کوٸی ستتر سال پہلے کی بات ہے کہ نعرے لگاۓ جارہے تھے۔۔وعدے جتاۓ جارہے تھے اور محبتوں اور احترام کیخواب دیکھاۓ جارہے تھے۔ہربندے کے پاس ایک عزم تھا۔۔جب نعرہ بلند ہوتا۔۔” لے کے رہیں گے پاکستان ” اس کے جواب میں ایک جذبہ پاکیزہ سا جذبہ سینوں میں انکھڑاٸیاں لیتا۔۔ایک عزم مسکراہٹ بن کر لبوں پہ پھر جاتا۔۔یہ وعدوں،وفاٶں،محبتوں اور عقیدوں کی سرزمین کے حصول کی جدد و جہد کا زمانہ تھا۔اس سمے شاید ہم بھاٸ بھاٸی تھے اس لیے ہم نے عہد کیا تھا کہ ہماری آپس میں محبت رہے گی یہ رشتہ عقیدت کا رشتہ ہوگا۔نہ ہم ایک دوسرے کی سبکی کریں گے۔نہ ایک دوسرے کو سست کہیں گے۔نہ ایک دوسرے سے نفرت کریں گے۔ہمارے بڑے بڑوں نے خوابوں اور محبتوں کی اس سرزمین میں اس منظر کا انتظار کرتے کرتے اس دنیا سیچلے گئے اب ہم انتظار کر رہے ہیں ہمارے دن بلکہ ہمارے لمحے لمحے اس انتظار میں کٹ رہے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو اچھا کہیں۔۔ سوال اٹھتا ہے کہ اگر جدو جہد کے ان دنوں میں کسی کو پتہ ہوتا کہ ہم ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے ایک دوسرے سے نفرت کریں گے۔ایک دوسرے پہ اعتماد اٹھ جاۓ گا۔علاقایت ہماری محبتوں کے راستے میں رکاوٹ ہوگی۔فرقہ واریت جنم لے گی۔سیاست گالی بن جاۓ گی۔۔قومی مفاد کہیں عرق ہوجاۓ گی۔بھاٸی بھاٸی کا تصور ختم ہوجاۓ گا ہمارا کوٸی قومی Narative نہیں ہوگا۔مذہب آنا بن جاۓ گا مذہب پارٹیوں میں بٹ جاۓ گا۔۔عدل کاجنازہ نکالا جاۓ گا۔امیر کیہاتھوں غریب کچلا جاۓ گا۔محبت ایک افسانے کے سوا کچھ نہ ہوگی۔عقیدت شخصیت پرستی کی نذر ہو جاۓ گی۔تب کون یہ سارا جد و جہد کرتا یہ ساری قربانیاں دیتا۔غلامی ویسے کی ویسے رہتی۔بے چینی،بے اطمنانی اور نفرت اسی طرح رہتی۔بھاٸی بھاٸی کا تصور نہ تھا نہ رہتا۔ہم نے تو خواب دیکھا تھاکہ حکمران عوام کا غم کھاۓ گا۔جج انصاف کا بول بالا کرے گا۔محافظ مٹی پہ قربان ہوگا تو قوم کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاۓ گا۔دفتروں میں صداقت کی حکم رانی ہوگی۔بدعنوان قوم کا دشمن ہوگا اس کا سر کچلا جاۓ گا۔فرغونیت کہیں سے جنم نہیں لیگی۔ہر فرد دوسرے فرد کے نزدیک قابل احترام ہوگا۔محبت کے تاج محل تعمیرکیے جاٸیں گے ہر کہیں اللہ اکبر کی صدا ہوگی اسلام کا معاشی نظام،معاشرتی نظام،عدالتی نظام قاٸم کیا جاۓ گا۔یہ ملک اسلام کا قلعہ کہلاۓ گا۔اس کی مثالیں دی جاٸیں گی۔کیا یہ ایک فرد کا خواب تھا۔کیا اس خواب کی تعبیر کاانتظار صرف ایک غریب باشندے کو ہے۔کیا کسی ذمہ دار کرسی پر بیٹھے ہوۓ کو اس خواب کاادراک نہیں۔کیا کسی حکمران پر لازم نہیں کہ اس خواب کی تعبیر کی کوشش کرے۔کیا کسی بد عنوان کو احساس ہی نہیں کہ وہ ایک خوابوں کی سرزمین میں رہتا یے اس کی وجہ سے یہ پاکیزہ خواب ٹوٹ جاتے ہیں۔۔ہم انتظار کر رہے ہیں۔۔ہمیں اس پاکیزہ جدو جہد کے حقیقی نتیجے کا انتظار ہے۔ہمیں انتظار ہے کہ گاٶں کا کوٸی بوڑھا کسی جنرل کو سینے سے لگا کے اس کی پیشانی چومے اور وہ اس کے ہاتھ کو عقیدت سے اپنے دل پہ رکھے خاموش رہے لیکن کہیں دور سے آواز آۓ کہ ” میں آپ کا محافظ ہوں “اللہ ہمارا محافظ ہے۔۔ہم انتظار کر رہے ہیں اس دن کا کہ کوٸی تخت نشین حکمران کہدے کہ میرے معزز ہم وطنو! ہم سے پہلے حکمرانوں نے یہ اچھے اچھے کام کیے اب ہم ان کی پیروی میں یوں یوں کریں گے۔۔ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کوٸی مظلوم اس امید پہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاۓ کہ اس کو انصاف ملے گا۔۔ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ہمارا ملک بدعنوانی اور بد اطواری سے پاک ہو اور ہر دفتر میں ایک انسان بیٹھا ہوا ہو اس کی ذات میں فرغونیت کا شاٸبہ تک نہ ہو۔ہم انتظار کر رہے ہیں کہ انصاف،قانون، اعتماد اور محبت کی خوشبو سے یہ سر زمین معطر ہوجاۓ۔ہم انتظار کر رہے ہیں۔ہمارا انتظار بے سود نہیں ہوگا۔۔اللہ ہماری مدد فرماۓ گا۔۔اگر ہمارے اسلاف کی جد و جہد میں خلوص تھا تو ہم مایوس نہیں ہوں گے ایک نہ ایک دن یہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوں گی۔۔محبت کا سورج طلوع ہوگا اور ہم فخر سے کہہ دیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔۔ہم اپنے ابا و اجداد کے خوابوں کی تعبیر ہیں۔۔ہم محفوظ ہیں ہمارے جان و مال محفوظ ہیں۔۔ہماری خوشیاں،،محبتیں اورعقیدتیں محفوظ ہیں۔ہمارا رین بسیرا محفوظ ہے۔۔۔ان شااللہ
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



