پشاور (نما یندہ چترال میل)خیبر پختونخوا میں عوام کو صاف معیاری اور حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق خوراک اور غذا کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی قائم کردی گئی ہے جو صوبے کے مختلف اضلاع میں کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری میں معیار کی جانچ پرکھ کرے گی۔ کے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا قیام کے پی فوڈ سیفٹی اوینڈ حلال فوڈ اتھارٹی ایکٹ2017کے تحت کیا گیا ہے۔قانون سازی کے مراحل کو مکمل کرنے کے بعدکے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھار ٹی پہلے فیز میں صوبے کے تمام ڈویژن کی سطح پر فعال ہوگئی ہے جبکہ پشاور میں اتھارٹی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل دفترنے ابھی اپنی زمہ داریوں کا آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے مطابق صوبے میں عوام کی جانوں اور صحت کے لیے نقصان کا سبب بننے والی ناقص اور غیر معیاری اشیائے خوراک کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اتھارٹی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق غذائی اشیاء کی تیاری پر کڑی نگاہ رکھے گی جبکہ معیار کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو قانون کے دائرے میں بھی لایا جائے گا۔ کے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے فرائض میں اشیائے خورک کی تیاری والے کارخانوں کی کڑی نگرانی بھی شامل ہے تاکہ منافع خور اپنے مقاصد کے لیے عوام کو غیر معیاری اشیاء فروخت نہ کرسکیں۔بازاروں میں بکنے والی اشیائے خوردونوش اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں ملنے والی خوراک کا معیار بھی اتھارٹی وقتاً فوقتاً جانچے گی تاکہ عوام کو ہمیشہ صاف اور معیاری اشیائے خوردونوش میسر ہوں۔کے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ریاض محسود کا کہنا ہے کہ اتھارٹی نے اشیائے خوراک کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے۔کیٹگری اے میں خوردنی تیل،بناسپتی گھی،مکھن مارجرین،فش آئل،مسالحہ جات،اناج دالیں،مشروبات،منرل واٹر،پھل،سبزی،اشیائے خوردونوش میں شامل کیے جانے والے دیگر اجزا جبکہ مختلف غذائی اشیاء کو تازہ رکھنے کے لیے درکار کولڈ سٹوریج شامل ہیں۔کیٹیگری بی میں تمام ڈیری پراڈکٹس،ڈیری فارمز،بیکریاں ہوٹل،ڈھابے اور چھوٹے پیمانے پر قائم کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت والے مراکز کو رکھا گیا ہے جبکہ کیٹیگری سی میں اشیائے خوردونوش کی تیاری والے تمام چھوٹے بڑے یونٹس کو شامل کیا گیا ہے۔فوڈ اتھارٹی ان تمام اشیاء کو انکے لیے ترتیب دیے گئے معیار کے مطابق جانچ پرکھ کے بعد انھیں لائسنس ایشو کرے گی۔خوراک سے متعلق کسی کاروبار کے اجراء کے لیے درخواست گزار اینڈرائیڈ فون اور ویب اپلیکیشن کے زریعے اتھارٹی سے رابطہ کرسکیں گے،جو اتھارٹی تمام تقاضوں کا جائزہ لینے کے بعد جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔کے پی فوڈ اتھارٹی نے جانچ پڑتال کے کام کی غرض سے تین لیبارٹریاں سائنٹفک،ایپیلٹ اور میڈیکل لیبارٹریاں بھی تشکیل دی ہیں۔میڈیکل لیبارٹری موقع پر ہی اشیاء کا تجزیہ کرکے معیاری یا ناقص ہونے کاتعین کرے گی۔ معیار ی مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی متعلقہ افراد اور مالکان کو نوٹسز جاری کرکے انھیں اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن اور لائسنس کے حصول کے لیے پابند بنانئے گی تا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے مرتب کردہ معیار کا نفاذ ممکن بنایا جائے۔معیار کو پس پشت ڈال کر عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جس میں بھاری جرمانے،مصنوعات اور تمام اشیاء کی ضبطگی،ہوٹل،کارکانے یا دیگر مراکز کی بندش کے ساتھ ساتھ عدالتی کارروائی کا سامنا شامل ہے۔ کے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے غذا اور خوراک کے لیے مرتب معیار کے بارے میں آگاہی اجاگر کرنے کے لیے تربیتی پروگرام بھی چلائے جائنگے۔خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کے پی فوڈ اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد عوام کی بہتر صحت کو یقینی بنانا ہے کیونکہ غیر معیاری کھانا پینا سالانہ ہزاروں افراد کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کی استعداد کار بڑھانے کیلئے ایک ہفتہ ٹریننگ LUMS میں شروع
پشاور (نما یندہ چترال میل) خیبر پختونخوا کے کالجوں کے پرنسپلز کی استداد کار بڑھانے اور انکی قائدانہ صلاحییتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تربیتی پروگرام کاسلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کی ایک پریس ریلیز کے مطابق تربیتی پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے40کالجوں کے پرنسپلز کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں تربیت فراہم کی جارہی ہے۔منگل سے شروع یہ تربیتی پروگرام ایک ہفتے پر محیط ہو گا جس میں ان اساتذہ کی قائدانہ صلاحییتوں کو بڑھانے اور انھیں اپنے ادارے کو آگے لے جانے کے لیے منظم طریقے سے استعمال میں لانے کے حوالے سے تربیت فراہم کی جائے گی۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے اساتذہ کی کاکرکردگی کو بہتر بنانے،انھیں جدید دور کے متقاضی بنانے کی خاطر مختلف تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں لیڈر شپ اینڈ فائننشل مینجمنٹ کی تربیت بھی شامل ہے۔جس میں صوبے کے تمام اضلاع کے کالجز کے پرنسپلز کو مرحلہ وار تربیت فراہم کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



