مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ یہ” سسٹم ” کس چیز کا نام ہے ملک خداداد میں میں نے ہر طبقہ فکر و کارگزار کو یہ کہتے سنا ہے کہ” سسٹم “کمزور ہے خراب ہے Move نہیں کررہا Deliver نہیں کررہا..یہ سارے جملے سب کی زبانی سننے کو ملتے ہیں خواہ وہ ملک خداداد کا عدلیہ ہو مقننہ ہو یا انتظامیہ ہو.کلاس فور سے لے کو بہت بڑے افسر تک..ملک کے صدر اور وزیراعظم بھی دبی زبان سسٹم کو انہی فقروں میں یاد کرتے ہیں جب ہم طالب علم بن گئے تو موٹی کتابوں میں سسٹم کو تحریری صورت میں پایا..ان شقوں کو قوانیں کا نام دیا گیا تھا..پھر “أئین” نام کی ایک بڑی کتاب کا نام لیا گیا بتایا گیا کہ یہ ملک کا أئین ہے یہ ہر محکمے کے اصول اور قوانین ہیں..انہی قوانین کو پڑھ کر بندہ بڑی ڈگری لیتاہے.اعلی امتحانات پاس کرتا اور بڑا ذمہ دار بنتا ہے انہی امتحانات کی بدولت بندہ زندگی کے کسی شعبے کے لیے موزوں ہوتا ہے خواہ وہ چپڑاسی ہو افسر ہو سیاست دان ہو اب اس کی اولین ذمہ داری قوانین کی پاسداری ہے انہی قوانین کے اندر جو سرگرمیاں ہوتی ہیں ان کو سسٹم کہا جاتا ہے.ملک خداداد کے علاوہ جتنی بھی ترقی یافتہ اور زندہ قومیں ہیں ان کے ہاں یہی “سسٹم” زندہ ہے مضبوط ہے وہ فخر سے اس کو زندہ رکھے ہوئے ہیں.دنیا کا واحد مذہب اسلام ہے کہ اس کے اندر یہ سسٹم سب سے زیادہ جاندار شاندار اور مضبوط ہے اس میں کمپرومائز کی گنجائش نہیں عدل اور قانون کی بالادستی اسلام کی خوبصورت پہچان ہیں.فخر موجودات ص کی ایک حدیث مبارک کافی ہے کہ ” اگر میری بیٹی فاطمہ رض بھی چوری کرتیں تو محمد صلى الله عليه واله وسلم ان کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا ” ..قران عظیم الشان میں عدل انصاف سچائی اور پاکیزگی کی جابجا تعلیم ہے.اسی ایک قول پر غور فرمائی جائے کہ مومن ممکن ہے سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا نہیں..جو نام نہاد دانشور اسلام کو” مذہب” کہہ کر سیاست سے الگ کہنے کی بات کررہے ہیں ان کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ قرآن میں عبادات سے زیادہ معاملات کا ذکر ہے اگر اسلام صرف مذہب ہوتا تو قران میں میراث کا ذکر کیوں ہے طرز حکمرانی کے حدود کیوں ہیں.انسان کے گھریلو معاملات سے لے کر رزق حلال کے اصول کیوں وضع ہیں انداز معاشرت کیوں بتائی گئی ہے کیا ضرورت تھی کہ والدین کے احترام کا ذکر آتا چور کے ہاتھ کاٹنے شراب کی حرمت قصاص کے قوانین کا ذکر کیوں ہوتا..جھوٹ پر لعنت، بہتان، تہمت غیبت سے منع کیوں کیا جاتا ظلم کے خلاف تلوار اٹھانے کو “جہاد” کہہ کر عظیم نیکی میں شامل کیوں کیاجا تا..اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس لیے اس کے اندر “سسٹم” مضبوط ہے.اب سسٹم ملک کے باشندوں پر لاگو قوانین کا نام ہے ہر فرد کو اس سسٹم کے اندر رہتے ہوئے ان قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوتا ہے ورنہ سزا کا مستحق ہوتا ہے اس کو سزا دی جاتی ہے گویا ہر فرد سسٹم کا ستون ہیں بد قستی سے ملک خداداد میں الٹا گنگا بہتا ہے کسی سکول میں استاذ محترم سے کہا جائے کہ کلاس روم سے باہر کیوں ہو وہ کہے گا سسٹم خراب ہے میں پورے سسٹم سنوارنے کے لیے نہیں ہوں دیکھو فلان بھی باہر کھڑا ہے..کلاس فور کو گھنٹی وقت پر نہ بجانے پر سرزنش کی جائے وہ کہے گا سسٹم خراب ہے.