اصلاحات کو بھی انتہائی ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے اور پرائیویٹائزیشن کو بھی مسترد کردیا۔ منگل کے روز چترال میں تمام سرکاری ملازمین نے ہسپتال روڈ پر ایک احتجاجی جلسہ منعقد کرکے حکومت پر واضح کردیاکہ سرکاری ملازمین حکومت کی ان ظالمانہ فیصلوں کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے جوکہ ان کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔ اجلاس سے اگیگا کے رہنماؤں ضیاء الرحمن، زاہد عالم، مولانا سفیر اللہ، وقار احمد، نثار احمد، مولانا محمدقاسم، اور دوسروں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ایماء پر ملازمین کے سینوں پر خنجر گھونپنے کا قبیح عمل روک دیا جائے ورنہ ملازمین دمادم مست قلندر پرمجبور ہوں گے۔ اس موقع پر مقررین نے سرکاری ہسپتالوں میں قائم لیبارٹریوں میں ملازمین کے شئیر ز یکسر ختم کرنے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے ملازم کش عمل قراردیا اور مطالبہ کیاکہ اسے دوبارہ اور فی الفور بحال کیاجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔






