چترال (محکم الدین) چترال کے بینکوں میں کرنسی نہ ہونے کی وجہ سے کلائنٹس کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اور سینکڑوں کلائنٹس بینکوں میں چیک کیش کرنے میں ناکام لوٹ جاتے ہیں۔ اور انتہائی طور پر ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔ جب کہ دوسری طرف بینکوں کے اسٹاف کو بھی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ اور جہاں کیش دستیاب ہیں۔ وہ بوسیدہ نوٹوں پر مشتمل ہیں۔ ذرائع کے مطابق چترال کے بینکوں میں دستیاب کیش لوگوں کی ضرورت سے بہت کم ہے۔ جسے دُگنا کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ ذرائع کے مطابق مقامی نیشنل بینک کی بار بار درخواستوں کے باوجود اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ درین اثنا چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سرتاج احمد خان نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اور کہا ہے۔ کہ اس سلسلے میں انہوں نے چیف منیجر اسٹیٹ بینک خیبر پختونخوا اور کرنسی آفیسر خیبر پختونخوا کو حالات سے مکمل طور پر آگاہ کیا ہے۔ اور چترال میں کیش کی کمی کا یہ مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاکہ لوگ عید کے موقع پر خریداری کر سکیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ انہوں نے اس سے قبل بھی چترال کے کیش میں اضافہ کرنے اور براہ راست چترال کو فراہم کرنے کے سلسلے میں سٹیٹ بینک کے ذمہ دار حکام کو آگاہ کیا تھا۔ جنہوں نے مسئلہ حل کرنے کی یقین دھانی کی تھی۔ لیکن نہ معلوم اسٹیٹ بینک کے حکام نے اس سنگین مسئلے پر کیونکر کر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا۔ کہ چیف منیجر اسٹیٹ بینک سے ٹیلیفونک بات ہوئی ہے اور انہوں نے مسئلے کو اب سنجیدہ لیا ہے۔ اور فوری حل کرنے کی یقین دھانی کی ہے۔ سرتاج احمد خان نے کہا۔ کہ افسوس کا مقام یہ ہے۔ کہ ہر مہینے کیش کی شارٹیج کا مسلہ ہوتا ہے۔ جبکہ نئے کیش آنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ اس دوران بینک اسٹاف اور لوگوں کو کیش کی کمی کے سبب بہت زیادہ مشکل پیش آتی ہے۔ 2015سے چترال کے بینکوں کو نئے کرنسی نوٹ بھی نہیں دیے گئے ہیں۔ اور جوکیش چترال میں سکولیشن کرتا ہے۔ وہ بوسیدہ نوٹوٹوں پر مشتمل ہیں۔ جو کہ کلائنٹ اور بینک کے درمیان بعض اوقات ترش رویے کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ اب عید الفطر قریب ہے۔ اوپر سے ملازمین کی تنخواہوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ایسے میں بینکوں میں کیش کا نہ ہونا لاء اینڈ آرڈر کے حالات بھی پیدا کرسکتی ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک سے اس مسئلے کو بلا تاخیر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
تازہ ترین
- ہومماڈل یوناٸٹیڈ نینشنز کانفرنس Model United Nations Conference,(MUN) الخدمت فاٶنڈیشن اسکول قتیبہ کیمپس چترال میں (MUN) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
- مضامینپھول جیسے بچپن پر ظلم: بچوں سے مشقت اور بھیک منگوانے کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد
- ہومضلع لوئر چترال پولیس میں 07 نئے جوان شامل، ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان (PSP) نے تقرر نامے تقسیم کر دیے۔
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومچترال اسکاؤٹس نے چترال لیویز کو 1 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرا کر چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی
- ہوم*پرنس رحیم آغا خان کے دورہ لوئر چترال کے سلسلے میں آر۔پی۔او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کا تھانہ لٹکوہ اور دیدار گاہ گرم چشمہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”یہ سسٹم کیا بلا ہے “
- ہومچترال لوئر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر کی سیٹ سات ماہ سے خالی، عوام و کنٹریکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا
- ہومچترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی



