چترال(نمائندہ چترال میل) حالیہ دنوں میں آن لائن کاروبار کر جھانسہ دیکر نوسربازوں نے چترال کے سینکڑوں باشندوں سے لاکھوں روپے لوٹ لئے۔ تفصیلات کے مطابق چند ہفتے قبل ایک آن لائن پلیٹ فارم” سینو ٹرانز” (SinoTrans)کے نام سے متعارف کیا گیا جس نے موبائل فون کے آسان استعمال کے ذریعے نامعلوم طریقے سے صارفین کو آمدن دینے کا سسٹم متعارف کیا۔ لوگوں کوباقاعدہ نیٹ ورکنگ کے ذریعے اس سسٹم میں سرمایہ کاری کے مختلف آپشنز دیئے گئے اور اس سرمایہ کاری کے متبادل کے طور پر روزانہ کی بنیاد پر منافع دیاجانے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ اس سسٹم سے جڑ گئے اور یہ سسٹم زبان زد عام ہوگیا۔ دروش ٹاون میں اس کمپنی کا ایک بڑا دفتر بھی قائم کیا گیا جسکا افتتاح تحصیل چئیرمین اور تجار یونین کے صدر نے کیا۔
اسکے ساتھ ہی اس سے ملتے جلتے مزید جعل ساز کمپنیاں سامنے آگئیں اور ان سب کا طریقہ کار ایک ہی طرح کا تھا۔ ان کمپنیوں یا جعلی آن لائن فورمز میں جی ای ہیلتھ (GE Health)، سائمن اینرجی (Seimen Engery)، کوماٹسو (Komatsu)و چند ایک دیگر شامل ہیں۔
ایک دم سے اسطرح کے جعلی کمپنیوں کا سر اٹھانا بذات خود ایک عجیب معاملہ تھا، مگر جنہیں منافع کی لت لگ چکی تھی انہوں نے نا صرف خود بے دھڑک سرمایہ کاری کی بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی ان جعل سازوں کے سسٹم میں شامل کر دیا اور چترال بھر میں سینکروں لوگ ان جعل سازوں کے جال میں پھنس گئے۔ ایسا نہیں ہے کہ سب لٹ چکے ہیں، کئی ایک کو فائدہ بھی پہنچا ہے، مگر مجموعی طور پر کروڑوں روپے ہڑپ کئے گئے۔
جب سیونو ٹرانز زبان زد عام ہو گیا اور لوگ پیسے بٹورنے لگے تو اس کاروبار کو سود ی قرار دیتے ہوئے دروش کے علما نیعوام کو اس سے دور رہنے کی تلقین کی مگر اس پر کسی کے کانوں جوں نہ رینکی اور لوگ دھڑادھڑ اس سے جڑتے گئے۔
لوگوں، یعنی صارفین یا سرمایہ کاروں، کی امیدوں پر پانی اس وقت پھیر گیا جب سب سے پہلے جی ای ہیلتھ نامی کمپنی کا سسٹم ڈاون ہو گیا اور لوگوں کو پیسے ملنا بند ہوا، اسکے ساتھ ہی دیگر پلیٹ فارم بھی جواب دے گئے۔ ان تمام کمپنیوں میں سب سے بڑی اور معروف پلیٹ فارم سینو ٹرانز کی تھی جو کہ 24 تاریخ کو بیٹھ گئی۔
اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جی ای ہیلتھ میں سرمایہ کاری کرنے والے ایک صارف نے بتا یا کہ میں نے چند دنوں میں کافی پیسے کمائے، جتنا پیسہ لگایا تھا اس سے کئی گنا زیادہ کمایا، اب یہ بند ہونے سے مایوسی ہوئی۔
ایک اور سرمایہ کار نے بتایا کہ میں نے جی ہیلتھ میں پیسہ لگایا، اور لوگوں کو ممبر بھی بنایا، تو مجھے اس میں منافع اور بونس کی شکل میں روزانہ 20 سے 30 ہزار روپے ملتے تھے، اور اپنی آمدنی زیادہ کرنے کے لئے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سسٹم میں لارہا تھا۔
ایک اور صارف نے بتایا کہ میں نے 3800 روپے کی سرمایہ کاری کی، اور چند دنوں میں 7000 روپے کمائے، اب یہ بند بھی ہوجائے تو مجھے سردست کچھ نقصان نہیں ہوا۔
سینو ٹرانز کے ایک صارف نے بتایا کہ میں نے 3800 روپے انوسٹ کئے، پھر 7800 روپے کئے اور پھر 18000 روپے کئے، اس تمام رقم میں میرے جیب سے تو صرف 10000 روپے تک رقم خرچ ہوئی تھی اور دیگر رقم وہ آن لائن منافع اور بونس کے تھے۔
سینو ٹرانز میں سرمایہ کاری کرنے والے ایک اور صارف نے بتایا کہ میں نے پہلے 7800 روپے لگائے تھے، مگر بعد میں آکر 50000 روپے تک لگا دئے، سینو ٹرانز بند ہو گیا اور میرا رقم ڈوب گیا۔
ایک اور صارف کا کہنا ہے کہ انکے 6 لاکھ 50 ہزار روپے ڈوب گئے، اسی طرح ایک اور صارف نے اپنے 4 لاکھ اور اپنے دو دیگر دوستوں کے 3/3 لاکھ روپے ڈوبنے کی تصدیق کی ہے۔
زیادہ تر صارفین(سرمایہ کار) شرمندگی سے بچنے کے لئے کھل کر اپنے نقصان کا اعتراف نہیں کرتے ہیں تاہم اشاروں کنایوں میں لاکھوں روپے ڈوبنے کا بتاتے ہیں۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



