چترال (نما یندہ چترال میل) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخار الدین نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپر چترال کو گولین گول ہائیڈل پاؤر پراجیکٹ سے بجلی لے کر اپر چترال میں اپنے صارفین کو دینے میں سنجیدہ نہیں ہے جبکہ وفاقی حکومت کے زیر اہتمام چلنے والی پاؤر ڈسٹری بیوشن کمپنی پیسکواور واپڈا کی طرف سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے اور گزشتہ نو مہینوں کے دوران بحیثیت ایم این اے ان کی ساری کوششیں صوبائی حکومت کے ادارے پیڈو کے ساتھ رائیگان جارہے ہیں۔ منگل کے روز مقامی میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور منسٹر واٹر اینڈ پاؤر کے دفتر سے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے ساتھ گزشتہ نو مہینوں کے دوران خط وکتابت ہوتی رہی ہے لیکن پیڈو نے اس مسئلے کو کبھی بھی سنجیدہ نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوششوں سے گولین گول پاؤر اسٹیشن کے سوئچ یارڈ سے ہی فی الحال 4میگاواٹ بجلی اپرچترال کو دینے کی گنجائش نکالی گئی ہے مگر یہ تبھی عملی شکل اختیار کرے گی جب پیڈو کے حکام پیسکو کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرے۔ ان کا کہنا تھاکہ ریشن بجلی گھر کی سیلاب بردگی کے بعد اس سے استفادہ کرنے والے 21ہزار صارفین کو بجلی کی فراہمی پیڈو کی ذمہ داری ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ تو ریشن بجلی گھر کی بحالی پر کام شروع کیا جارہا ہے اور نہ ہی گولین گول ہائیڈل پراجیکٹ سے اضافی بجلی حاصل خریدنے میں سنجیدہ ہے۔ ایم این اے شہزادہ افتخار نے بتایاکہ 28دسمبر کو قومی اسمبلی میں بجلی کے بارے میں اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس کوغذی کے مقام پر ہورہا ہے جس میں پیڈو کے حکام کو بھی دعوت دی گئی ہے لیکن ابھی تک انہوں نے اپنی شرکت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ہے جبکہ اس سے قبل بھی 3دسمبر کو منعقدہ اجلاس میں نہ تو پیڈو کے چیف ایگزیکٹیو آنے کی زحمت کی اور نہ سیکرٹری انرجی اینڈ پاؤر کو آنے کی توفیق ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ اگر اپر چترال کو اس پراجیکٹ سے بجلی نہیں ملی تو اس کی ساری ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی جبکہ بحیثیت منتخب نمائندہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ شہزادہ افتخار نے مزید کہاکہ لویر چترال کو گولین گول پراجیکٹ سے بجلی کی فراہمی کے لئے ان کی کوششوں سے 82کروڑروپے خرچ کئے جاچکے ہیں جن میں جوٹی لشٹ کے مقام پر گرڈ اسٹیشن کا قیام بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں پیسکو کے زیر اثر علاقوں میں بجلی کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوجائے گا۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



