نئے سال کے آغاز پر جشن نہیں، احتساب کی ضرورت ہے: خطیب شاہی مسجد چترال

Print Friendly, PDF & Email

چترال چترال( نمائندہ چترال میل)
شاہی جامع مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کاکاخیل نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ چاہے ہجری سال کا آغاز ہو یا
عیسوی سال کی ابتدا، نئے سال کے موقع پر جشن منانے کے بجائے ہمیں اپنے حال کا جائزہ لینے، اپنا احتساب کرنے اور اصلاحِ احوال کی طرف
متوجہ ہونا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ نیا سال ہمیں
دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ گزرے ہوئے وقت میں ہم نے کیا کھویا اور کیا

پایا۔ یہ حقیقت بھی ہمارے سامنے رہنی چاہیے کہ ہر گزرتا سال ہماری زندگی کے سرمائے میں کمی کا سبب بنتا ہے، لہٰذا ہمیں اپنے ماضی کے اعمال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے اور آنے والے وقت کو بہتر بنانے کے لیے پختہ عزم کرنا چاہیے۔
شاہی خطیب نے کہا کہ نئے سال کے آغاز پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نماز کی پابندی کریں گے، دیانت داری اور حقوق العباد کی ادائیگی کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں گے۔ بالخصوص نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ننگے سر نماز پڑھنے کی عادت ترک کرکے ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کی عادت بنانی چاہیے ۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر مسلمان ہر نئے سال پر اپنی اصلاح کا خلوصِ نیت سے ارادہ کر لیں تو معاشرے سے بہت سی برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ خطاب کے دوران خطیب صاحب نے یہ بھی کہا کہ نوجوان نسل کو غیر اسلامی رسومات، فضول تقریبات اور وقت کے ضیاع سے بچنا چاہیے، کیونکہ مسلمان کا ہر لمحہ ایک قیمتی امانت ہے جس کے بارے میں آخرت میں سوال کیا جائے گا۔
آخر میں خطیب صاحب نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ گزرے ہوئے سال کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے، نئے سال کو ہدایت، امن، خیر اور اصلاح کا ذریعہ بنائے، اور چترال سمیت پورے ملک کو امن و استحکام عطا فرمائے۔