​چترال میں انٹرنیٹ کی ناقص سروس اور بلوں کی بلا تعطل وصولی: صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ اور پی ٹی اے کی خاموشی۔۔۔۔تحریر: (بشیرحسین آزاد)

Print Friendly, PDF & Email

​آج کا دور ڈیجیٹل دور کہلاتا ہے، جہاں تعلیم، تجارت، صحافت، اور دفتری امور کا دارومدار مکمل طور پر انٹرنیٹ پر ہے۔ لیکن چترال کے عوام کے لیے یہ “ڈیجیٹل پاکستان” کا خواب ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ یہاں پی ٹی سی ایل (PTCL)، جیز (Jazz)، اور ٹیلی نار (Telenor) جیسے بڑے نیٹ ورک فراہم کنندگان کی خدمات کا یہ حال ہے کہ مہینے میں 10 سے 15 دن سروس یا تو مکمل معطل رہتی ہے یا اس کی رفتار اتنی سست ہوتی ہے کہ ہونا نہ ہونا برابر ہوتا ہے۔
​حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ سروس آدھا مہینہ غائب رہنے کے باوجود، صارفین سے بل 100 فیصد پورا وصول کیا جاتا ہے۔ چترال کے غریب اور متوسط طبقے کے صارفین ہر ماہ 4,500 سے لے کر 6,000 روپے تک کا بھاری بل ادا کرنے پر مجبور ہیں، جو کہ سروس فراہم نہ کرنے کے باوجود ان کی جیبوں پر سراسر بوجھ اور “لوٹ مار” کے مترادف ہے۔
​1۔ “سروس غائب، بل حاضر”: یہ کیسا انصاف ہے؟
​دنیا بھر میں یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ صارف جتنی سروس استعمال کرتا ہے، اتنی ہی قیمت ادا کرتا ہے۔ اگر کوئی یوٹیلیٹی سروس (جیسے بجلی یا گیس) معطل رہے تو اس کا بل نہیں آتا، یا اس میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں ایک انوکھا نظام چلا رہی ہیں۔ چترال میں سیلاب، برف باری، یا محض “تکنیکی خرابی” کا بہانہ بنا کر دنوں نیٹ بند رکھا جاتا ہے، مگر مہینے کے آخر میں بل میں ایک روپے کی بھی رعایت نہیں دی جاتی۔ یہ صارفین کے ساتھ سراسر ناانصافی اور معاشی استحصال ہے۔
​2۔ چترال کی معیشت، تعلیم اور صحافت کو پہنچنے والا نقصان
​انٹرنیٹ کی اس آنکھ مچولی سے چترال کا ہر طبقہ متاثر ہو رہا ہے:
​طلبہ: یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ آن لائن کلاسز، اسائنمنٹس اور امتحانی نتائج کے لیے خوار ہو رہے ہیں۔
​کاروباری طبقہ: فری لانسرز، بینکنگ سسٹم، اور مقامی تاجر انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے مالی نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔
​صحافت اور میڈیا: مقامی صحافیوں کے لیے بروقت خبریں اور رپورٹس دفاتر تک پہنچانا ایک عذاب بن چکا ہے۔
​3۔ پی ٹی اے (PTA) کی مجرمانہ خاموشی اور عدم دلچسپی
​پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کا بنیادی کام صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا اور کمپنیوں کی کارکردگی پر نظر رکھنا ہے۔ لیکن چترال کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی اے نے چپ سادھ رکھی ہے۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ:
​کیا ان کمپنیوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟
​پی ٹی اے ان کمپنیوں کو اس بات کا پابند کیوں نہیں کرتی کہ جتنے دن سروس معطل رہے، اتنے دنوں کا بل صارفین سے نہ لیا جائے؟
​دور افتادہ علاقوں کے لیے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے کمپنیوں پر جرمانے کیوں نہیں عائد کیے جاتے؟
​4۔ صارفین کا مطالبہ: “نو سروس، نو پے” (No Service, No Pay)
​چترال کے عوام اب اس ناانصافی پر مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔ کمپنیوں کی اس اجارہ داری اور لوٹ مار کو روکنے کے لیے درج ذیل اقدامات فوری طور پر ناگزیر ہیں:
​بلوں میں متناسب کٹوتی: پی ٹی اے فوری طور پر ایسا میکانزم بنائے جس کے تحت اگر کسی علاقے میں انٹرنیٹ سروس 24 گھنٹے سے زیادہ معطل رہے، تو اتنے دنوں کا بل خود بخود صارفین کے ماہانہ بل سے وضع (Deduct) کر دیا جائے۔
​انفراسٹرکچر کی بہتری: پی ٹی سی ایل اور دیگر موبائل آپریٹرز چترال میں آپٹک فائبر اور ٹاورز کے بیک اپ (جنریٹر اور بیٹری سسٹم) کو بہتر بنائیں تاکہ موسم کی خرابی کا بہانہ بنا کر سروس بند نہ کی جائے۔
​سخت جرمانے: پی ٹی اے چترال میں سروس کوالٹی کا آڈٹ کرے اور صارفین کو ناقص سروس دینے پر کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کرے۔
چترال کے عوام پاکستان کے اتنے ہی معزز شہری ہیں جتنے کسی بڑے شہر کے۔ انہیں ناقص سروس کے بدلے ہزاروں روپے کے بل بھیجنا بند کیے جائیں۔ اگر سروس فراہم کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے، تو انہیں عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔ وفاقی حکومت، وزارتِ آئی ٹی، اور پی ٹی اے کو چترال کے اس دیرینہ اور سنگین مسئلے پر فوری نوٹس لینا ہوگا، ورنہ صارفین عدالتوں اور احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