں کم کرتا ہے، تو عام شہری تک اس کا فائدہ کیوں نہیں پہنچ پاتا؟ اس المیے کے پیچھے چند ایسے محرکات اور حقائق ہیں جن پر غور کرنا اور جن کا سدباب کرنا حکومت کے لیے ناگزیر ہے۔
1۔ منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ
اوگرا ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ایل پی جی کی زیادہ سے زیادہ صارف قیمت (Maximum Retail Price) مقرر کرتا ہے، جس میں تمام تر اخراجات اور جائز منافع شامل ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بعض بڑی مارکیٹنگ کمپنیاں، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز ان نرخوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی مرضی کے ریٹ وصول کرتے ہیں۔ سرکاری اعلان صرف کاغذوں اور ٹی وی اسکرینوں تک محدود رہ جاتا ہے، جبکہ گراؤنڈ پر صارفین کو مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
2۔ مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی
ایل پی جی سیکٹر میں ایک عام رجحان یہ دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے، گیس پلانٹس اور بڑے ڈسٹری بیوٹرز پرانا مہنگا اسٹاک نکالنے کا بہانہ بنا کر سپلائی محدود کر دیتے ہیں۔ مارکیٹ میں ایل پی جی کی مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے تاکہ طلب اور رسد کے بحران کا فائدہ اٹھا کر قیمتوں کو بلیک میں بلند رکھا جا سکے اور ناجائز منافع کمایا جا سکے۔
3۔ ضلعی انتظامیہ اور نگرانی کا فقدان
اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ گراں فروشی کے خلاف کارروائی کریں، لیکن اکثر علاقوں میں مؤثر چیکنگ اور مانیٹرنگ کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ انتظامیہ کی اس غفلت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے منافع خوروں کے حوصلے اس حد تک بلند ہیں کہ وہ کھلے عام سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور غریب عوام کا استحصال جاری رکھتے ہیں۔
4۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا بہانہ
چترال اور دیگر پہاڑی علاقوں کے حوالے سے اکثر یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ وہاں تک گیس پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے اخراجات زیادہ آتے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست ہو سکتی ہے، لیکن اخراجات کا یہ فرق قیمت کو دوگنا کرنے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔ اگر اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت تقریباً 241 روپے ہے، تو پہاڑی علاقوں میں بھی کرایہ شامل کر کے یہ قیمت 270 یا 280 روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں 450 سے 475 روپے وصول کرنا سراسر ظلم اور کھلی لوٹ مار ہے۔
گیس پلانٹس کے خلاف کڑی نظر اور سخت کارروائی کی ضرورت
اس سنگین صورتحال کو مانیٹر کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سپلائی چین کے بنیادی مرکز یعنی گیس پلانٹس پر گرفت مضبوط نہیں کی جائے گی، تب تک گلی محلوں کے چھوٹے دکانداروں کو قابو کرنا ناممکن رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور اوگرا ایل پی جی گیس پلانٹ مالکان پر کڑی نظر رکھیں۔ جہاں کہیں بھی اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں سے ایک روپیہ بھی زائد وصول کیا جا رہا ہو، وہاں نہ صرف بھاری جرمانے عائد کیے جائیں بلکہ ان گیس پلانٹس کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مافیا کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ ریاست کے قوانین سے بڑھ کر کوئی نہیں۔
عوام کا حکومتِ وقت، اوگرا، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ محض نوٹیفکیشن جاری کرنے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ کی نگرانی کا ایک فعال نظام وضع کریں۔ ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کو جیلوں میں ڈالا جائے تاکہ حکومت کی جانب سے دیا جانے والا ریلیف واقعی عام شہری کی جیب تک پہنچ سکے۔
جب تک قیمتوں کے سرکاری نوٹیفکیشن پر سختی سے عملدرآمد نہیں کرایا جاتا، اس وقت تک ہر ماہ قیمتوں میں کمی کے اعلانات عوام کے لیے صرف ایک “کاغذی خوشخبری” بن کر رہ جائیں گے، اور عملی طور پر صارفین اسی طرح مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور رہیں گے۔ حکومت کی اصل کامیابی اور گورننس کا امتحان اسی وقت ہوگا جب نوٹیفکیشن میں درج قیمت اور بازار میں وصول کی جانے والی قیمت ایک جیسی ہو۔



