چترال (محکم الدین) حکومت خیبر پختونخوا کے ڈیپارٹمنٹ آف سپورٹس، کلچر، آثار قدیمہ و امور نوجوانان نے قدیم کالا ش تہذیب و ثقافت کے تحفظ کیلئے تینوں کالاش وادیوں میں بیس کنال زمین خرید لی ہے۔ کالاش وادیاں ہزاروں سال قدیم تہذیب و ثقافت کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ اور عالمی سطح پر ان کی تاریخی و آثاریاتی اہمیت ہے۔ لیکن اس قدیم تہذیب کے حامل قبیلے کے پاس قبرستان (مڈوکجال) کیلئے جگہیں ختم ہو چکی تھیں۔ اور چھارسو (ڈانسنگ پلیس) بھی بہت محدود رہ گئے تھے۔ اس لئے عرصے سے نئے قبرستان کیلئے زمین کی خریداری اور چھارسو کی توسیع کی ضرورت محسو س کی جا رہی تھی۔ جس کیلئے بیس کنال زمین خرید لی گئی ہے۔ جن میں کراکاڑ بمبوریت میں قبرستان کیلئے 3کنال، برون قبرستان کیلئے 4کنال، ڈانسنگ پلیس بتریک بمبوریت کی توسیع کیلئے 4کنال، بیہاڑ بریر قبرستان کیلئے ڈیڑ ھ کنال، ڈانسنگ پلیس کیلئے 0.30کنال، بڑانگورو رمبور ڈانسنگ پلیس کیلئے 3.35 کنال، بھٹیٹ رمبور کیلئے 2کنال، بتریک قبرستان کیلئے 1.5 کنال و 0.16کنال اور کالاشگرام کیلئے 0.28 کنال شامل ہیں۔ جن کی مجموعی مقدار 20 کنال بنتی ہے۔ کالاش قبیلے کے قبرستان ختم ہو چکے تھے۔ اور قبیلے کے انجہانی میتوں کو دفنانے میں بہت مشکلات درپیش تھیں۔ جس کیلئے معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ کی کوششوں سے وزیر اعلی کے خصوصی احکامات کے تحت ڈیپارٹمنٹ آف سپورٹس، آرکیالوجی و میوزیم نے یہ زمین خرید کر قبیلے کے حوالے کی۔ کالاش قبیلے میں تقریبا ایک سو سال قبل مردوں کو زمین میں دفنانے کا طریقہ شروع ہوا۔ جبکہ اس سے قبل کالاش قبیلہ اور شیخان قبیلے کے لوگ مردوں کو لکڑی کیتابوت میں رکھ کر زمین کے اوپر ہی رکھ دیتے تھے۔ لیکن اس سے ماحولیاتی مسائل پیدا ہوئے اور مردوں کے ساتھ تابوت میں رکھے جانے والے روایتی سامان محفوظ نہیں رہے۔ اس لئے دفنانے کو بہتر سمجھا گیا۔ کالاش ویلی بمبوریت کے کراکاڑ گاوں میں قدیم قبرستان آثار قدیمہ کی صورت میں موجود ہے۔ جس میں زمین کے اوپر کئی تابوت پڑے ہیں۔ جن میں انسانی ڈھانچے کے باقیات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اب اس قبرستان میں دفنانے کیلئے کوئی جگہ خالی موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے قبیلے کو انتہائی مشکلات درپیش تھیں۔ کالاش قبیلے کے عمائدین اور لوگوں نے قبرستان اور مذہبی تہوارچلم جوشٹ اور چترمس کیلئے زمین خریدنے پر وزیر اعلی محمود خان، معاون خصوصی وزیر اعلی برائے اقلیتی امور وزیرزادہ اور ڈیپارٹمنٹ آف سپورٹس، کلچر، آرکیالوجی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اور اسے حکومت اور وزیر زادہ کی طرف سے کالاش قبیلے کیلئے عظیم تحفہ قرار دیا ہے۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



