دھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”سارے رشتے خراج مانگتے ہیں”

Print Friendly, PDF & Email

لفظ”انسان” انس سے نکلا ہے انس کا معنی محبت ہے انسان ایسی مخلوق جو اکھٹا رہے آپس میں تعلق جوڑے اور محبت سے رہے۔۔کھوار زبان میں ایک ضرب المثل ہے کہ پرندہ اپنے پروں کے سہارے زندہ رہتا ہے اور انسان اپنے رشتوں کے سہارے۔۔بات ایک حد تک سچ بھی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اچھے خاصے رشتے بھی بغیر مطلب،لالچ اورطمع کے نہیں نبھاۓ جاتے۔فخر موجودات ص کی زبان مبارک سے جب توحید اور حق کی أواز بلند ہوئی تو ان کے خاندان کے ہی کئی بااثر افراد ان کی مخالفت پہ اتر أۓ۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ رشتوں کے یہ گھناونے خراج ہابیل اور قابیل سے شروع ہوا اور أج تک جاری ہے۔۔رشتے مفادات پہ قربان ہوتے رہے ہیں۔لالچ کی بھینٹ چھڑتے رہے ہیں اقتدار کی لالچ نے بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون ہوا۔باپ نے بیٹوں کو راہ سے ہٹاۓ ہیں۔ ماں نے بیٹیوں کو کچل دیا ہے۔۔ بیٹے نے باپ کا گلہ کاٹا ہے۔۔ یہی ان رشتوں کی تاریخ ہے۔رشتے بہت کم احترام کی ڈوری سے بندھے ہوتے ہیں جتنی ان کی اہمیت بیان کی جاتی ہے اتنی ان کی حیثیت سوالیہ نشان ہے۔سگی ماں کے دو بیٹے ہوں ایک ڈاکٹر اور دوسرا بے روزگار ہو تو ماں جی ڈاکٹر کو بیٹأ(ژاٶ)اور بے روزگار کو لونڈا(ڈق) کہہ کر یاد کرتی ہے بیٹا لفظ احترام کا ہوا اور لونڈا بیاحترامی کا۔۔ماں سے زیادہ عظیم رشتہ کونسا ہوگا وہ بھی گویا خراج مانگتا ہے کہ بیٹا ایسا ہو کہ اس سے امیدیں وابستہ ہوں باپ بیٹوں میں فرق کرتا ہے اس میں لالچ اور مفادت کی کھیپ شامل ہوتی ہے تابعداری بہت بعد میں أتی ہے۔دوستی کے رشتے کا صرف ایک یا عشاریہ ایک فی صد بے لوث ہوتا ہے اس لیے دوستی کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ دوست وہ جو مصیبت میں کام أۓ خون کے رشتوں میں سب سے خطرناک رشتہ بہن بھائیوں کا ہے یہ رشتے جتنے مضبوط ہیں اتنے کمزور بھی ہیں بھائیوں میں اگر کسی لحاظ سے مرتبے مقام کا فرق ہو تو یہ خوفناک بن جاتا ہے اسی وجہ سے بڑے چھوٹے کا فرق ختم ہوجاتا ہے فاصلے بڑھتے ہیں نفرتیں جنم لیتی ہیں۔قریب رہ کر بھی بہت ساری دوریاں اور شکستگیاں غود کر أتی ہیں مرتبے کے ہاتھوں رشتہ مٹ جاتا ہے یہ دنیاوی حیثیت ایک ڈرامہ ہے دھول ہے یہ آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے بے حیثیت بھائی مرتبے والے کو بھائی کہتے ہوۓ لرز جاتا ہے سہم جاتا ہے کہ کہیں گستاخی تو نہیں کی اور مرتبے والا بھائی دوسرے کو بھائی کہنے میں احتیاط کرتا ہے کہ کہیں اپنے مرتبے سے گر نہ جاۓ یہ اس رشتے کو اپنے ساتھ توہین تک سمجھتا ہے۔خون کے رشتے بڑے عجیب ہوتے ہیں یہ خراج نہیں وفا مانگتے ہیں۔بہت غور کرنے کی بات ہے کہ خالق کائنات نے اپنے پیاریحبیب ص کو بہن بھۖائی کے سگے رشتوں کے بغیر مبعوث فرماۓ۔بہن بھائی کا رشتہ بھی اکثرناپایدار ہوتا ہے بھائی بہن کا رشتہ سب سے پہلے بھلا دیتا ہے کہیں مخالفت پہ أجاۓ تو سگی بہن ماں جائی نہیں پرائی ہوجاتی ہے۔یہ سارے رشتے حقیقت میں خراج مانگتے ہیں احترام،مدد،حمایت،تابعداری،قبولیت،برداشت اور صبر کے خراج۔۔اگر رشتہ نبھانا ہے تو یہ سب کچھ کرنا ہوگا اگر بھائی کا رشتہ نبھانا ہے تو اس کی ہر کچ روی کو قبول کرنا ہوگا تمہارے لیے اس کی ہر برائی اچھائی،ہر جھوٹ سچ،ہر بے رخی حمایت ہوگی۔بہن کو بہن کہنے میں بہت ہمت کی ضرورت ہوگی اس کے ساتھ وفا کی راہوں میں چلنا ہوگا ان راہوں میں جابجا بچھے کانٹے ہی کیوں نہ ہوں ماں باپ کے ساتھ رشتے میں یہ سب کچھ بھولنا ہوگا کہ ان کے نزدیک تیری کیا اہمیت ہے۔بچوں کے رشتے میں اس فرق کو مٹانا ہوگا جو مرتبے کی بنیاد پر ہوں۔اسلام نے رشتوں کی اہمیت کو بہت اجاگر کیا ہے ہر ایک کی اپنی کیٹیگری ہے قران میں ماں باپ،اولاد،میاں بیوی،بھائی کا کسی نہ کسی حوالے سے ذکر ہے۔رسول مہربان ص نے سارے رشتے نبھا کے دیکھاۓ۔رشتے بے لوث نہ ہوں تو ان کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے رشتہ دار ایک دوسرے کو رشتہ دار کہنے سے کتراتے ہیں۔جب معاشرے سے اقدار مٹتے جائیں تو رشتوں کی اہمیت خود بخود ختم ہوتی جاتی ہے۔ایک افراتفری جنم لیتی ہے۔خاندان جو انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے جو تربیت کی درسگاہ ہے وہ مٹ جاتا ہے اگر یہ مٹ جاۓ تو قومیں ۖاپنی اصلیت کھو دیتی ہیں قران نے شعوب اور قباٸل کو أپس کی پہچان قرار دیا یہ شعوب اور قباٸل رشتوں کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں یہی ایک دوسرے کی پہچان ہیں اگر رشتوں کی بنیادیں ہل جائیں توانسان بکھر جاتا ہے۔ضروری ہے کہ ہر رشتہ بے لوث محبت اور خلوص و احترام کی بنیاد ہر ہو تب اس کو نبھایا بھی جا سکتا ہے ورنہ یہ خراج مانگتا اور بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے