”شہزادے کی عید“
حضرت سیدنا عمر ؓ نے ایک مرتبہ عید کے دن اپنے شہزادے کو پُرانے قمیص پہنے دیکھا تو رو پڑے، شہزادے نے عرض کیا، پیارے ابّا جان!آپ کس لئے رو رہے ہیں؟ آپ ؓ نے فرمایا، بیٹے مجھے اندیشہ ہے کہ آج عید کے دن جب لڑ کے آپ کو اس پھٹے پُرانے قمیص میں دیکھیں گے تو آپ کا دل ٹوٹ جائے گا۔ شہزادے نے جواباََ عرض کیا ”دل تو اُ س کا ٹوٹے جو رضاء الہی کو نہ پا سکا، جس نے ماں باپ کی نا فرمانی کی ہو اور مجھے امید ہے کہ آپؓ کی رضامندی کے طفیل اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے راضی ہوگا“۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ رو پڑے، شہزادے کو گلے لگایا اور اُس کیلئے دعا کی۔
امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز ؒ کی خدمت میں عید سے ایک دن قبل آپ ؒ کی شہزادیاں حاضر ہوئیں اور بولیں، بابا جان”کل عید کے دن ہم کو ن سے کپڑے پہنیں گی؟“فرمایا ”یہی کپڑے جو تم نے پہن رکھے ہیں، انھیں آج دھو لو اور کل پہن لینا“۔ نہیں ابّا جان! آپ ہمیں نئے کپڑا بنوادیں۔ ننھی منھی شہزادیوں نے ضد کرتے ہوئے کہا؛ آپؒ نے فرمایا، ”میری پیاری پیاری بچیوں! عید کا دن اللہ کی عبادت کرنے اور اُس کا شکر بجا لانے کا دن ہے، نئے کپڑا پہننا ضروری تو نہیں۔ بابا جان!آپ کا فرمانا بے شک درست ہے، لیکن ہماری سہیلیاں اور دوسری لڑکیاں ہمیں طعنے دیں گی کہ تم امیر المومنین کی لڑکیاں ہو اور وہی پُرانے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے شہزادیوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ یہ دیکھ کر امیر المومنین کا دل بھی بھر آیا۔ آپؒ نے خازن کو بلا کر فرمایا”مجھے میری ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی دے دو۔ خازن نے عرض کیا ”حضور! کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ ایک ماہ تک مزید زندہ رہیں گے۔ آپؒ نے فرمایا ”جزاک اللہ خیر“ آپ نے بے شک عمدہ اور صحیح بات کہی۔ خازن چلا گیا۔ آپ ؒ نے شہزادیوں سے فرمایا ”پیاری پیاری بیٹیوں! اللہ و رسول کی رضا پر خواہشات کو قربان کردو۔ کوئی شخص اُس وقت تک جنت کا مستحق نہیں بن سکتا، جب تک وہ کچھ قربانی نہ دے۔۔
عید صرف اُجلے لباس پہننے کا نام نہیں۔ دیکھا آپ نے؟ گزشتہ دونوں حکایات سے ہمیں یہی درس ملا کہ اجلے پہنے بغیر بھی عید منائی جا سکتی ہے۔
اللہ عزّ و جلّ کے مقبول بندوں کی ایک ایک ادا ہمارے لئے موجب صد درس عبرت ہوتی ہے۔ دیکھئے ہمارے حضور سیدنا غوث اعظم ؓ کی شان کتنی زبردست اور ارفع و اعلیٰ ہے،لیکن باوجود اتنی شان ہونے کے ہمارے لئے آپ ؓ کیا چیز پیش فرماتے ہیں؟ پڑھیے اور عبرت حاصل کیجئے۔ چنانچہ آپؓ نے اپنی ایک رباعی میں ارشاد فرمایا ہے۔
خلق گوید کہ فردا رو ز عید است خوشی در روح ہر مومن پد ید است
دراں روزے کہ با ایماں بمیرم مرادر ملک خود آں روز عید است
