(چترا ل میل رپورٹ)خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر برائے صحت شہرام تراکئی نے سرکاری ہسپتالوں میں ہمہ وقت ڈاکٹروں اور طبی عملے کی سو فیصد حاضری اور طبی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لئے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے حکام کو ان ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانیکی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے آئی ایم او کے تمام ملازمین کو مستقل کر دیا ہے اب انہیں چاہیے کہ وہ مزید تندہی اور جانفشانی سے اپنے فرائض سر انجام دیں اور سرکاری ہسپتالوں میں خدمات کی بہتر فراہمی کو یقینی بنانے کے حکومتی مقصد کو کماحقہ پورا کریں۔انہوں نے آئی ایم یو کے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ چھوٹے ہسپتالوں کیساتھ ساتھ صوبے کے بڑے تدریسی ہسپتالوں بشمول لیڈی ریڈنگ ہسپتال،حیات آباد میڈیکل کمپلیکس،خیبر ٹیچنگ ہسپتال،ایوب ٹیچنگ ہسپتال اور مردان میڈیکل کمپلیکس میں بھی مانیٹرنگ کا عمل شروع کریں۔وہ پیر کے روز اپنے دفتر پشاور میں محکمہ صحت کے آئی ایم یو کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے منقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں انہیں آئی ایم یو کی گزشتہ چند مہینوں کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری صحت عابد مجید اور پراجیکٹ ڈائریکٹر آئی ایم یو ڈاکٹر فیصل شہزاد کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ آئی ایم یو کی ٹیموں کی مسلسل مانیٹرنگ کی وجہ سے صوبے کے بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی حاضری،ادویات کی دستیابی اور طبی آلات کی فعالی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے جس سے ان طبی مراکزمیں علاج معالجے کی سہولیات میں مجموعی طور پر بہتری آئی ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آئی ایم یو کے قیام سے پہلے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کے اسٹاک کاکوئی ریکارڈ نہیں رکھا جا رہا تھا جبکہ اب ہر چھوٹے بڑے طبی مراکز میں ادویات کے اسٹاک کاباقاعدہ ریکارڈ رکھا جارہا ہے اسی طرح آئی ایم یو کی موثر نگرانی کے نتیجے میں صوبے کے متعدد طبی مراکز میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کر کے ان کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر نے آئی ایم یو کے حکام کو مزید ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں عملے کی ہمہ وقت حاضری کو یقینی بنانے کے لئے ان ہسپتالوں کے ڈیوٹی اوقات کو آئی ایم یو کے سافٹ ویئر کا حصہ بناکر اس کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جائے،غیر حاضر عملے کی تنخواہیں کاٹی جائیں اور جہاں تنخواہوں کی کٹوتی سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا ہے وہاں پر سخت انضباطی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت ناقص کارکردگی کے حامل طبی ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کیساتھ ساتھ اچھی کارکردگی کے حامل ملازمین کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے گی اور آئی ایم یو نمایاں کارکردگی کے حامل عملے کی نشاندہی کرے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں تعریفی اسناد کے ساتط ساتھ نقد انعامات بھی دئیے جائیں۔دریں اثناء صوبائی وزیر نے ہیلتھ کیئر کمیشن کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر معیاری نجی کلینکس کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے اور اس عمل کو صوبے کے تمام اضلاع میں وسعت دیں۔انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے انسپکٹروں کی طرف سے غیر معیاری کلینکس کو سیل اور ڈی سیل کرنے کے عمل کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے اور ان انسپکٹروں کی ترقیوں کے عمل کو ان کی کارکردگی سے مشروط کر دیا جائے جبکہ سیل کئے جانے والے غیر معیاری کلینکس کے بارے میں میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



