الفاظ بھی وقت کے ساتھ اپنے معنی بدلتے ہیں کبھی معنی بدل کر محدود ہوتے ہیں کبھی پہلے سے زیا دہ وسیع معنوں میں استعمال ہو تے ہیں مثلاًتر کستان، بد خشان اور ہندوستان میں مُلا کا لفظ بہت بڑے مذہبی عالم، مصنف، فقیہہ اور دانشور کے لئے استعمال ہوتا تھا ملا علی قاری، ملا عبد الباقی ثا بت وغیرہ ایسے ہی مشہور شخصیات کے نا م تاریخ میں مذکور ہیں، اس طرح مولانا کا لفظ بر صغیر پا ک و ہند میں بنگا ل سے خیبر تک اخبار نویس، انشاپروازاور مضمون نگار کے نا م کا حصہ ہو تا تھا، مولانا حسرت مو ہا نی، مولانا محمد علی جو ہر وغیرہ ایسے نا م ہیں جو ادب کی تاریخ میں مذکور ہیں اس طرح طا لب کسی بڑے عالم کے شا گر د کو کہتے تھے پشتو میں جس طرح ہلک کی جمع ہلکان ہے اس طرح طالب کی جمع طالبان ہے گذشتہ چار دہا ئیوں میں ہماری آنکھوں کے سامنے طالب اور طالبان کو نئے معنی پہنا ئے گئے اور پرانے معنی بھلا دیئے گئے اسی طرح ثقا فت ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنی گذشتہ نصف صدی کے اندر محدود کر دیئے گئے بیسویں صدی میں ثقافت کا جا مع مفہوم یہ تھا کہ کسی قوم یا قبیلے کے رہن سہن کا جو طریقہ اور اسلوب ہو وہ ثقا فت کہلا تا تھا لبا س اور خوراک بھی ثقا فت کے اجزا میں شمار ہو تے تھے، مذہبی عبادات اور رسو مات بھی ثقا فت میں شامل تھے طرز تعمیر کو بھی ثقا فت میں گنا جا تا تھا، زراعت، گلہ با نی، دستکاری اور صنعت وحر فت، کھیل کو د اور فنون لطیفہ بھی ثقا فت کے اجزا تصور کئے جا تے تھے کسی قوم یا قبیلے کی اجتما عی دانش مل کر ثقا فت کا رو پ دھا ر لیتی تھی یہ ثقا فت کا وسیع تر اور جا مع تر مفہو م تھا با لکل اسی طرح جمہور کا لفظ بھی وسیع تر معنی میں استعمال ہوا کر تا تھا مسلمانوں کی تاریخ میں جمہور سے مراد جید علما اور فقہا کا طبقہ تھا جب لکھا جا تا تھا کہ اس مسئلے پر جمہور کا اتفاق یا اجما ع ہے تو اس کا مطلب یہ ہو تا تھا کہ جید علما ء اور فقہا نے اس پر اتفاق کیا ہے متقد مین کی یہ خو بی تھی کہ ان میں مسلکی، فقہی اور سیا سی لحا ظ سے الگ الگ گروہ نہیں تھے عبا سیوں کے دور میں معتزلہ کے نا م سے عقل پر ست گروہ پیدا ہوا، ابن عر بی نے وحدت الو جود کا پر چار کیا مگر جمہور کا مو قف غا لب رہا پھر وقت نے پلٹا کھا یا اسلا می مما لک کے اندر مغر بی افکار کو جگہ ملی، جمہور سے مراد عوام کی اکثریت قرار پا ئی عوام کی اکثریت معلوم کرنے کے طریقے وضع کئے گئے وقت گذر نے کے ساتھ جمہوریت کا مفہو م بدل گیا اکیسویں صدی میں بنگلہ دیش، بھا رت اور پا کستان میں جمہوریت کا مطلب زور زبر دستی ہے اکثریت کی رائے سے اس کا کوئی تعلق نہیں، ثقا فت نے معنی اور مفہوم کی کشتی میں جو سفر کیا اس سفر میں اپنے سارے معنی اور مفہوم کھو دیے اکیسویں صدی میں ثقا فت صرف مو سیقی، رقص اور گلو کاری کو کہا جا تاہے مسجد، محراب، منبر، لباس، مکان، خوراک، زراعت، گلہ بانی اور رہن سہن کے اسلو ب وانداز کو ثقا فت سے خا رج کر دیا گیا ہے پشتوکے دانشور سید تقویم الحق کا کا خیل کہا کر تے تھے کہ ثقا فت سے اس کا مفہوم چھین لیا گیا ہے اردو کے بزرگ دانشور مشفق خوا جہ نے لکھا ہے کہ ثقا فت کا لباس اتار کر اُسے ننگا کیا گیا ہے اور یہ کام کسی فرد نے نہیں کیا وقت اور حا لات نے ایسا کیا ہے، الفاظ بھی وقت کے ساتھ اپنا معنی اور مفہوم بدلتے رہتے ہیں جیسا کہ شاعر کا مصر عہ تھا ”ثبات اک تغیر کو ہے زما نے میں“
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



