چترال ( نمائندہ چترال میل )ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ کا انعقاد۔
جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیوں کا حکم.
منشیات فروشوں کے خلاف ناقص کارکردگی پر پانچ ایس ایچ اوز کو شوکاز نوٹسسز جاری کرکے وضاحت طلب۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت ڈی پی او آفس بلچ میں کرائم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
میٹنگ میں ایس پی انویسٹی گیشن اقبال کریم، ایس پی ایلیٹ فورس عتیق الرحمن، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر اقبال الدین، ایس ڈی پی او سرکل لٹکوہ احمد عیسیٰ، ایس ڈی پی او سرکل چترال سجاد حسین، ایس ڈی پی او سرکل بمبوریت حسن اللہ، ایس ڈی پی او سرکل دروش رحمان یوسف، ڈی ایس پی لیگل شیر محسن الملک، ضلع بھر کے ایس ایچ اوز، تفتیشی افسران اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع بھر میں امن و امان، سنگین مقدمات کی تفتیش، اشتہاری ملزمان کی گرفتاری، جرائم کی روک تھام، پولیس کی مجموعی کارکردگی اور عوامی خدمت کے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ڈی پی او لوئر چترال ریشم جہانگیر نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، سماج دشمن عناصر اور قانون شکن افراد کے خلاف بلاامتیاز، فیصلہ کن اور مؤثر کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔
انہوں نے ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کم عمر ڈرائیوروں، بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے والوں، بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں، غیر قانونی اور خطرناک ڈرائیونگ، اوورلوڈنگ اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
میٹنگ کے دوران ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر نے تمام تھانوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے پانچ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ناقص کارکردگی پر شوکاز نوٹسسز جاری کرکے وضاحت طلب کرلی۔
میٹنگ کے اختتام پر ڈی پی او لوئر چترال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لوئر چترال میں امن و امان کے قیام، جرائم کے خاتمے، منشیات کے ناسور کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن، ٹریفک نظم و ضبط کے فروغ اور عوام کو فوری، شفاف اور باوقار پولیس سروس کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔




