دھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”مادر علمی کا بے مثال پرنسپل “

Print Friendly, PDF & Email

کئی سال پہلے ابو کا تبادلہ جب ہائی سکول کھوت ہوا تو میں رورو کے ساتھ ہولیا حالانکہ میں دسویں جماعت میں تھا اور امتحان کے لیے کچھ مہینے ہی رہ گئے تھے میں صرف تین مہینے اپنے سکول میں گزارتا تو پھر سردیوں کی لمبی چھٹیاں ہوتیں اور ساتھ میں میٹرک کا امتحان ہوتا…تنہائی برداشت نہ کر سکا ابو نے سرٹیفیکیٹ لیا اور مجھے پیچھے پیچھے گما کے ہائی سکول کھوت کے گیٹ سے اندر داخل ہوا.سکول کی چند کمروں پر مشتمل کچی عمارت تھی شکر کہ کمروں میں بیھٹنے کے لیے بنچ تھے دسویں جماعت میں اچھے ساتھی تھے اور اساتذہ بھی جان کی بازی لگاتے سکول کی چار سال پہلے ابگریڈیشن ہوئی تھی اور نتجہ خراب آرہا تھا.اس لیے سال سخت محنت ہو رہی تھی ہم اسی محنت کے بینڈ چھڑے.ہم نے یہاں سے میٹرک کیا زندگی کی راہوں میں قلابازیاں کھاتے رہے سرکار کی نوکری کی..چندماہ پہلے ریٹائر ہوئے آج پھر سے اس مادرعلمی کے گیٹ سے اندر داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا..گیٹ سبز رنگ کی آہینی ہے عمارت پکی ہے جماعت کے کمرے کشادہ اور خوبصورت ہیں صحن سبز گھاس سے مزین ہیں سیب کے درخت اور گلاب کے پھولوں سے علم کی روشنی آتی ہے باہر وسیع کھیل کا میدان ہے میدان کے شروع کے کنارے پر پاک فوج کے کریش شدہ ہیلی کاپٹر کا ڈھانچہ ہے ساتھ مصروف دکانیں ہیں ماضی سکرین پر یادوں میں گھوما.آہینی گیٹ بند تھا پرائمری کی عمارت کی طرف سے سکول میں داخل ہوا.. عمارت کی نفاست اور رعب الگ تھا اساتذہ آتے گئے ملتے گئے پرنسپل نیاز احمد اپنی وجاہت مسکراتے چہرے ہنسی پھوٹتے الفاظ اور شگوفہ لباسی میں ملے..تپاک سے استقبال کیا ان کی شاندار کیریر اور جاندار منیجمنٹ ہے اے کے ای ایس میں بہت کام کر چکے ہیں پیشہ ورانہ تربیت نے ان کو ہیرا بنا دیا ہے وہ اعلی منتظم ہیں سکول کے سربراہ کو انگریزوں نے پرنسپل کا نام دیا ہے اس کا لفظی معنی اصول کا ہے یعنی جتنا بااصول تعلیمی ادارے کے سربراہ کو ہونا چاہیے شاید کسی اور ادارے کے سربراہ کو ہو تعلیمی ادارے کا سربراہ سراپا اصول ہو تب پرنسپل کہلاتا ہے.اس ادارے کی بنیاد 1955ء میں رکھی گئی یہ پرائمری سے 1965ء کو مڈل بنا اور 1976ء کو ہائی بنا.ابھی یہ ڈی ایس ایس سسٹم کے ساتھ ہائر سکینڈری ہے.طلباء طالبات کی تعداد ہائی میں 265 اور ڈی ایس ایس پروگرام میں 119 ہے اس طرح یہ اپر چترال کے بڑے سکولوں میں شمار ہوتا ہے.علاقہ کھوت ایک وسیع علاقہ ہے یہاں تعلیمی لحاظ سے بیداری ہے اے کے ای ایس کا ہائی سکول، سالک پبلک سکول اینڈ کالج، زنانہ ہائی سکول ہونے کے باوجود یہ سکول اپنی ساکھ بحال رکھا ہوا ہے وہ لوگ جو سرکاری تعلیمی اداروں کا ناقد ہیں یہ ادارہ ان کے منہ پہ طمانچہ ہے اس ادارے کے اندر تعلیمی سرگرمیاں سب سے بہتر اور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے زنانہ ہائی سکول ہونے کے باوجود بچیاں یہاں پڑھ رہی ہیں فعال ہیڈ ماسٹر کے ساتھ مخلص محنتی اور قابل فیکیلٹی ہے یہ بارہ اساتذہ کا بے مثال گروپ ہے جس میں نجم الدین ناجی جیسے کھیلوں، انتظامات اور سرگرمیوں کا بادشاہ جاوید جیسے سٹیج کی دھنی سردار جیسے بیالوجی کا گرو اور ساتھ نوجوان ہیرے اور بزرگوں کا حلقہ ہے..یہ ہیرے تعداد میں اتنے کم ہونے کے باوجود اپنے آپ کو منوا چکے ہیں.یہ ادارہ تعلیمی عمل ہو، کھیلوں کے مقابلیہوں ادبی سرگرمیاں ہوں، نمایاں حیثیت سے اگے ہوتا ہے.اس میں منسٹیریل سٹاف اعلی منتظم اور فعال ہے بچے تربیت یافتہ اور اعلی کردار کے مالک ہیں مجھے ایک کلاس میں چند منٹ گزارنے کا اتفاق ہوا بچوں کی ڈسپلن دیدنی تھی ان کی انکھوں میں ان کا مسقبل روشن تھا.یہاں پر ہائر سکینڈری کی عمارت زیر تعمیر ہے کام چیونٹی کی رفتا سے ہے پتہ نہیں کتنے سال بعد عمارت بنے گی اور پھر سٹاف أکے ہائر سکینڈری کی کلاسیں شروع ہوں گی.ہمارے ہاں بد قسمتی یوں ہے کہ سیاسی ہاٴ ہو میں سارے کام ادھورے ہوتے ہیں اور ترقی خواب لگتی ہے.ہیڈ ماسٹر کا دفتر دعوت نظارہ دے رہا تھا دفتر کی خوبصورتی اور سجاوٹ سے ادارے کی عظمت نمایاں ہو رہی تھی.کہتے ہیں خوبصورت وہ جو خوبصورت کام کرے گویا کہ میرے مادر علمی کے سارے اساتذہ بچے اور پرنسپل خوبصورت ہیں میرے سامنے بسکٹ کے ساتھ چائے تھی گویا یہ عقیدت کی امرت تھی.میرے جیسوں کو عزت دینا اور ان کا احترام کرنا ان کا بڑا پن تھا کنکر کو موتی کہنا بڑا پن ہی تو ہے میرا مادر علمی میری پہچان ہے اللہ کرے یہ اسی طرح علم کے نور سے منور رہے