کوئی یقین کرے یا نہ کرے لیکن یہ حقیقت ہے کہ چترال میں پی ٹی سی ایل کے 15مختلف علاقوں میں واقع ٹاؤرز کی حفاظت پر مامور ملازمین کی تنخواہ صرف اور صرف 8ہزار روپے ہے.

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نما یندہ چترال میل) کوئی یقین کرے یا نہ کرے لیکن یہ حقیقت ہے کہ چترال میں پی ٹی سی ایل کے 15مختلف علاقوں میں واقع ٹاؤرز کی حفاظت پر مامور ملازمین کی تنخواہ صرف اور صرف 8ہزار روپے ہے جس سے وہ اپنے گھر سے دور واقع ڈیوٹی کے مقام پر کھانے کا انتظام اورموسم سرما میں حرارت کا انتظام بھی اسی قلیل رقم سے کرنے پر مجبور ہیں لیکن بے روزگاری کے خوف سے وہ کچھ حرف شکایت زبان پر لانے سے بھی قاصر ہیں۔ مختلف مقامات پر تعینات سیکورٹی گارڈوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیاکو بتایاکہ چترال بھر میں ان ٹاؤرز میں 48افراد کو سیکورٹی کے نام پر مامور کئے گئے ہیں لیکن ان سے جنریٹر اپریٹر اور پورٹر کا کام بھی لیا جاتا ہے کیونکہ بلند مقامات پر واقع ان ٹاؤرز میں جنریٹر کے لئے تیل سمیت دوسرے اشیاء پہنچانا بھی ان ہی کے ذمے ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ان ملازمین میں سے اکثریت ملازمت کی طوالت 10سال ہے اور وہ گزشتہ دس سالوں سے یہی 8000روپے تنخواہ لے رہے ہیں جس میں ایک پائی کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس قلیل تنخواہ کی ادائیگی بھی ملازمین کو بروقت کبھی نہیں ہوئی اور مہینے کی 12تاریخ سے پہلے تنخواہ لینا کسی کو بھی یاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہر سال مزدور کے لئے اجرت میں اضافے کا اعلان کرتی ہے جوکہ اس سال 17ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے لیکن یہ اعلانات صرف بجٹ اجلاسوں میں تقریر کے لئے ہی ہوتی ہے جس پر عملدرامد کوئی نہیں کرا تا۔