آج کل پتہ نہیں کیوں لوگوں نے خود کشی کو کلچر بنا رکھا ہے خاص کر نوجوان بچے بچیاں آئے روز خود کشیاں کرتے ہیں.لوگوں نے کیوں زندگی کو مشکل اور موت کو آسان سمجھ رکھا ہے کسی زمانے میں لوگ موت سے ڈرتے تھے آج کل زندگی سے ڈرتے ہیں.وجہ شاید ہم نے زندگی اتنی مشکل بنا رکھا ہے کہ اس کو جینا محال لگتا ہے.کسی زمانے میں لوگ خوراک، پوشاک اور چھت نہ ہونے کو زندگی کے مسائل سمجھتے تھے انسان بھوک پیاس اور بیدر بیگھر ہونے کو برداشت نہیں کر سکتے تھے مگر آج کل یہ سب کچھ ہونے کے باوجود انسان زندگی کے ہاتھوں بے بس کیوں ہے انسان ان ساری نعمتوں کو ٹھکراتا کیوں ہے اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں ایک یہ آج کا انسان سکون اور اطمنان کی دولت سے محروم ہے.قناعت اور صبر سے نا اشنا ہے.اقدار مٹ چکے ہیں.برداشت کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے خاص کر چترال جیسے علاقوں میں بدلتے وقت،وقت کے تقاضوں، زمانے کے اقدار،معاشرے کی ضروریات، سٹیٹس کے عذاب، مقابلے کی گھناونی دوڑ،ایک دوسرے کی نقل اور نئے دور کے چیلنجز کا سامنا نہیں کر سکتے ہیں.ان کے لیے خاص کر نوجوانوں کے لیے ہر چیز نئی ہے.نئی چیز کو اپنانے میں چیلنجز آتے ہیں.دولت نئی ہے دولت کا مناسب استعمال سیکھنا ہوگا.سٹیٹس نئی ہے اس پہ ٹکنا اسان نہیں.آپس کے تعلقات کے انداز نئے ہیں ان کو اپنانا ہوگا.آج کا چترالی باپ وہ باپ نہیں رہا جو آج سے چالیس سال پہلے کا باپ تھا آج کی اولاد وہ اولاد نہیں رہی جو آج سے چالیس سال پہلے کی اولاد تھی آج کا خاندان وہ خاندان نہیں رہا اج اولاد کی ڈیمانڈ الگ ہے اور والدیں کی توقعات الگ ہیں.اج اولاد والدیں کی اپنے اوپر اخراجات کو احسان نہیں سمجھتی بلکہ کہتی ہے کہ یہ والدیں کا ان پر کوئی احسان نہیں ہے.وہ والدیں کی مالی حالت اور دوسری مجبوریوں کا کوئی احساس نہیں کرتا اس کے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ تقاضاکرتا ہے کہ اس کو بھی یہی کچھ میسر ہوں. اگر کسی کے پاس سمارٹ فون ہے تو وہ بھی یہی مطالبہ کرتا ہے موٹر بائیک ہے اسی کا مطالبہ کرتا ہیگاڑی ہے تو یہی کچھ مانگتا ہے اور اسی مطالبے میں اتنا سنجیدہ ہے کہ اس کو زندگی اور موت کا مسلہ بنا دیتا ہے گویا کہ زندگی سمارٹ فون کے ساتھ وابسطہ ہے ورنہ موت ہی ٹھیک ہے.یہ انگزائٹی نہیں ہے یہ ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے.یہ پہلے والدین کی پریاریٹی بن جاتی ہے اس کو قرض پہ بھی سمارٹ فون لینا ہے.پھر بچے کا کھلونہ یہی سمارٹ فون ہے.اس کی قیمت کی کوئی حیثیت نہیں..باپ کو بچے کی غیر منطقی اور غیر سنجیدہ حرکتوں کی کوئی فکر نہیں ہوتی ان سب کو نظر انداز کردیتا ہے.پھر ایک موقع اتا ہے کہ یہ بچے کی فطرت ثانیہ بن جاتے ہیں ایک لاعلاج ٹرامہ..ہمارے گھروں کے اندر تربیت نام کی کوئی چیز نہیں کوئی اصول کوئی طریقہ نہیں. خاندانی روایات کا کچھ پاس نہیں.بے شک ٹی وی پہ ڈرامہ دیکھ کے ہم متاثر ہیں اپنی ماں کے رویے سے متاثر نہیں ہیں.سمارٹ فون میں کسی ٹک ٹاکر کسی وی لاگر سے متاثر ہیں اپنے باپ بہن بھائیوں سے متاثر نہیں ہیں اس کی ایک وجہ کہ شاید ہمارے والدیں، بہن بھائیوں کا کوئی رویہ متاثر کن ہے ہی نہیں.گھر کے اندر ماں ننگے سر رہتی ہے پھر بیٹی سے کہے کہ دوپٹہ پہن لے پردے میں رہے یہ کیسا ممکن ہے باپ کا کوئی رویہ تہذیب کے اندر نہیں پھر بچہ تہذیب کہاں سے سیکھے.گھر کے اندر دین کا پاکیزہ ماحول نہیں صبر برداشت کہاں سے آئے.ان بچوں کے سامنے ہر ایک کی برائی بیان کی جائے کسی اچھے کی اچھائی بیان نہ کی جائے تو اچھے برے میں فرق کیسے کرے ان کو کبھی انسانیت کا درس نہ دیا جائے نہ خود اس کا عملی مظاہرہ کیا جائے تو بچے سے پھر توقع عبث ہے. والدین اپنی کمائی پہ توجہ نہ دیں بچہ حلال کی پاکیزہ کمائی سے پرورش نہ پائے تو اس میں صبر برداشت اور غیرت کہاں سے اجائے دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ غریبی سب سے بڑی دولت ہے غریب انسان ہی زندگی کی پہچان کر جاتا ہے محنت اور جفا کشی سے وہ ہیرا بن جاتا ہیکسی نیکیا خوب کہا ہے..
