(چترال میل رپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سی پیک قومی یکجہتی کا منصوبہ ہے اور قومی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔صوبائی حکومت سی پیک کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بڑی سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور اس منصوبے کو دیرپا اور زیادہ سے زیادہ نفع بخش بنانے کیلئے متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔حطار ایک کامیاب صنعتی زون ہے جو سی پیک کے روٹ پر واقع ہے اور صوبائی حکومت نے خود اس زون پربہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ رشکئی سب سے زیادہ اہم اور فیزیبل زون ہے۔ رشکئی انڈسٹریل ایریا کے لیے بیس ہزار کنال زمین خرید چکے ہیں اور اس کو سی پیک کا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں اور یہی تجویزہم نے سی پیک کے فورم پر دی ہے جبکہ ہماری تیسری ترجیح ڈی آئی خان میں صنعتی زون ہے۔یہ ہماری ترجیحات ہیں جن کو ہم سی پیک میں شامل کرنے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی اہمیت ہمارے لئے مسلمہ ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے جے سی سی کے چھٹے اور ساتویں اجلاس میں شرکت کی تاکہ صوبے کے حقوق کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ قومی ترقی کے حامل اس منصوبے کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جے سی سی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔پرویز خٹک نے واضح کیا کہ انہوں نے اب ہزارہ، پشاور، نوشہرہ، مردان اور ڈی آئی خان کو سماجی منصوبوں میں شامل کرنے اورخیبرپختونخوا میں بجلی کے 1800 میگاواٹ کے نئے منصوبے سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔گریٹر پشاور ٹرین متعدد اضلاع کو منسلک کرتا ہے، پشاور اور طورخم کو منسلک کرنے سمیت پشاور ڈیرہ اسماعیل خان ریلوے ٹریک کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ اسی طرح گلگت شندور چترال روڈ کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کیلئے تجویز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سکھی کناری 1900 میگا واٹ کے منصوبے پر پہلے ہی کام چل رہا ہے جبکہ مزید 3500 میگا واٹ کے منصوبے بھی سی پیک میں شامل ہو رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ چشمہ رائٹ بینک لفٹ سکیم کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔سی پیک کے تحت ہزارہ موٹروے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ سی پیک کے تناظر میں اپنے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں اور بڑی پیمانے پر صوبہ اپنی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے تعمیر کیا جانے والا سوات موٹروے منصوبہ مکمل ہونے کو ہے۔بس ریپڈٹرانزٹ منصوبے پر بھی تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔پورے صوبے کو باہم مربوط کرنے اور ترقی اور خوشحالی کا ماسٹر پلان تشکیل دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ فاٹا کو بھی ترقی کے اس دہارے میں لانے کیلئے اُس کا جائز حصہ ملنا چاہیئے تاکہ سی پیک کے ثمرات سے وہاں کے عوام بھی برابر مستفید ہو سکیں۔
<><><><><><><>
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