سکول کا پرنسپل ہفتے میں ایک بار سکول آئے گا پوچھنے پر کہے گا سسٹم خراب ہیایک استاذ کو امتحانی ڈیوٹی پر بھیجا جائے گا استاذ ڈھیٹائی سے نقل کرائے گا پوچھنے پر کہے گا سسٹم ایسا ہے دفتر کے افسروں کے مخصوص بھتے اور حصے بخرے ہوں گے فی صد میں ہوں گے پوچھنے پر کہا جائے گا سسٹم ایسا ہے ٹھیکہ دار کمیشن دے کے ٹھیکہ لے گا کام خراب کریگا پوچھنے پر کہے گا سسٹم ایسا ہے سیاسی پارٹیاں رشوت اور اقربا پروری کا بازار سر عام گرم کریں گی پوچھنے پر سسٹم کو گالیاں دیں گی. عدالت میں ہندو، سکھ یا دوسرے مذہب کے ججز کا قلم انصاف لکھے گا لیکن مسلمان جج کا قلم انصاف نہیں لکھے گا اوپر سے سسٹم کو گالیاں دے گا کوئی وکیل ناحق کیس لڑے گا سسٹم کو برا کہے گا پولیس سر عام ناانصافی کرے گی سسٹم کو اڑپناہ بنائے گی اب میری سمجھ میں پھر بھی کچھ نہیں آتا کہ ان لوگوں سے کیوں نہیں پوچھا جاتا جو سسٹم کو گالیاں دے رہے ہیں کہ تمہیں سسٹم پر عمل کرنے سیروکا کس نے ہے؟ یہی سسٹم ہے جو تمہیں فسیلیٹیٹ کر رہا ہے مہینے میں جو مراعات اور تنخواہ لیتے ہو یہ اس سسٹم کو زندہ رکھنے اور ان قوانین پرعمل کرنے کا معاوضہ ہے جس کو تم گالیاں دے رہے ہو.جس کے اندر رہتے ہوئے تم بے غیرت ہو قانون شکن اور ملک و قوم کے غدار ہو تم اپنے بارے میں سوچتے کیوں نہیں ہو تمہاری جو ذمہ داری ہے اس میں جو قانون تم پہ لاگو ہے اس کی پاسداری کرو یہی سسٹم ہے تم سسٹم کو بھول جاتے ہواپنے اپ کو یاد کرتے ہوحالانکہ اس سسٹم کے اندر رہتے ہوئے تمہیں اپنے اپ کو بھول سسٹم کو یاد کرنا ہے کہ تم جو بھی ہو سسٹم کے قیدی ہو تم اپنے اپ کو بھول کر اپنی ساری کوتاہیاں سسٹم کے اندر ڈھونتے ہو..ہمارے ہاں سسٹم برائے نام ہے ہمارے ہاں وہی ہٹ دھرمی اور فرغونیت ہے جس کو انگریزوں نے ہمیں غلام بناتے ہوئے اپنایا تھا وہی ریاستی غلامی کا کلچر جس کا نیا نام “افسر شاہی ” ہے اگر ایک ذمہ دار افسر صبح اٹھ بجے کی بجائے دن بارہ بجے دفتر آتا ہے اور پھر سسٹم کو گالیاں دیتا ہے اسی دفتر میں اس کا سر کچلنا چاہیے تب سسٹم مضبوط ہو گا.اسلام میں سخت جرم کی سزا بھی اسی طرح سخت ہے ورنہ قصاص کو زندگی نہ کہا جاتا..
تازہ ترین
- ہوم*پرنس رحیم آغا خان کے دورہ لوئر چترال کے سلسلے میں آر۔پی۔او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کا تھانہ لٹکوہ اور دیدار گاہ گرم چشمہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ
- ہومچترال لوئر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر کی سیٹ سات ماہ سے خالی، عوام و کنٹریکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا
- ہومچترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی
- ہومڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ کی جانب سے چترال میں کام کرنے والے ادویات کے ڈسٹری بیوٹرز کے لیے ایک خصوصی آگاہی سیشن منعقد کیا گیا۔
- ہومنادرا موبائل ٹیم برائے آیون اور آیون وی سیز کا کردار قابل تعریف ہے، ٹیم کی خدمات سے سینکڑوں درخواست گزار مستفید ہوئے، آیون عوامی حلقے
- ہومڈسٹرکٹ جینڈر ایکولٹی فورم کے چیئرپرسن نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ نے محکمہ سماجی بہبود کے مینٹل ہیلتھ اور جینڈر بیسڈ وائلنس (GBV) ڈیسک کا دورہ کیا،
- ہومانجمن ترقی کھوار حلقہ چترال کے زیر اہتمام دنین کے مقام پر ایک مقامی ہوٹل میں عظیم الشان ادبی تقریب بعنوان “جشن آمین” منعقد ہوئی
- مضامینشیشے کے گھر میں سیاست: چترال کا گرم ماحول، الزامات اور حقیقت کی تلاش:بشیر حسین آزاد
- ہومگورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال کی صد سالہ (100 سالہ) جشنِ تاسیس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز جمعرات کے روز اجتماعی قرآن خوانی سے ہوا
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات۔۔سگے بھائیوں کا عذاب “



