حزب اقتدار کے ساتھ اپوزیشن یا حزب اختلاف کو حکومت کا دوسرا پہیہ کہا جا تا ہے دونوں پہیئے درست کام کریں تو حکومت عوامی توقعات کے مطا بق کام کرتی ہے دوسرا پہیہ کام نہ کرے تو صرف حزب اقتدار ایک پہیئے پر حکومت نہیں چلا سکتی اس لئے دو نوں کا ایک دوسرے کے مقا بل ہو نا بہت ضروری ہے اس کو جمہوری حکومت کی پہلی شرط بھی کہا جا تا ہے گزشتہ روز اخبارات میں پا کستان کے اندر حزب مخا لف کی جماعتوں کے اتحاد کی خبر شائع ہو ئی تو محب وطن حلقوں نے اس پر خو شی کا اظہار کیا البتہ پا کستان کو کمزور دیکھنے کی تمنا کرنے والے گروہ بہت نا راض ہوئے ہمارے وہ دوست جنکو ہم نا م سے جانتے ہیں گمنام اکاونٹ استعمال کر کے اپو زیشن اتحاد کو ”کرپشن بچاؤ“ اتحاد کا نا م دیتے ہیں ہم نے ان کے جعلی اکا ونٹس کو بھی آسانی سے پہچان لیا فارسی کا شاعر کہتا ہے ؎
بہررنگے کہ خواہی جا مہ می پو ش
من انداز قدت رامی شنا سم
تم جس رنگ کے کپڑے پہننا چاہو، پہن لو، میں تمہیں کپڑوں سے نہیں تمہارے قد سے پہچانتا ہوں چنا نچہ ایسا ہی ہوا حزب اختلاف حکومت میں نہیں ہے اس لئے اس کی الگ شنا خت ہے اور اتحاد نہ بھی کرے تما م عملی مقا صد کے لئے ایک ہی ہے چند دنوں کے اندر قو می اسمبلی میں فو جی عدا لتوں میں تو سیع کا بل آنا ہے اس بل کو منظور کر کے ایکٹ کی صورت میں نا فذ کر نا ہے اس مقصد کے لئے حکمران جما عت کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے کو شش کرنے والے اس کوشش میں تھے کہ مسلم لیگ (ن)،پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل میں سے کسی بھی پارٹی کے ار کان کو لا لچ دے کر تو ڑا جا ئے اور مطلوبہ اکثریت حا صل کی جائے اپوزیشن لیڈروں نے نو ٹو ں کے بریف کیس لیکر ایم این اے ہا سٹل کی راہداریوں میں گھومنے والے نا معلوم افراد کو بار بار دیکھا ایک صا حب کا نا م سب کو معلوم تھا اُن سے پو چھا گیا۔ اتنی رات گئے کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے غا لب شنا سی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ؎
بدل کر فقیروں کا ہم بھیس غا لب
تما شا ئے اہل کرم دیکھتے ہیں
یہ بات تفنن طبع کے لئے بیچ میں لائی گئی ورنہ مو صوف کچھ لینے کی جگہ کچھ دینے آئے تھے اپوزیشن نے ایسے فقیروں کا راستہ روکنے کے لئے اتحا د بنا یا تو اتحا د اُن کو نا گوار گزرا بقول فیض ؎
وہ بات سارے فسانے میں جس کا نہ تھا ذکر
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے
میں نے سو شل میڈیا پراپنے ایک دوست کی رائے پڑھ کر تعجب کا اظہار کیا تو میرے ساتھیوں نے کہا تعجب کی کوئی بات نہیں جب تک پنشن لے رہا ہے نمک حلا لی کا ثبوت دیتا رہے گا ان صا حب کا کہنا تھا کہ ”اپوزیشن کا اتحاد ملک اور قوم کے لئے خطرہ ہے“ میں نے اس جملے کی طرف توجہ دلائی تو ساتھیوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ”ملک سے مراد ان کا اپنا گھر اور قوم سے مراد اُن کی اپنی الاد ہے“ یہ لو گ پا کستان کو ملک اور پا کستا نیوں کو قوم کا درجہ کبھی نہیں دیتے 1964ء کے صدارتی انتخا بات میں شعیب سلطان خان پشاور کے ڈپٹی کمشنر تھے ان کی سوانخ عمر ی دی مین ان ہیٹ (The Man in hat) کے نام سے آسٹریلیوی مصنف نول کزنس
