چترال لٹکوہ کے عوام کی طرف سے سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں مسلسل حکومتی عدم دلچسپی اورتاخیر کے خلاف جاری احتجاجی دھرنا اور روڈ بندش کی چترال کے کئی سول سوسائٹی تنظیمات نے بھر پور حمایت کی ہے.

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نما یندہ چترال میل) چترال لٹکوہ کے عوام کی طرف سے سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں مسلسل حکومتی عدم دلچسپی اورتاخیر کے خلاف جاری احتجاجی دھرنا اور روڈ بندش کی چترال کے کئی سول سوسائٹی تنظیمات نے بھر پور حمایت کی ہے۔ اور مطالبہ کیا ہے۔کہ لٹکوہ کے عوام کی مشکلات کا آزالہ کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ اور کام شروع کیا جائے۔ چترال پریس کلب میں گذشتہ روز چترال ڈویلپمنٹ فورم کے چیرمین و قاص احمد ایڈوکیٹ و کابینہ کے دیگر ارکان مولانا اسرار الدین الہلال، لیاقت علی خان، شبیر احمد، شاکر، قاری نسیم احمد، بشیر احمد صدر تجار یونین چترال محمد عیسی کریم آباد ڈویلپمنٹ فورم مکرم شاہ، وقار احمد اور ولی الرحمن نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرین سے بھر پور یکجہتی کا اظہارکیا۔ اورکہا۔ کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے۔ کہ لٹکوہ جیسے کارباری اور سیاحتی آمدنی والے علاقے کی سڑکیں اورپلیں ٹوٹ پھوٹ کا شکارہو چکی ہیں۔ چومبور پل دو مہینے پہلے ٹوٹ جانے پر مقامی لوگوں نے اس کی مرمت کی۔ لیکن این ایچ اے اور حکومت کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی۔ اسی طرح کریم آباد روڈ،، شغورپل کا تین تین بار افتتاح کیا گیا۔ لیکن ابھی تک کام کا نام و نشان نہیں ہے۔ چیرمین سی ڈی ایم وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہا۔کہ اس حوالے سے این ایچ اے کے اعلی حکام کو حالات کے باریمیں باربار آگاہ کیا جا چکا ہے۔ لیکن کوئی بھی ذمہ دار اس کی طرف توجہ نہیں دے رہا۔ مجبورا لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ اور احتجاج پر اتر آئیہیں۔ اور منفی 7 ڈگری میں بڑی تعدادمیں مظاہرین دھرنا دے چکے ہیں اور روڈ مکمل طور پر بند ہے۔ جس سے مریضوں، ملازمین اور خواتین و طلبہ کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ گرم چشمہ اور اطراف کے بازاروں میں اشیاء و خوردو نوش ختم ہو چکیہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ افسوسناک امر یہ ہے۔ کہ این ایچ اے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سامنے ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بول رہا ہے۔ کہ سڑکوں پر کام جاری ہے۔ حالانکہ سڑکوں کی حالت پہلے سے بھی مخدوش ہے۔ انہوں نے اس بات کو افسوسناک قرار دیا کہ وزیر اعلی کے دورہ چترال کے موقع یونیورسٹی روڈ پر مشینری پہنچائی گئی۔ اور وزیر اعلی کے ٹیک آف ہوتیہی مشینری واپس لے جائیگئے۔ اور لوگوں و ی کو بیوقوف بنایا گیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ گرمچشمہ روڈ، آرکاری روڈ اور ایون روڈ اور شندور روڈ کی زمین کے معاوضے کیلئے ایک روپیہ فنڈ نہیں دیا گیا۔ جبکہ مسلسل جھوٹ بولا جارہا ہے۔ کہ روڈز کا افتتاح کیا جا چکا ہے۔ پریس کانفرنس میں اس امر کا اظہار کیا گیا۔ کہ موجودہ کھنڈر روڈ پر خدا نخواستہ حادثات ہوئے۔ تو این ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا۔ کہ گرم چشمہ روڈ کے حوالے سے اگر حکومت کا رویہ اسی طرح رہا۔ تو مظاہرین اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے پرمجبورہوں گے۔ انہوں نے کہا۔ کہ چومبور پل، گرم چشمہ روڈ، شغور پل، کریم آبادروڈ اور روجی پل پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے۔