بڑے منصوبے بہت پیچیدہ ہوتے ہیں ان منصوبوں کی ابتدا کاغذی کا روائی سے ہوتی ہے لوگوں کو اُس وقت تک یقین نہیں آتا جب تک مشینری نہیں آتی کام شروع نہیں ہوتا اور مزدوری نہیں ملتی سڑکوں،پلوں اور بجلی گھروں کے منصوبے ایسے ہی ہوتے ہیں چترال سے قومی اسمبلی کے ممبر شہزادہ افتخار الدین کو بجلی کی تقسیم کیلئے سب کمیٹی کا چیئر مین بنایا گیا تو لوگوں نے مبارک باد دی انہوں نے کہا ابھی عابد شیرعلی کے ساتھ اسمبلی کے ایوان میں صرف تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے مبارک باد اُس وقت دو جب میر اہاتھ اس کے گریبان تک پہنچے شکر ہے پلاننگ کمیشن نے 4 سالوں کی کشمکش کے بعد بونی شندورروڈ کیلئے وسائل فراہم کئے یہ سڑک پہلی بار 2003 ء میں منظور ہوئی تھی 2010 ء میں اس پر کام روک دیا گیا تھا 7 سالوں کی تاخیر کے بعد ایک بار پھر کام شروع ہوگا۔مگر اس میں وقت لگے گا ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں شہزادہ افتخار الدین سوشل میڈیا،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ترقیاتی منصوبوں پر تازہ ترین خبریں دیتے رہتے ہیں مگر طریقہ کار اس قدر لمبا ہے کہ منظوری سے کام شروع ہونے تک طویل عرصہ لگتا ہے لوگوں کو انتظار کر نا پڑتا ہے کسی نے ایک عوامی لیڈر سے پوچھا کہ شاہجہان نے تاج محل کیسے بنایا؟عوامی لیڈر نے کہا شاہ جہاں کے زمانے میں پلاننگ کمیشن نہیں تھا اگر اُس وقت پلاننگ کمیشن ہوتا تو تاج محل کا انجام بھی کالا باغ ڈیم جیسا ہوجاتا شہزادہ افتخار الدین کی ڈائری کے مطابق گذشتہ 4 سالوں میں 112 بڑی میٹنگوں کے نتیجے میں لواری ٹنل کیلئے 23ارب روپے ریلیز ہوئے ہرمیٹنگ کیلئے کم از کم دو ہفتے تیاری کرنی پڑتی تھی چترال کیلئے مو بائل فون کے نیٹ ورک،تھری جی،فورجی،برانڈبینڈاور دوسری سہولیات کیلئے اعلیٰ سطح پر بیسیوں اجلاسوں کا اہتمام کروایا گیا تور کہو روڈ،موڑکہوروڈ،گرم چشمہ روڈ،بمبوریت کالاش ویلیز روڈ اور گولین گول ہائیڈر و پاور پراجیکٹ کیلئے اس طرح کی میٹنگوں کا ریکارڈ کھنگالا جائے تو بندے کا سر چکرا جاتا ہے منصوبہ زمین نظر آنے تک لوگوں کو ان میٹنگوں کا کوئی پتہ نہیں چلتا عوامی نمائیندہ خود ان کا ذکر کرے تو ”اپنے منہ آپ میاں مٹھو“والا مقولہ بولا جاتا ہے یہ اس طویل عمل کا منفی پہلو ہے گذشتہ ہفتے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایگزیکٹیو کمپنی نے اپنے اجلاس میں شندور روڈکیلئے 545 ملین روپے کی منظوری دی اس میں 4 پُل بھی شامل ہیں یہ سڑک چترال سے گلگت جانے والی شاہراہ کو چترال بونی روڈ سے ملائیگی سیلاب کے دنوں میں راستہ بند ہونے کے خطرات ختم ہو جائینگے گلگت اور مستوج کے درمیان جنرل مشرف کے دور میں جو بس سروس شروع ہوئی وہ سروس گلگت سے چترال تک چلے گی بس سروس کے روٹ میں 112 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا اور گلگت سے چترال تک سفر کا دورانیہ 13 گھنٹے سے کم ہو کر 8 گھنٹے رہ جائے گا دنیا بھر کے سیاح ہلکی اور بھاری گاڑیوں میں ایشیاء کے خوب صورت ترین اور پُرامن پہاڑی خطے پر آسانی