چترال (نمائندہ چترال میل) تور کہو کے مقام واشچ میں خستہ حال پُل عبور کرتے ہوئے جیمنی سوزوکی دریا تور کہو میں جا گری ۔ جس سے دو افراد جان بحق تین زخمی ہوگئے ۔ حادثے میں باپ جان بحق بیتا زخمی ہوا۔ تفصیلاات کے مطابق جیمنی سوزوکی نمبر A1 – 5206 جسے سعید الرحمن چلا رہا تھا۔ زنگ لشٹ تورکہو میں اپنے رشتہ داروں سے عید ملنے کے بعد بیٹا وجیہ الرحمن اور دیگر افراد کو لے کر اپنے گھر واشچ جارہاتھا۔ کہ گاؤں کے قریب پُل عبور کرتے ہوئے بے قابو ہوکر دریائے تورکہو میں جا گری۔ جس کے نتیجے میں مسمی سعید الرحمن ولد حکیم نایاب اور واجد ولد محب الرحمن ساکنان واشچ جان بحق اور وجیہ الرحمن ولد سعیدالرحمن، یورمس مراد ولد جم شاہ ساکنان واشچ اور ضیاء الرحمن ولد میر صوات خان ساکن زنگ لشٹ زخمی ہوئے۔ جان بحق اور زخمیوں کو مقامی رضاکار نوجوانوں نے دریائے تورکہو سے نکا لا۔ جبکہ زخمیوں کو آر ایچ سی شاگرام تورکہو میں داخل کر دیا گیا ہے۔ چترال کے بالائی علاقوں میں دریاء کے اوپر پُل انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ اس لئے ان پُلوں پر حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ خصوصا 2015 کے سیلاب سے متاثرہ کئی پُل از سر نو تعمیر کے انتظار میں ہیں۔ لیکن اُن کی طرف سابقہ حکومت میں کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
تازہ ترین
- مضامینداد بیداد۔۔10بجے کا مطلب۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
- ہوملوئر چترال پولیس کی کامیاب کاروائی 2444 گرام چرس برامد
- ہومٹریفک ڈرائیونگ سکول میں باقاعدہ کلاسز کا آغاز۔لوئر چترال پولیس کا ایک اور احسن اقدام
- ہومونڈز ایگل مارخور پولو ٹورنامنٹ سیزن ون اپنی تمام تر رعنایوں کے ساتھ چترال کے تاریخی پولو گراونڈ (جنالی) میں شروع
- ہومپولیس خدمت مرکز زارگراندہ میں ڈرائیونگ ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا۔ چترال پولیس
- ہوماپر چترال کی تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند اہالیان تورکھو کے ساتھ ان کے احتجاج میں شریک ہوکر انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا
- مضامینداد بیداد۔۔روم ایک دن میں نہیں بنا۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
- ہوممعروف عالم دین اور مدرسہ امام محمد کراچی کے مہتمم قاری فیض اللہ چترا لی کی طرف سے میٹرک کی ضلعی سطح پر ٹاپ تھیر پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء طالبات میں وظائف اور اقراء ایوارڈ کی تقسیم
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔”بین السکول کھیلوں کے مقابلے اور محکمہ تعلیم اپر چترال”۔۔محمد جاوید حیات
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔۔”آج کل کا استاذ اور اس کی ذمہ داریاں “۔۔۔محمد جاوید حیات