(یعنی لوگ کہہ رہے ہیں ”کل عید ہے!کل عید ہے!اور سب خوش ہیں۔ لیکن میں تو جس دن اس دنیا سے اپنا ایمان محفوظ لے کر گیا، میرے لئے تو وہی دن عید کا دن ہوگا“۔
عید کے دن لوگ کاشانہ خلافت پر حاضر ہوئے تو دیکھا کہ سیدنا عمرفاروقؓ دروازہ بند کرکے زاروقطار رو رہے ہیں لوگوں نے حیران ہوکر تعجب سے عرض کیا۔ یا امیر المومنین!آج تو عید کا دن ہے۔ آج تو شادمانی و مسرت اور خوشی منانے کا دن ہے۔ یہ خوشی کی جگہ رونا کیسا؟ آپؓ نے آنسو پونجتے ہوئے فرمایا …(ھذا یوم العید و ھذا یوم الوعید)… اے لوگوں!یہ عید کا بھی دن ہے اور وعید کا دن بھی ہے …..(انا لا ادری من المقبولین امن المطرودین)… مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں مقبول ہوا ہوں یا رد کر دیا گیا ہوں۔
عید کے دن عمرؓ یہ رو رو کر
بولے ”نیکیوں کی عید ہوتی ہے“
آہ صد آہ!! کہ عید کی آمد پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عبادات و حسنات کی کثرت کرکے اللہ کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کیا جاتا، مگر افسوس،صد افسوس! اب مسلمان عید سعید کا حقیقی مقصد ہی بھلا بیٹھے ہیں۔ ہائے افسوس! اب تو عید منانے کا یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ بیہودہ قسم کی اُلٹی سیدھی ڈیزائن والے بلکہ معاذ َ اللہ جاندار تک کی تصاویر والے بھڑکیلے کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ خوب رنگ رلیاں منائی جاتی ہیں۔ رقص وسرور کی محفلیں گرم کی جاتی ہیں۔ بے ڈھنگے میلے جھمیلوں، ناچ گانوں اور فلموں ڈراموں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور جی کھول کر وقت و دولت دونوں کو خلاف سنت و شریعت افعال میں برباد کیا جاتا ہے۔ افسوس صد افسوس! اب ہم اس مبارک دن کو کس قدر غلط سمجھنے لگے ہیں، میرے بھائیوں! ان خلاف شرع باتوں کے سبب ہو سکتا ہے کہ یہ عید سعید ہمارے لئے یوم وعیدبن جائے۔لوگوں! اپنے حال پر رحم کرو، فیشن پرستی اور فضول خرچی سے با ز آجاؤ! دیکھو تو سہی، اللہ نے فضول خرچوں کو قرآن میں شیطان کا بھائی قرار دیاہے۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے…(ترجمہ! اور فضول نہ اڑا، بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے)….۔!!
اے ہمارے پیارے پروردگار ہمیں عید سعید کی خوشیاں سنت کے مطابق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہمیں حج مبرور اور دید مدینہ اور دید تاجدار مدینہ ﷺ کی حقیقی عید بار بار نصیب فرما۔آمین۔
عید کے دن عمرؓ یہ رو رو کر بولے نیکیوں کی عید ہوتی ہے
عید میں بھی جو کرتے ہیں فیشن اُن سے رحمت بعید ہوتی ہے
فلم بینوں کے حق میں سُن لو یہ عید یوم وعیدہوتی ہے
بے نمازوں کی روزہ خوروں کی کون کہتا ہے عید ہوتی ہے
جس کو آقامدینے بلوائیں اس مسلمان کی عید ہوتی ہے
مجھ کو عیدی میں دو بقیع آقا جانے کب میری عید ہوتی ہے
عید اس کی ہے شادؔ جس کو خواب میں اُن کی دید ہوتی ہے
قلم ایں جارسید و سر بشکست…!!!
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