اور سہولت کے ساتھ سفر کرسکینگے شاہراہ قراقرم کی طرح سڑک کے کنارے ہوٹل اور ریسٹورنٹ تعمیر کئے جاینگے سیاحوں کو معلومات اور سہولیات دینے کیلئے کاؤنٹر قائم کئے جائینگے اگلے چند سالوں میں یہ سڑک چائنہ پاکستان اکنامکس کاریڈور (CPEC) کے متبادل روٹ کا حصہ بن جائیگی اور لواری ٹنل کے راستے چکدرہ،سوات موٹروے سے اس کو ملایا جائیگا دوسرا میگا پراجیکٹ گولین ہائیڈل پاور سٹیشن کے پہلے یونٹ کی تکمیل کے بعد چترال میں سات تحصیلوں پر مشتمل 400 کلومیٹر طویل رقبے کو 36 میگاواٹ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا منصوبہ ہے دو ماہ پہلے واپڈا حکام اور پیسکوکی انتظامیہ نے اعلانیہ جاری کیا تھا کہ 2020ء سے پہلے چترال کو بجلی نہیں ملے گی چترال کے عوام نے احتجاج کیا شہزادہ افتخارالدین نے مسئلہ قومی اسمبلی کے ایوان میں بھی اور سٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں بھی اُٹھایا وزیر مملکت عابد شیر علی نے ناز یبا کلمات استعمال کئے جس پر دونوں میں تلخ کلامی ہوئی اس کے بعد شہزادہ افتخار الدین کو سٹینڈنگ کمیٹی کی سب کمیٹی کا چیئرمین نامزد کیا گیا چنانچہ گولین گول ہائیڈ ل پاور پراجیکٹ کے پہلے یونٹ کا افتتاح 25 دسمبر کو ہوگا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود اس میگا پراجیکٹ کا افتتاح کرینگے اور آنے والے 3 مہینوں میں واپڈا حکام دستیاب وسائل میں پیسکو اور شائیڈو لائن کی اپ گریڈیشن پر کام کرینگے اس وقت عشریت،اراندو اور شیشی سے لیکر چترال ٹاون تک پیسکو کی لائن بچھائی گئی ہے تورکہو،موڑکہو،مستوج اور کوہ کیلئے شائیڈو کی پرانی لائن مو جود ہے جو اس وقت استعمال میں نہیں ہے کیونکہ 2015 میں ریشن ہائیڈل پاور پراجیکٹ کا پورا 4 میگا واٹ بجلی گھر سیلاب میں بہہ گیا پیڈو(PEDO) کا انتظامی ڈھانچہ بر باد ہونے کی وجہ سے ریشن کے بجلی گھر کی بحالی ممکن نہیں ہوئی پورا علاقہ ڈھائی سالوں سے تاریکی میں ہے جبکہ چترال ٹاؤن میں روزانہ 18 گھنٹے یا 20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے گولین گول ہائیڈرو پاور اور شندور روڈ وفاقی حکومت کے بڑے منصوبے ہیں دونوں منصوبوں پر تازہ ترین پیش رفت خوش آئیند ہے اس کا کریڈٹ مو جودہ حکومت اور ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کو جاتا ہے
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات
- مضامیندادبیداد – نظم و نسق کی کامیابی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
- ہومڈی پی او لوئر چترال کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد،،یہ کھلی کچہری بروزِ بدھ، شام 4:00 بجے پولیس سہولت مرکز زرگراندہ، لوئر چترال میں منعقد ہوگی
- ہومڈی پی او چترال اپر کی جانب سے ڈپٹی کمشنر محمد عمران خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب
- ہومچترال کے خوبصورت سیاحتی مقام گرم چشمہ کے نوجوان آرٹسٹ شیر احمد المعروف شیرو کی یاد میں علاقے کے ممتاز درسگاہ پامیر پبلک سکول اینڈ کالج میں ایک روزہ آرٹ ایگزبیشن کا انعقاد ک










