چترال (نمائندہ چترال میل) 7دسمبر2016ء کوایبٹ آباد کے قریب حویلیاں میں چترال سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 661کے حادثے میں شہید ہونے والوں کی یاد میں تقریبات منعقدہ ہوئے جبکہ مساجد میں قرآن خوانی اور نماز جمعہ کے اجتماعات میں خصوصی فاتحہ خوانی بھی ہوئی۔ طیارے کے حادثے میں شہید ہونے والے چترال کے مقبول عام ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑائچ سے منسوب چترال بونی روڈ پر واقع اسامہ وڑائچ پارک میں یادگار شہداء پرمنعقد خصوصی تقریب میں ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود، ڈی پی او فرقان بلال اور چترال سکاوٹس کے کمانڈنٹ کی طرف سے پھولوں کے ہار یاد گار پر چڑہائے گئے جبکہ چترال لیوی اور پولیس کے چاق وچوبند دستوں نے سلامی دی۔ بعدازاں شہید اسامہ وڑائچ کیرئر کوچنگ اکیڈمی میں منعقدہ ایک اور تقریب میں ڈی سی چترال خورشید عالم محسود مہمان خصوصی تھے جبکہ گورنمنٹ گرلز کالج چترال کے پرنسپل پروفیسر مسرت جبین نے صدارت کی جبکہ سیٹلمنٹ افیسر سید مظہر علی شاہ، پی ٹی آئی کے رہنما سرتاج احمد خان، کوچنگ اکیڈمی کے کوارڈینیٹر فداء الرحمن، جہاز کے حادثے میں شہید ہونے والے سلمان زین العابدین کے چھوٹے بھائی نعمان نے خطاب کیا جبکہ شہید جنید جمشید کی بیوہ اور اسامہ شہید کے والد پروفیسر ڈاکٹر فیض احمد وڑائچ نے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خورشید عالم محسود نے کہاکہ دوسروں میں خوشیاں بانٹنے اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والے ہی زندگی میں خوش رہتے ہیں اور یہی دوسرے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز ہوکر ان کے دلوں میں اپنے لئے جگہ پاتے ہیں اور شہید اسامہ احمد وڑائچ نے عملی طور پر یہ سبق ہمیں دے دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری افسران کے آنے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن چترال کے لوگوں میں اسامہ شہید کے لئے عزت وتکریم دیکھ محسوس ہوتا ہے کہ اس نے کس انداز میں یہاں لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور ان کی آرام وراحت کے لئے دن رات کام کیااور یہ اعلیٰ مقام انہوں نے لوگوں کی خدمت کے ذریعے حاصل کی۔ انہوں نے کہاکہ اسامہ شہید کو بہتریں انداز میں خراج تحسین پیش کرنے کی صورت یہ ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کے دکھ کو اپنا دکھ تصور کرکے ان کے مسائل حل کرنے کوشش کریں۔ دوسرے مقرریں نے اس دلگداز واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اسے چترال کی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش واقعہ قراردیا جو کہ ہر سال پوری وادی کو سوگوار کرتی رہے گی۔ اس موقع پر اکیڈمی کی طرف سے زندگی کے مختلف شعبوں میں بہتریں خدمات سرانجام دینے پر مختلف شخصیات کو تعریفی اسناد سے نوازے گئے جن میں پروفیسر اشرف الدین مرحوم (تعلیم)، نصرت جبین، عمران الدین(سوشل سروس)، صدر چترال پریس کلب ظہیر الدین اور چیف ایڈیٹر چترال ٹائمز ڈاٹ کام (میڈیا)، ڈاکٹر رکن الدین، ڈاکٹر گلزار احمد، ڈاکٹر سمیع اللہ (طب)، پروفیسر مسرت جبین، پروفیسر شفیق احمد، کمال الدین، مظفر الدین، ڈاکٹر رضیہ (تعلیم)،شہزادہ سکندر الملک، معیز الدین بہرام (کھیل) شامل تھے جبکہ ڈی۔سی وولنٹئر ز ٹاسک فورس کے رضاکاروں کو بھی اسناد دئیے گئے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال منہاس الدین بھی ان تقریبات میں موجود رہے۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



