داد بیداد ،،،،،ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی،،،،،نیا تعلیمی سال
خیبر پختونخوا کی حکومت نے اعلا ن کیا ہے کہ نیا تعلیمی سال یکم اگست 2022سے شروع ہوگا اور 30اپریل 2023ء کو اس کا اختتام م ہوگا اب تک ہمارا تعلیم سال یکم اپریل سے شروع ہوتا تھا اگلے سال 31مارچ کو اس کا اختتام ہوتا تھا ہمارے تعلیمی سال 234میں حا ضریاں ہوا کر تی تھیں ان میں سے 75فیصد حا ضری لا زم قرار دی گئی تھی نئے تعلیمی سال کی ضرورت اس لئے پڑی کہ کورونا وبا کی وجہ سے تعلیمی ادارے کئی مہینوں تک بند رہے، تعلیمی سال متا ثر ہوا چنا نچہ یکم اگست سے 30اپریل تک 108حا ضریاں کم ہو جا ئینگی کم از کم حا ضریوں کی شرح میں اس تنا سب سے کمی آئیگی صو با ئی وزرائے تعلیم کی آن لا ئن کا نفرنس میں نصاب کو مختصر کرنے کا فیصلہ ہوا ہے چنا نچہ نئے تعلیمی سال کا نصاب بھی مختصر ہو گا امتحا نات بھی مختصر نصا ب سے لئے جا ئینگے یہ اسا تذہ اور طلبہ کے لئے ایک ازما ئش ہے دونوں کو نئے تعلیمی سال میں نئے نصاب کے مطا بق اپنے اسبا ق کا منصو بہ عمل بنا کر اس پر عمل پیرا ہونا پڑے گا اگر کورونا ختم نہ ہوا تو بعید نہیں کہ اگلے سال بھی یہی طریقہ رائج رہے گا اس مر حلے پر محکمہ تعلیم اور تعلیمی اداروں کے سر براہوں کے سامنے ایک چیلنج آتا ہے چیلنج یہ ہے کہ اب تک ہمارے ہاں نصاب کی جگہ نصا بی کتا بوں سے پڑھنے پڑ ھا نے کادستور رہا ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں نصاب کو سامنے رکھ کر تدریسی عمل میں نصاب سے کا م لینے کا دستور نہیں ہے اگر چہ او لیول، اے لیول یا آغا خا ن یو نیورسٹی ایجو کیشن بورڈ سے ملحقہ اداروں میں نصاب کے مطا بق تدریسی عمل آگے بڑھتا ہے تا ہم ان اداروں کا دائرہ بہت محدود ہے شا ید 5فیصد سے بھی کم ہو گا 95فیصد سے زیا دہ پر نصابی کتابوں کا را ج قائم ہے اگر حکومت نے نصاب میں 30فیصد کٹو تی کا حکم دیا تو نصا بی کتا بوں سے کٹو تی کرنے کی کوئی تُک نہیں بنتی نصاب سے رجو ع کرنا ہو گا ہر تعلیمی ادارے کے سر براہ کو نصاب اپنے سامنے رکھ کر سر کاری ہدایات کی روشنی میں 70فیصد یا اس سے کچھ کم یا زیا دہ پڑھا نا ہو گا اگر نصاب کو سامنے نہیں رکھا گیا تو کمی یا بیشی کا حساب نصا بی کتا بوں میں نہیں ہو سکیگا نصاب ایک شا ہراہ ہے جس پر سفر کرتے ہوئے استاد کتابوں سے مدد لیتا ہے نصاب میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اردو زبان کے قوا عد اور گرامر کس جما عت میں پڑھا ئے جا ئینگے؟ اردو ادب کس جما عت سے شروع ہو گا؟ ادب میں حمد، نعت، قومی نظمیں کس جما عت میں پڑ ھا ئی جا ئینگی، غزل، مثنوی مراثی اور دیگر نظمیں یا نثر میں نا ول، افسانہ، تنقید کس جما عت میں پڑھا ئے جائینگے؟ ہر مضمون کے لئے نصاب میں ہر جماعت کا ایک اشارہ دیا جا تا ہے اس اشارے کی مدد سے نصا بی کتا بیں تیار کی جا تی ہیں اب نصابی کتا بوں کو چھوڑ کر براہ راست نصاب سے مدد لینا تعلیمی اداروں کے سر براہوں کے لئے ایک چیلنج، آزما ئش یا امتحا ن ہے آنے والے 5مہینوں میں نصاب پر کام کر کے نصاب کی روشنی میں طلبہ کے لئے نمو نہ اسباق تیار کرنے پر دل جمعی کے ساتھ کا م کرنے کی ضرورت ہو گی ایسا نہ کیا گیا تو تعلیمی سال کا ضیا ع ہو گا۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات
- مضامیندادبیداد – نظم و نسق کی کامیابی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
- ہومڈی پی او لوئر چترال کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد،،یہ کھلی کچہری بروزِ بدھ، شام 4:00 بجے پولیس سہولت مرکز زرگراندہ، لوئر چترال میں منعقد ہوگی
- ہومڈی پی او چترال اپر کی جانب سے ڈپٹی کمشنر محمد عمران خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب
- ہومچترال کے خوبصورت سیاحتی مقام گرم چشمہ کے نوجوان آرٹسٹ شیر احمد المعروف شیرو کی یاد میں علاقے کے ممتاز درسگاہ پامیر پبلک سکول اینڈ کالج میں ایک روزہ آرٹ ایگزبیشن کا انعقاد ک










