( ویب ڈیسک ) میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے یہ کمپیوٹر الگورتھم بنایا ہے جو بسا اوقات چہرے کے معمولی خدوخال کو بھی پڑھ لیتا ہے اور مریض سے بہتر انداز میں درد کا احوال بیان کرتا ہے۔
ایم آئی ٹی کے پروفیسر ڈیانبو لوئی اور ان کیساتھیوں نے یہ کمپیوٹر الگورتھم بنایا ہے۔ ان کے مطابق مختلف افراد درد کا اظہارمختلف انداز سے کرتے ہیں۔ اس طرح خود ڈاکٹر درد کی جس شدت کا اندازہ لگاتا ہے وہ حقیقی درد سے کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔ اسی طرح یہ سسٹم اصلی اور جعلی درد کی کیفیت بھی نوٹ کرسکتا ہے۔
تجربے کے طور پر ماہرین کی ٹیم نے پہلے الگورتھم کو بعض ویڈیوز پر تربیت فراہم کی جن میں مختلف افراد کو درد سے دوہرے ہوتے دکھایا گیا تھا۔ مثلاً ایک ویڈیو میں کندھے کے درد میں مبتلا ایک شخص کو دکھایا گیا جس سے کہا گیا کہ وہ ایک مختلف قسم کا برتاؤ کرے اور اس کے بعد اپنے درد کی شدت بیان کرے۔ اس کے بعد الگورتھم کو بہتر سے بہتر بنایا گیا۔ اس طرح چہرے کے آثار سے درد کی کیفیات کو نوٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔
ماہرین کے مطابق چہرے کے کئی حصے درد کو بہتر طور پر بیان کرتے ہیں۔ ہمارے منہ اور ناک کے پاس کے حصے شدید درد اور تکلیف میں قدرے مختلف انداز میں کھنچ جاتے ہیں یا حرکات پیدا ہوتی ہیں۔ اس سے قبل کئی تجربات سے ثابت ہوچکا ہیکہ کمپیوٹر بہتر انداز میں اصل اور جعلی درد کو پہچان سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو نے درد کی اداکاری کرنے والوں کو 85 فیصد درستگی سے شناخت کرلیا جبکہ وہ سافٹ ویئر اتنا جدید نہ تھا اور درستگی کا درجہ صرف 55 فیصد تھا۔
اس سافٹ ویئر کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس میں عمر، جنس، رنگت اور دیگر معلومات کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ درد کے تاثرات میں عمر کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ پروفیسر ڈیانبو لوئی کے مطابق اس طرح ہم انفرادی طور پر ہر فرد کی تکلیف معلوم کرسکتے ہیں۔
تاہم یہ سافٹ ویئر ڈاکٹروں کی جگہ نہیں لے سکتا اور اسے بہتر بنانے کے لیے مزید تحقیق کی جارہی ہے۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



