بہت بڑی خبر ہے خیبر پختونخو کی ٹورزم کا رپوریشن نے روس کے ثقافتی اور سیاحتی میلے میں سٹال لگا کر صوبے کی ثقافت اور سیاحت کو پیش کیا روسی حکومت اور روس کی سابق ریاستوں نے خیبر پختونخوا کی ثقافت و سیاحت میں گہر ی دلچسپی لی اور خیبر پختونخوا حکومت کیساتھ مختلف منصوبوں میں شراکت کرنے کا عندیہ دیا اب شراکت کے نمونوں پر منصوبے تیا ر کئے جائینگے خبر میں بتایا گیا ہے کہ تحت بائی،سوات،چکدرہ،چترال،ایوبیہ،کاغان،گلیات اور دیگر مقامات پر تصویری نمائش کی گئی بروشروں اور دستاویزی فلموں کے ذریعے تقافتی و سیاحتی مقامات کی عکاسی کی گئی خیبر پختونخوا میں دنیا کی منفرد ثقافت کالاش کلچر کو اجاگر کیا گیا دنیا کے بلند ترین پولو گراونڈ شندور پر فری سٹائل پولو میچ دکھائے گئے منگولیا،کزاخستان،ازبکستان،ترکمنستان اور تاجکستان کے وفود نے خیبر پختونخوا کی ثقافت میں گہری دلچسپی لی اور اُمید ظاہر کی ہے کہ اگلے چند سالوں میں خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات کے دیکھنے کیلئے روس اور روس کی سابق ریاستوں کے سیاحوں کی بڑی تعداد پاکستان کا رُخ کریگی تقافتی وفود کے تبادلہ سے دونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان صدیوں پرانے رشتے بحال ہو جائینگے خیبر پختونخوا میں روسی برتن،پیالے،قالین اور دیگر تجارتی مال صدیوں سے آتا رہا ہے اب وہ مال نادراشیاء میں شمار ہو تا ہے ماسکو اور سینٹ پیٹر ز برگ میں خیبر پختونخوا کے تاجر وں کی نسلیں اب بھی آباد ہیں اس طرح پشاور کے نواح میں قدیم روسی ریاستوں سے آکر آباد ہونے والے تاجروں کی نسلیں بستی ہیں یہ خاندان خوقندی کہلاتے ہیں جو روس کے قدیم شہر خوجند سے تجارت کی غرض سے آتے جاتے تھے کمیونسٹ انقلاب (1917) کے بعد روسی سرحد کو آہنی پردہ (Iron Curtain) کا نا م دیا گیا آمد ورفت بند ہوگئی 1947 ء میں قیام پاکستان کے بعد ہمارے 30 سال پرانے رشتوں کو بحال کرنے کا وقت آیا تھا مگر درمیان میں امریکہ حائل ہوا،فیلڈ مارشل ایوب خان کے دورمیں عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ آمدورفت کیلئے قراقرم ہائی وے تعمیر ہوئی روس کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنے پر بھی توجہ دی گئی کمیونسٹ حکومت نے کراچی میں ایشیاء کا سب سے بڑا سٹیل ملز قائم کیا مگر افغانستان پر امریکی قبضے کی جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دے کر اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری روس کے ساتھ مزید دوریاں پیدا ہوئیں امریکہ کو ہماری مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کے مزید مواقع مل گئے 2017 ء میں افغانستان پر امریکی قبضہ مستحکم ہو چکا ہے پاکستان کے خلاف امریکہ،افغانستان اور بھارت کا سہ فریقی اتحاد بن گیا ہے اس لئے پاکستان کا مفاد اس بات میں ہے کہ ہم چین اور روس کے ساتھ اپنے تاریخی،تقافتی اور معاشی و تجارتی تعلقات کو مستحکم کر کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ کریں اس سلسلے میں چین کے ساتھ تعلقات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے پاکستان اور خیبر پختونخوا کے ہزاروں طلبہ اور طالبات چین کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کے ذریعے معاشی ترقی کے مواقع سے پاکستان فائدہ اُٹھارہا ہے اگلے چند سالوں میں سول اور فوجی افیسروں کے تما م تربیتی پروگراموں کیلئے امریکہ اور برطانیہ کی جگہ چین،روس اور ترکی کے ساتھ معاہدے ہونگے تو ہمارے دشمنوں کو معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان مغربی ممالک پر انحصار کرنے والا ملک نہیں رہا دوست ملکوں سے تربیت پاکر واپس آنے والے افیسروں کا رویہ بھی عوام کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا رویہ ہوگا عوام اور افیسروں کے درمیان دوریاں ختم ہونگی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جس خطے میں واقع ہے اس خطے کا امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ کوئی رشتہ یا تعلق نہیں بنتا اس کے تاریخی،لسانی،تقافتی اور نسلی روابط چین،روس،وسطی ایشیاء اور مشرقی ممالک کے ساتھ ہیں یہ صدیوں پر محیط فطری اتحاد ہے تاجکستان سے لاہور یا پشاور آنے والا خود کو اجنبی نہیں سمجھتا راولپنڈی،کراچی،ملتان،کوئٹہ اور پشاور سے بخارا،سمر قند،دوشنبہ، ماسکو یا بیجنگ جانے والا سیاح خود کو مانوس سمجھتا ہے دوری کا احساس نہیں ہوتا ٹورزم کا رپوریشن آف خیبر پختونخوا نے روس اور روس کی سابق ریاستوں کو پشاور،سوات،ہزارہ اور چترال کی طرف راغب کر کے تاریخ کا قرض ادا کیا ہے اگلے چند سالوں میں سی پیک کے وجہ سے خیبر پختونخوا کو سڑکوں کے ذریعے تاجکستان اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں سے ملایا جا رہا ہے بعض حلقوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ افغانستان کے سوا دوسرا راستہ نہیں حالانکہ شاہراہ قراقرم کو افغانستان کے بغیر وسط ایشیائی ریاستوں سے ملانے کے بے شمار راستے ہیں وخجیر کے درے سے گریٹ پامیر کو جانے والا راستہ زمانہ قدیم میں بھی استعمال ہو تا رہا ہے وخجیر سے جنوب میں سوما تاش کا راستہ چھوٹے پامیر اور واخان کو جاتا ہے شمال مغرب کا راستہ گریٹ پامیر،مُرغاب اور خوروگ کے راستے دوشنبہ کو جاتا ہے اگر خیبر پختونخوا کی طرح حکومت پاکستان نے بھی روس اور سطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ثقافتی اور تاریخی رشتوں کو مستحکم کرنے پر توجہ دی تو یہ ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہوگی۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



