داد بیداد۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی۔۔۔۔میری ڈاک
میری ڈاک سے اخبار کے نا م یا کا لم نگار کے نا م خطوط مراد نہیں یہ عنوان میری ڈاک لا نے اور لے جا نے والے کے لئے لا یا گیا ہے میرے گاوں میں میرے پڑ دادا کی زند گی میں 1895ء میں ڈاک کا نظا م آیا تھا میں نے چھٹی جماعت کی کتاب میں ایک خا تون کا قصہ پڑھا خا تون کا اکلو تا بیٹا دوسرے شہر سے اسکو بے رنگ لفا فے میں خط بھیج دیتا تھا وصو ل کرنے والے کو 2پنس دیکر اپنا خط لینا پڑ تا تھا یہ خط کا پوسٹ پیڈ سسٹم تھا خاتون بیٹے کا لفا فہ ہاتھ میں لیکر چھو نے کے بعد واپس کر دیتی تھی ایک بار ڈا کیے نے پو چھا تم اپنے بیٹے کا لفا طہ واپس کیوں کر تی ہو؟ خا تون نے جواب دیا، لفا فے کو دیکھ کر میری تسلی ہوتی ہے کہ بیٹا زندہ سلا مت ہے دو پنس ادا کر کے میں نے کیا کرنا ہے؟ ڈاکیہ کا نا م بھی آٹھویں جماعت کی کتاب میں ہم نے پڑھا تھا سبق میں ڈاکیے کی تصویر دی گئی تھی خا کی وردی تھی ہاتھ میں سرخ چمڑے کا دستی بیگ تھا ہمارے سکول میں جو ڈاکیہ آ تا تھا اُس کے ایک ہاتھ میں بھی ایسا ہی دستی بیگ ہوا کر تا تھا اس کے دوسرے ہاتھ میں بہت سارے کا غذ اور لفا فے ہو تے تھے، میری ساری ڈاک سر کاری ڈاک خا نے سے آتی ہے اور میں دوستوں کو جو کچھ بھیجتا ہوں سر کاری ڈاک خا نے سے ہی بھیجتا ہوں مجھے ہمیشہ ڈاک خا نے سے ایک شکا یت رہتی تھی کہ پرائیویٹ کورئیر کے مقا بلے میں مجھ جیسے لو گوں کو بہتر سروس کیوں نہیں دیتا؟ جو کا م نجی کمپنی کر سکتی ہے سر کاری ڈاک خا نہ وہ کام کیوں نہیں کرتا؟ مئی 2019ء میں میرے ملک اس سے بہتر سروس آسان طریقے سے ارزان نر خوں پر مہیا کرنے لگا ایک نو جواں پختون مراد سعید سوات سے آیا دوسری بار قو می اسمبلی میں پہنچا، وزیر موا صلا ت بنا اور اُس نے میرے خواب کو سچ کر دکھایا، میرے سامنے میرے پڑ دادا کے زما نے سے لیکر آج تک کے ریکارڈ کا پلندہ ہے میں بر صغیر کی برٹش گورنمنٹ کو داد دیتا ہوں جنہوں نے جون 1895ء میں ملا کنڈ سے چترال اور گوپیس، گلگت تک شندور کے راستے ڈاک کا سلسلہ متعارف کرا یا پہلا ڈاک خا نہ فو جی چھا ونی کے سپلا ئی میں قائم ہوا جس کو کا می سیریٹ کہتے تھے 1937میں زلزلہ آیا تو ڈاک خا نہ منہدم ہوا، پو لیٹکل انتظا میہ نے اپنے دفترات میں ڈاک خا نے کو جگہ دی اور تجویز دی کہ زمین خرید کر اپنے لئے الگ دفتر تعمیر کرو 1956ء میں 600روپے میں 6کنا ل 10مر لے کی زمین خریدی گئی، 1964ء میں 55ہزار روپے کی لا گت سے ڈاک خا نے کی عما رت اور رہا ئش مکا نا ت کی تعمیر کا کام شروع ہوا، زمین کا نصف حصہ محکمہ ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف کو دیا گیا با بو شیر عزیز خا ن اور ضیا ء الدین اس بات کے گواہ ہیں کہ 1967ء میں ڈاک خا نہ اپنی عما رت میں منتقل ہوا، رفتہ رفتہ تعمیرات میں اضا فہ ہوتا رہا اپر چترال میں بھی ڈاک خا نے کی عمارتیں تعمیر ہوئیں، ایسٹ ہاوسز بھی تعمیر ہو ئے مگر ڈاک کی تر سیل اور تقسیم کے نظام میں جدت نہیں آئی ارجنٹ میل سروس لا ئی گئی مگر وہ بھی پرا نی رجسٹری سے بہتر ثا بت نہیں ہوئی یہاں تک کہ مئی 2019 ء میں ڈاک خا نے کے ترسیل و تقسیم کے نظام کو نجی کورئیر کی طرح جدید سسٹم پر ڈال دیا گیا آناً فاناً پارسل بک ہو تے ہی مو بائل فون پر پیغام آنے لگا کہ آپ کا پارسل ریکارڈ پر آیا ہے مکتوب الیہ نے پارسل وصول کیا تو مو بائل فون پر پیغام آیا کہ آپ کا پارسل مکتوب الیہ کے دفتر یا گھر میں نصیر نا می شہری نے دستخط کر کے وصول کر لیا ہے 1937ء میں چترال سے خط 9دنوں میں شملہ پہنچتا تھا 1987ء میں چترال سے خط 29دنوں میں پشاور پہنچتا تھا 2019ء کے بعد چترال سے خط 3دنوں میں پشاور اور 5دنوں میں لا ہور پہنچنے لگا اب دوست ایک دوسرے کو بتا تے ہیں کہ پارسل اور خط پا کستان پوسٹ سے بھیجو جہاں لفا فہ بھی مفت ملتا ہے دو کتابوں کا پارسل 120روپے میں رجسٹری ہو جا تا ہے۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات
- مضامیندادبیداد – نظم و نسق کی کامیابی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
- ہومڈی پی او لوئر چترال کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد،،یہ کھلی کچہری بروزِ بدھ، شام 4:00 بجے پولیس سہولت مرکز زرگراندہ، لوئر چترال میں منعقد ہوگی
- ہومڈی پی او چترال اپر کی جانب سے ڈپٹی کمشنر محمد عمران خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب
- ہومچترال کے خوبصورت سیاحتی مقام گرم چشمہ کے نوجوان آرٹسٹ شیر احمد المعروف شیرو کی یاد میں علاقے کے ممتاز درسگاہ پامیر پبلک سکول اینڈ کالج میں ایک روزہ آرٹ ایگزبیشن کا انعقاد ک










