دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔محمد جاوید حیات۔۔۔۔”عزت مآب وفاقی وزیر مواصلات کے نام“
ہمیشہ فلاحی ریاست کی تعریف عوام کی خدمت سے شروع ہوتی ہے اور خوشحالی اور امن و امان پر ختم ہوجاتی ہے۔قران عظیم الشان میں اللہ نے قریشی پر انعامات کا ذکر خوشحالی اور امن سے کیا ہے۔ریاست میں عوامی نما?ندے خدمت کے ل? ہوتے ہیں وہ سیاست کو خدمت اور عبادت سمجھتے ہیں اس ل? اقتدار میں عزت ہے۔ملک خداداد میں جمہوری حکومتیں سوالیہ نشان بنی رہی ہیں اس ل? کہ عوام بعض ایسی بنیادی سہولیات سے محروم رہے ہیں کہ ان کی پکار فریاد بن جاتی ہے اور یہ دھائی کہیں پہنچتی نہیں۔موجودہ دور ڈیجیٹل ہے مواصلات کی جدید سہولیات کا دور ہے اس ل? وزیر مواصلات بہت اہم ذمہ داری کا حامل ہے خوش آ?ند بات یہ ہے کہ موجودہ سیٹ اپ میں وزیر مواصلات ایک معتبر سیاسی اور مذہبی خاندان کا چشم و چراغ ہے ایک خدا ترس عالم دین ہے ان کو یقینا خدمت ذمہ داری اورآخرت کی فکر ہے وہ اقتدار کو امانت سمجھتے ہیں اس ل? ایک فریادی کی حیثیت سے اپنی فریاد بلکہ عوام کی دھا?ی ان تک پہنچانے کی جسارت کی جارہی ہے۔موجودہ دور الیکثرانک میڈیا کا تیز ترین دور ہے زندگی ڈیجیٹل بن گ? ہے۔سمارٹ فون نے انقلاب بھر پا کردیا ہے۔تمام ضروریات زندگی اسی کے ذریعیممکن ہیں۔تمام دفتری امور تمام تعلیمی امور تمام امتحانات تمام تعلیمی مواد سب آن لا?ن ہیں۔طالب علم انٹرنیٹ سے پڑھتا یے۔استاد اپنے مسا?ل کا حل اور نتیجہ انٹر نیٹ سے حاصل کرتا ہے انٹرنیٹ کی مدد سے تفویض کردہ کام نمٹا? جاتے ہیں۔تمام دفتری امور ای میل ٹکسٹ اور واٹس اپ کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ہارٹ ورک کا دور سمارٹ ورک میں داخل ہوگیا ہے اس ل? یہ سب سہولیات عوام اور ملک کے ل? ناگزیر ہیں۔ملک کیبیشتر دور دراز علاقوں میں یہ سہولیات میسر نہیں ہر طبقہ زندگی کے لوگ بے بس ہوکر رہ جاتے ہیں ان کی زندگیاں محرومیوں کا شکار ہیں۔طالب علم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں دفترمیں کام مہینوں تک نہیں ہو سکتے۔چترال جیسے پسماندہ علاقے میں نجی کمپنیوں ٹیلی نار جاز ورید وغیرہ کے نیٹ ورک ہیں خاص کر بہت دور دراز علاقوں میں صرف ٹیلی نار کی سول?یات ہیں مگر آہستہ آہستہ یہ علاقے نیٹ ورک سے محروم ہوگ? ہیں لوگ بے بس ہیں ہم مذکورہ کمپنیوں کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ ان دشوار گزار علاقوں میں اپنے ٹاورز نصب کی? لیکن آہستہ آہستہ ناقص نیٹ ورک کی وجہ سے عوام میڈیا کی سہولیات سے محروم ہوگ? ہیں۔آپ ایک ذمہ دار اور عوام کے درد رکھنے والے نما?ندے ہیں اس ل? اس مسلے کو ترجیحا حل کرنے پر توجہ فرما?یں تاکہ عوام آپ کو دعاو?ں میں یاد کریں۔ان کمپنیوں کی کارکردگی کا جا?زہ لیا جا? ان کے مسا?ل بھی حکومتی سطح پر حل کی? جا?یں تاکہ ان کے پاس کو?ی بہانہ نہ رہ جا?۔دور دراز علاقوں میں جو ٹاورز ہیں ان میں یا تو ایندھن پہنچا?ی نہیں جاتی یا ان میں کام سالوں سے ادھورے پڑے ہیں۔یہ ایک درینہ مسلہ ہے بچوں کی تعلیم اور ان کا قیمتی وقت ضا?ع ہو رہا ہے دفتروں میں کام نہیں ہو رہا اور جدید چلتی پھرتی زندگی ٹھہر سی جاتی ہے۔۔اسمبلی میں بھی اس درینے مسلیپر ایک ادھ آواز آٹھا?ی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک کی بد قسمتی یہ ہے کہ یہ آوازیں صدا بہ صحرا ہوتی ہیں ان پر نہ توجہ ہوتی یے نہ عمل ہوتا ہے۔۔آپ کی اچھی کاردگی اور اعلی شخصیت کو بنیاد بنا کر یہ فریاد کی جاتی ہے کہ اس مسلے کو فورا حل کرنے کا عزم کیا جا? اور عوام کو اس عذاب سے نجات دلا?ی جا? اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔۔۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



