”
اپنے حصے کی خوشیاں صرف اپنی نہیں ہوتیں نہ اپنے حصے کا غم اپنے ہوتے ہیں اگر ان کو بانٹنے والا کوئی ہو تو غم گھٹتے ہیں خوشیاں بڑھتی ہیں انسان اشرف المخلوقات اس لیے ہے کہ اس کی یہ دو کیفیات مشترک ہوتی ہیں۔ غم میں کسی کوشامل نہیں کیاجاسکتا غم اکیلے میں گھلا دیتا ہے لیکن خوشی میں کس کوشامل کیاجاسکتا ہے بلکہ خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے شامل کیا جاسکتا ہے۔یہ خوشیاں چھوٹی موٹی ہوسکتی ہیں۔خوشی کا کوئی لمحہ أپ کے لیے معمولی نوعیت کا ہو مگر کسی دوسرے کے لیے بہت اہم ہوگا۔کوئی دس روپے کا نوٹ شاید آپ کے بچے کے لیے اہمیت نہ رکھتا ہو مگر کسی نادار کے بچے کے لیے بڑی دولت ہو۔ایک معمولی جوڑا تمہارے لیے کوئی حیثیت نہ رکھتا ہو لیکن کسی دوسرے کے لیے بہت اہم ہو۔سکول کی معمولی فیس تمہارے بچے کے روز کا جیب خرچ ہو مگر کسی دوسرے بچے کے لیے بہت بڑی رقم ہو یہ سب محسوس کر نے کی چیزیں ہیں جو ان سب کیفیات کو محسوس کرتا ہے وہ صبرو شکر کی دولت سے مالامال ہوتا ہے دنیاوی زندگی کے دو رخ ہیں ایک صبر دوسرا شکر۔عشرت میں شکر کریں عسرت میں صبر کو شعار بنائیں۔یہی بندگی ہے۔دنیا کی خوشیاں اور دولت عارضی ہیں اسی طرح تنگدستی اور مصیبتیں بھی عارضی ہیں۔کوئی بھی حال دائمی نہیں۔انسان کو اپنی دولت،اپنے عہدے، جائیداد اور دنیائی جاہ و جلال پہ گھمنڈ نہ ہو اپنی بے چارگی اور ناداری کو بھی ہمیشہ کی نہ سمجھے۔یہ دارالزمائش یے۔اصل خوشی قناعت اور اطمنان کی خوشی ہے یہ جھونبڑی میں بھی حاصل ہو سکتی ہے اس کا فارمولہ دوسروں کو خوش رکھنے اور ایثأر کی جد و جہد ہے۔انسان دوسروں کی خاطر أپنے أپ کو اور اپنی مسرتوں کو بھول جاۓ دوسروں کی خوشیوں میں راحت محسوس کرے تووہ خود دائمی خوشیوں سے مالامال ہو جاتا ہے یہ دنیا میں انسانیت کی بنیاد ہے۔کوئی بھی بندہ خواہ وہ کسی ملک کا صدر یا وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو بہت بڑا ذمہ دار افسر ہی کیوں نہ ہو اگر اس کا مطمع نظر دوسروں کی راحتیں،خدمت اور آسائشیں ہوں وہ دنیا کا کامیاب ترین انسان ہے یہی جہانبانی اور جہانگیری کی خوبصورتی ہے۔انسان مسکرا کر کسی کی طرف دیکھے تب یہ خوشی کی سوغات ہے یہ تخفہ ہے احترام،عزت نفس کا خیال، نرم لہجے میں گفتگو،مرتبے کا لحاظ،خود کی انکساری،مدد،حمایت،رشتے ناطے کا خیال یہ سب ایسی سرگرمیاں ہیں جو کسی کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کا انداز ہیں یہ کوئی معمولی صلاحیتیں نہیں یہ کمال انسانیت کے جوہر ہیں۔ آپ کسی کے دکھ درد میں شریک ہوں وہ انسان تنہانہیں ہوتا تمہاری خوشیوں میں اس کا برابر کا حصہ ہوتا ہے یہی تمہاری عظمت ہے۔دوسروں کو خوش دیکھ کر مسکرایا کرو کسی کی خوشی تمہاری خوشی کے راستے کاکانٹا نہ ہو۔حسد،بعض کینہ ایسی آگ ہیں جو بندے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔زندگی صبح و شام کی الٹ پھیر ہے بدلتی رت أتیجاتے موسم۔بہار گزری بہار خواب۔۔۔ خزان گزری خزان خواب۔ماضی سکرین پہ ڈوبتے ابھرتے چند نقطے۔۔۔ بے نام سے چند ڈاٹ۔۔ان میں سے وہ لمحے اٹھاۓ جائیں جو خوشی کے ہیں تو بے نام سی زندگی بھی یادگار بن جاتی ہے۔۔لوگوں کو فتح کرنا اگرچہ مشکل ہے لیکن یہ جغرافیہ فتح کرنے کی طرح مشکل نہیں اس معرکے میں تیر تبرکی ضرورت نہیں پڑتی۔بس ایک آدھ مسکراہٹ اور نرم لہجے کی ضرورت پڑتی ہے اپنی مسکراہٹوں سے کسی افسردہ چہرے پر روشنی بکھیر دیں۔پژمردگی کی دھول کو حوصلے اور ہمدردی کے اب حیات سیدھولیں تمہارے ارد گرد کوفت کے ساۓ نہ ہوں غم کیبادل نہ ہوں اگر ہیں تو تمہاری چمک سے یہ گھٹا چھٹ جائیں تب تمہاری خوشیاں تمہاری ہیں۔۔ورنہ جن کو تم خوشیاں کہتے ہو یہ غم کے جالے ہیں۔۔