(Noal Cussins) نے لکھی ہے سوانخ عمری میں انتخا بات کا باب بھی آیا ہے شعیب سلطان خان کہتے ہیں کہ تمام ڈپٹی کمشنروں کو بلا کر حکم دیا گیا کہ ”تمہارے دائرہ اختیار میں ملک اور قوم کے غدار بھارتی ایجنٹ مس فاطمہ جنا ح کا ایک بھی ووٹ نکل آیا تو تمہاری خیر نہیں ہو گی“یہاں مس فا طمہ جنا ح کو غدار اور ملک دشمن کیو ں کہا گیا؟ ملک سے مراد ایک ڈکٹیٹر کا گھر تھا اور قوم سے مراد ایک ڈکٹیٹر کی اولاد تھی اب بھی اپو زیشن کے اتحاد کو وطن سے غداری اور ملک دشمنی کا نا م دیا جارہا ہے تو بات تا ریخ کے وسیع تر تنا ظر میں دل کو لگتی ہے ڈکٹیٹر شپ کی راہ میں جو بھی روڑے اٹکا ئے گا اس کو وطن دشمن، ملک دشمن، کرپٹ، بد عنوان اور غدار قرار دے کر مقا بلے سے با ہر کیا جائے گا پاکستانی قوم ایک عر صے سے اس انتظا ر میں تھی کہ یہاں دو پارٹیوں کا جمہوری نظام ہو نا چا ہئیے اپو زیشن کے اتحا د نے دو جما عتی نظام کی طرف پیش رفت کا مثبت اشارہ دیدیا ہے اس وقت دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کو مسا ئل در پیش ہیں امریکہ میں حزب اختلاف نے بجٹ اور فنانس بل پرپاوں رکھ دیا ہے حکومت مفلوج ہو چکی ہے مگر خزب اختلاف کو غدار یاملک دشمن نہیں کہتی بر طا نوی دار لعوام کے اندر حزب اختلاف نے یورپی یونین سے اخراج کے قا نون بریگزٹ (Braxit)کو ختم کر دیا ہے حکمران جماعت مشکلات سے دو چار ہے اس کے باوجود حزب اختلاف کو غدار اور ملک دشمن کا طعنہ نہیں دیتی یہ جمہوریت ہے اچھی خبر یہ ہے کہ مخصوص گروہوں کی طرف سے شدید دباؤ اور مخا لفت کے باؤ جود اپو زیشن کا اتحا د عمل میں آچکا ہے اور یہ ملک و قوم کے لئے نیک شگون ہے ؎
پھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پا لے ہیں
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات
- مضامیندادبیداد – نظم و نسق کی کامیابی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
- ہومڈی پی او لوئر چترال کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد،،یہ کھلی کچہری بروزِ بدھ، شام 4:00 بجے پولیس سہولت مرکز زرگراندہ، لوئر چترال میں منعقد ہوگی
- ہومڈی پی او چترال اپر کی جانب سے ڈپٹی کمشنر محمد عمران خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب
- ہومچترال کے خوبصورت سیاحتی مقام گرم چشمہ کے نوجوان آرٹسٹ شیر احمد المعروف شیرو کی یاد میں علاقے کے ممتاز درسگاہ پامیر پبلک سکول اینڈ کالج میں ایک روزہ آرٹ ایگزبیشن کا انعقاد ک