نامی کبھی بغیر مشقت نہیں ہوا
سو بار جب عقیق کٹا تب نگین ہوا
بچی کو گھر گرستی کے گر نہیں سکھائے جاتیوہ کیچن گریجویٹ نہیں ہوتی، رشتوں ناطوں کے ساتھ تعلق کا دائرہ نہیں بتاتے اس کو اس کا تعارف تک نہیں کراتے کہ بیٹی کا تعارف کیا ہے بیٹی کون ہوتی ہے بھائی بہن ماں باپ کے مقامات سے اگاہی نہیں ہوتی.حالات سے مقابلے کا درس نہیں دیا جاتا.اگر خدا نخواستہ زندگی میں کوئی پریشر آجائے تو اس کے ساتھ مقابلہ کیسے کیا جائے یہ بتایا سیکھایا نہیں جاتا.ان کو زندگی پڑھائی نہیں جاتی ان کو زندگی کی تلخیوں کا ادراک نہیں ہوتا. ایسیماحول میں بچہ ایک جذباتی بے راہروی کا شکار ہوجاتا ہے اس کے پاس کمپرومائز کا سنس نہیں ہوتا.وہ جو سوچتا ہے وہی کر گزرتا ہے وہ جذبات کی رو میں ایسا بہہ جاتا ہے کہ واپسی کا راستہ ہی مسدود ہوجاتا ہے.آج کل کی خود کوشیوں کی بظاہر کوئی بڑی وجہ نہیں ہوتی کہ انسان اتنا مجبور ہو جائے کہ اپنی زندگی ہی ختم کرے.بچی کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے اس نے کسی اجنبی سے بات کی اجنبی کے ماں باپ نے ان کو سیکھایا نہیں ہے کہ کسی کی عزت کا خیال رکھیں اس نے بچی سے تصویر مانگی تصویر بھیجی گئی دوسرے لمحے اس نے کہا کہ میں تمہاری تصویر پبلک کروں گا بچی بس یہ برداشت نہیں کر سکی زندگی ہی ختم کر دی.بچے نے کہا مجھے موٹر بائیک لے کے دو یہ غریب باپ کی دسترس سے باہر ہے بچے نے خود کشی کر لی.بیٹی نے کہا میں عید کے لیے دودو جوڑے بناؤں گی سیر پہ جاؤں گی ماں نے کہا بیٹی اس کی کوئی ضرورت نہیں بیٹی نے خود کشی کر لی.ان ہی بے ہنگم فضول سی وجوہات کے علاوہ مجھے بتاؤں کہ خود کشیوں کی اور کوئی بڑی وجوہات ہیں.بالکل نہیں ہیں.. یہ وجوجات کہاں سے جنم لیتی ہیں..گھروں سے، معاشرے اور ماحول سے، تربیت گاہوں سے، عدم برداشت،مقابلے کے ماحول اور غیر منطقی تعلقات سے..ہمیں نئے دور کے تقاضوں میں ڈھلنے کے لیے وقت لگے گا ہم ایک ہجوم ہیں ہمیں تعلیم نہیں تربیت چاہیے..ہمارے بچے کالج یونیورسٹی میں بیشک زیر تعلیم ہیں یا تعلیم مکمل کر چکے ہیں لیکن خودکشی جیسا گھناونا جرم بھی ان سے سرزد ہوتا ہے.میں اس کو بھی جرم سمجھتا ہوں کہ ہمارے بچے ساری رات جاگتے ہیں دن بارہ بجے اٹھتے ہیں یہ کونسی تربیت ہے یہ کونسی تعلیم ہے.مذہب اور حقیقت گویا کہ انسانیت سے دوری نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے وہ جوان جسے قوم کی آنکھوں کا تارہ بننا تھا خود کشی کر جاتا ہے.اگر کوئی خود کشی کے اس کلچر کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے دور کی ان بے چینیوں کا ادراک کرنا ہوگا گھروں کے اندر.معاشرے کے اندر.تعلیمی اداروں کے اندر ان بے راہ روں کی نشاندہی کرکے ان کو بے راہ روی سے روک کر ان کی بے چینیاں دور کرنا ہوگا.ان کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی.سمارٹ فون کی تباہ کاریوں سے باخبر رہنا ہوگا بچوں میں حوصلہ پیدا کرنا ہوگا کہ وہ ٹنشن کا مقابلہ کر سکیں والدیں اور بڑوں کو اپنے رویے کی نظر ثانی کرنی ہوگی.آج کا بچہ ڈیجیٹل دور کا بچہ ہے روایتی دور کا نہیں.ان کی ضروریات، توقعات،خوابوں اور جذبات کا خیال رکھنا ہوگا..ان کو سیکھانا ہوگا کہ زندگی ایک طرح کی فائٹ ہے اس کو گزارنا نہیں اس سے لڑنا چاہیے..اس کی اصلاح کریں



