( اداریہ )حج درحقیقت ایک عاشقانہ سفرہے،اس کی ظاہری صورت بھی عجیب وغریب ہے، اور اس میں غضب کی جاذبیت ہے۔قدم قدم پر عشق ومحبت کی پُربہارمنزلیں طے ہوتی ہیں، حج کے افعال واعمال مظاہرعشق ہیں، اسی عاشقانہ بنیادکی وجہ سے اس کے افعال واعمال عقل وفہم میں آئیں یانہ آئیں،انہیں ادا کیا جاتاہے۔اس میں کسی قسم کی کوتاہی،غفلت یاسستی نہیں برتی جاتی ہے،چنانچہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، بزرگان دین اوراہلِ ذوق ومحبت نے بھی ٹھیک اسی طرح بے چوں چرااُنہیں اداکیاہے اوریہی عبدیت کے شان کے لائق ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جب تک حاجی اپنی عقل وفہم،پسندوناپسندکوحکم الٰہی پرقربان کرنانہ سیکھے یاجب تک یہ جذبہ پیدانہ ہو،وہ حج نہیں کرسکتا۔ اس لیے کسی کی عقل وفہم میں یہ کیونکرآسکتاہے کہ وہ دنیاکی تمام آسائشوں،آرام،راحت وسکون کوترک کرکے کفن نمادوچادریں لپیٹ کردیوانہ وارعشقیہ ترانہ ’’میں حاضرہوں،اے میرے اللہ!میں حاضرہوں‘‘پڑھتے ہوئے گھرسے نکل پڑے،یہاں تک کہ اپنے گھربار، عہدہ، منصب، مکان ودُکان،عیش وآرام تک کی کوئی پرواہ نہ رہے،صرف یہی نہیں بلکہ ایک چاردیواری کے گرددیوانہ وارچکرلگاتاپھرے۔
آیئے اس سفرعشق کی ایک جھلک دیکھتے ہیں: دلائل وبراہین بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہرجگہ موجودبلکہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب اوراپنے بندے کی ہر صداکوہرجگہ سے سنتے ہیں،جواب دیتے اورقبول کرتے ہیں،پھراُسے بچوں اورملک ووطن سے کیوں دور کیا جاتا ہے؟ مگر عشق کہتاہے کہ مالک کابلاوااورمحبوب ومعشوق کی چاہت ہے، اس کے بلاوے پرضرورجائیں گے،اورسفربھی اپنی مرضی سے نہ ہوگابلکہ معشوق نے جس کیفیت وہیئت بناکرآنے کامطالبہ کیاہے اس کے اپنانے کواپنے لیے باعث عزت وافتخارسمجھیں گے۔
پھریہ بات بھی قابل غورہے کہ عام حالات میں کوئی مہذب وباحیا مسلمان اپناپسندیدہ لباس اتارکرکفن کی دوچادروں کے ساتھ کسی سنجیدہ محفل واجتماع میں جاناتودرکنارگھرسے باہرنکلنابھی گوارانہیں کرتا، مگرجب حاجی کومحبوب کی جانب سے اس طرزلباس کواپنانے کاحکم ملتاہے تووہ اپنے تمام تقاضوں کوبالائے طاق رکھ کراس کوسرمایہ افتخارسمجھتے ہوئے دنیا بھر کے بڑے اجتماع میں جانے پرآمادہ ہو جاتا ہے، اور عملی طورپروہاں پہنچ جاتاہے۔
پھرحرم کی ایک نیکی پرلاکھ کا اجر ملتا ہے، اوربیت اللہ میں ہروقت نازل ہونے والی ایک سوبیس رحمتوں میں سے ساٹھ رحمتیں طواف کرنے والوں،چالیس نمازپڑھنے والوں، اور بیس دیکھنے والوں کے حصے میں آتی ہیں،توعقل کاتقاضا یہ ہے کہ ہروقت بیت اللہ میں رہتے ہوئے اس کاطواف،نمازیں اوردیکھنے کی سعادت حاصل کی جاتی رہے،مگرہم دیکھتے ہیں کہ بیت اللہ کوخیربادکہہ کرمنیٰ کی سنگلاخ وادی میں چلے جانے وہاں سے عرفات،مزدلفہ کے لق دق صحرامیں رات گزارنے کاحکم ملتا ہے، ایسا کیوں ہے؟توعقل کے برعکس عشق کہتاہے کہ اس میں مولیٰ کی رضاہے جب تک بیت اللہ میں رہنے کا حکم تھاوہی عبادت تھی،جب منٰی، عرفات، مزدلفہ جانے کاحکم ملااب یہی سب سے بڑی نیکی ہے اوراللہ کے حکم کو بجا لانا ہے، اورحکم کی بجاآوری ہی حقیقی اطاعت وعبادت ہے۔
الغرض حج عشق ومحبت اورانقیادوتسلیم کانام ہے،اس کوعقل وفہم،ادراک وشعور،ذوق ومزاج کے پیمانوں سے نہیں ناپاجاسکتااورنہ ہی اس پر اللہ تعالیٰ کی عطاوعنایات بے پایاں کا اندازہ کیا جا سکتاہے۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



