فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے یا الگ صوبہ بنانے کے انتظامرمیں ایف سی آر کے اختم کرنے کا مسئلہ لیٹ نہ کیاجائے۔ اس مسئلے پر اگر ریفرنڈم کرانا ہو توپورے کے پی کے میں اس بات پر ریفرنڈم کردیا جائے کہ کی فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے یا ضم کیاجئاے یا کے پی پے کو دوصوووں میں تقسیم کیا جائے۔ ریفرنڈم کے تین سوالات:
۱۔ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کیاجائے۔
۲۔ الگ صوبہ بنایا جائے
۳۔ کے پی کے جعرافیائی قدرتی تقسیم کے مطابق دو صوبے بنایا جائے۔
دو صوبے کیوں؟
اگر فاٹا اسی نقشے کے مطابق الگ صوبہ بنایا گیا تو اس کا مرکز جہاں بھی ہوگا بلوچستان سے دیر تک کا دوہزار کلومیٹر دوشور گزار علاقہ انتظامی طور پرکنٹرول کر نا ممکن نہ ہوگا۔ اس لئے کے کے پی کے اور فاٹا کے تمام بانشدون کو جعرافائی حقائق کے مطابق دو صوبے بنانا ہی اس کے بانشسندونکے تعمیر اور ترقی انٹامیہ بہتر اوعر تعلیم وصھت اور انصاف کے حصول کے لئے مناسب ہوگا،۔
نقشہ:
کوہاٹ ٹنل سے شمالی وزیر ستان اور جنوبی وزیرستان تک الگ صوبہ جس کا مرکز بنوں یا ڈیرہ اسماعیل خان اور کرم ایجنسی کے کوہاٹ ٹنل سے پشاور کی طرف کے تمام علاقے خیبر ایجنسی، مہمند ایجنسی، باجوڑ ا یجنسی اور ملاکنڈ ایجنسی کو کے پی کے کا حصہ بنایا جائے۔
اس کام کو دھرنوں کے ذریعے حل کرانے کی کوشش کرنے کی بجائے پی پی پی، پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور جے یو آئی اپنے 2018کے الیکشن میں جانے سے پہلے اپنے انتخابی منشور میں فاٹا کے متعلق اپنی اپنی پالیسی واضح کرکے الیکشن میں حصہ لیں اور 2018ء کے الیکشن میں قومی اور صوبائی حکومت جس سیاسی پارٹی کا بنے وہ پوری سنجیدگی سے اس مسئلے کو فاٹا کے عوام کی مرضی اور ریفرنڈم کے نتائج کے مطا بق حل کرلے۔ جلدبازی کے فیصلے ملک کو نقصان پہنچانے کے متراد ف ہوں گے۔ ایف سی آر کا خاتمہ اورموجودہ عدالتی سہولیات، تعلیمی مراکز اور صحت کے موجودہ سہولیات میں فاٹا کے عوام کو سہولیات دوگنی کرکے دے دی جائیں اور کیمپ کورٹس کے ذریعے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سنگل اور فل بینچ کے وزٹس کو سہولیات اور مراعات کے ساتھ شروع کیا جائے۔ تاکہ افغانستان میں قابض امریکہ اور بھارت ان قبائلی علاقوں کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرسکیں۔ ایف سی آر کے خاتمے سے ہی قبائلی علاقے پاکستان کا آئینی دستوری حصہ ہوجائیں گے۔ ہمارے نادان دوستوں کی قومی اسمبلی میں ہرزہ سرائیوں کا جواب بھی ہوگااور فاٹا کے عوام کے آئینی حقوق کے بحالی کی طرف پہلا مثبت قدم ہوگا۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



