چترال(بشیر حسین آزاد) جرمن ایڈ کا منصوبہ ناکام ہونے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ روز بروز زور پکڑرہا ہے۔واقعات کے مطابق چترال کے پیریڈ گراونڈکو جرمن امداد سے بین الاقوامی این جی اوWISHنے گذشتہ سال 6کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیاتھا ابھی اُس کے تعمیرکے8مہینے بھی نہیں گذرے تھے کہ تماشائیوں کے بیٹھنے کی جگہ اُکھڑ کر برباد ہوچکی ہے۔نالیاں تباہ ہوچکی ہیں اور گھاس جگہ جگہ سے اکھڑ گئی ہے حالانکہ جرمن ادارے نے50سال کی گارنٹی دی تھی۔چترال میں کھیلوں کے شعبے سے تعلق رکھنے والے حلقوں نے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس،کمشنر ملاکنڈ اور ڈسٹرکٹ پولیس افیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال کے تاریخی پیریڈ گراونڈ کی بربادی کے زمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے۔چترال کا واحد پیریڈ گروانڈ 1938ء میں ہزہائی نس ناصر الملک نے تعمیر کرایا تھا شاہی قلعہ اور شاہی مسجد کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے شاہی پیریڈ گراونڈ کہلاتا تھا1970تک یہ گراونڈ چترال پولیس کی تحویل میں رہا1970ء میں صوبائی محکمہ تعلیم نے یہ گراونڈ ہائی سکو ل چترال کے لئے مہتر چترال سے خریدلیا اس کے بعد سکول گراونڈ کہلاتا تھا2017ء میں ہائی سکول کی انتظامیہ نے جرمن ایڈ کے ذریعے انٹرنیشنل این جی اوWISHکے ذریعے اس کی تعمیر کا معاہدہ کیا2019ء میں تعمیراتی کام مکمل ہوا تو کھیلوں کی کئی تنظیموں نے تعمیراتی معیار پر تحفظات کا اظہار کیا مگر ان کی بات سنی ان سنی کردی گئی۔تکمیل کے پہلے سال ہی فرش کا اکھڑ جانا اور دیواروں کا کریک ہوجانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ تعمیراتی کام میں بڑء گھپلے ہوئے۔چترال میں کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں نے سکول گراونڈ کی تعمیر میں ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اس امرکی ضرورت پر زور دیا ہے کہ اس بدعنوانی میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کیا جائے اور شائقین کی دلچسپی کے لئے سکول گراونڈ کی فوری بحالی کے لئے فنڈ مختص کئے جائیں۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے نوجوانوں کو صحت مند تفریح کے لئے بہترین گراونڈ مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن سٹیڈیم کا وعدہ پورا نہیں ہوا پولو گراونڈ کے تاریخی چپوترے کو اکھاڑ کربرباد کردیا گیا اب سکول کے گراونڈ کی بربادی نے رہی سہی کسر پوری کردی۔سپورٹس کے حلقوں نے انٹی کرپشن اور نیب کے ذریعے سکول گراونڈکے تعمیراتی گھپلے کی تحقیقات اور تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



